اگر انقلاب ضروری ہے تو کیسا؟ (روزنامہ نوائے وقت - رحمت خان وردگ)
15  مارچ   2014 ء
 

موجودہ نظام تو سرمایہ داروں نے بنایا ہے اور یہ نظام انہی کا تحفظ کرتا ہے۔ میں  ڈاکٹر طاہر القادری کے اس موقف سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ موجودہ نظام میں رہ کر ملک  میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی اورموجودہ نظام میں رہ کر کوئی بھی ملک کیلئے کچھ نہیں  کرسکتا کیونکہ 1971ءمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو ولولے کے ساتھ الیکشن لڑے تھے لیکن  انہیں اس قدر اکثریت نہیں مل پائی تھی کہ وہ آئین میں تبدیلی کرسکتے اور بالآخر انہیں  جاگیرداروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے عوام سے وعدہ کیا  تھا کہ میں اقتدار میں آکر زرعی اصلاحات کروں گا اور زمین ہاریوں میں تقسیم کی جائیگی  لیکن مجبوراً جاگیرداروں سے ملکر حکومت چلانے کی وجہ سے وہ زرعی اصلاحات نہ کر پائے  اور اب تو پیپلزپارٹی مکمل طور پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہے۔ حالانکہ  پیپلزپارٹی‘ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے آئین میں درج ہے کہ ہم اقتدار  میں آکر ملک میں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات منعقد کرائیں گے اور اقتدار کو متوسط  طبقے کی حقیقی نمائندگی کو منتقل کیا جائیگا لیکن یہ سب پارٹیاں بھی سرمایہ داروں کے  چنگل میں ہیں اور مخصوص طبقہ ملک پر مسلسل قابض ہے۔

یہاں یہ سوال کہ کیا ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے؟ تومیرے خیال میں اگر اس بارے میں  شفاف عوامی سروے کرایا جائے تو 99%لوگ ملک میں پرامن عوامی انقلاب کے حامی ہونگے۔ ایسا  انقلاب جس سے عوام کو 2 وقت کی روٹی‘ سستی بجلی‘ معیاری تعلیم و صحت کی سہولیات‘ انصاف‘  امن و تحفظ اور برابری کے حقوق مل سکیں۔ کیا ایک عام آدمی انتخابات میں حصہ لیتا ہے؟  کیا وہ سرمایہ داروں اور سیاست پر قابض مافیا کی دولت کا اپنی شرافت و دیانت کے بل  بوتے پر مقابلہ کرسکتا ہے؟ کیا بغیر رشوت و سفارش کے کسی کو سرکاری نوکری ملتی ہے؟  یہاں تو پیسے دیکر سی این جی بھروانے کے لئے آدھا دن قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔ ساڑھے  تین ماہ سے وہ بھی دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ کب تک ہوتا رہے گا؟ یہاں  تو مزار قائد کی حرمت بھی چند روپے میں فروخت کردی گئی ہے۔

تحریک انصاف کواس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا وہ موجودہ نظام میں رہ کر ملک  میں تبدیلی لاسکتے ہیں؟ کیونکہ عوام کی بے چینی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ زبردست اضافہ  ہورہا ہے۔ تحریک استقلال نے 1979ءمیں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات کا مطالبہ کیا  تھا جس پر ضیاءالحق نے متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات کا وعدہ کیا تھا اور انتخابات  کے انعقاد سے چند روز قبل ایسا لگ رہا تھا کہ انتحابات میں یقینی طور پر ایئرمارشل  اصغر خان بھرپور کامیابی حاصل کریں گے لیکن حاجی کیمپ کراچی میں حاجیوں کی پہلی فلائٹ  کوالوداع کہنے کی تقریب میں ضیاءالحق نے یہ کہہ کر انتخابات ملتوی کردیئے کہ ”چیف الیکشن  کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابات میں چونکہ 51% ٹرن آﺅٹ نہ ہونے کی اطلاعات ہیں اس لئے  یہ انتخابات غیر آئینی ہوں گے“۔ ضیاءالحق کے اس اعلان نے ملک میں تبدیلی کے آغاز کو  روک دیا۔ اب تک ہونیوالے کونسے الیکشن میں 51% ٹرن آﺅٹ رہا ہے؟ اس دعوے سے تو پھر اب  تک ہونیوالے تمام انتخابات ہی غیر آئینی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کو چاہئے کہ عمران خان اور دیگر ہم خیال جماعتوں سے ملاقاتوں  کا سلسلہ شروع کریں اور ان تمام سیاسی قوتوں کوایک آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو کریں  جو ملک میں نظام کی تبدیلی کی حامی ہیں اور متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات چاہتی  ہیں۔ اس کے علاوہ جو سیاسی جماعتیں ملک کی ترقی کے لئے ناگزیر کالا باغ ڈیم سمیت تمام  بڑے آبی ذخائر کی فوری تعمیر کی حامی ہیں۔ ان سب سیاسی جماعتوں کو ایک آل پارٹیز کانفرنس  میں مدعو کیا جانا چاہئے تاکہ ملک میں تبدیلی کیلئے انقلاب کی حامی تمام جماعتیں ایک  پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ انقلاب کے بعد ترجیحی اقدامات اور باہمی اختیارات کی تقسیم کا  طریقہ کار بھی طے کیا جانا چاہئے۔ اگر عمران خان اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر ڈاکٹرطاہر  القادری کے ساتھ سڑکوں پر آجاتے ہیں تو انقلاب کے بعد دونوں پارٹیاں صدارت اور وزارت  عظمٰی آپس میں تقسیم کرسکتی ہیں اور صدر و وزیراعظم کے اختیارات کی مساوی تقسیم ہونی  چاہئے۔

یہاں کچھ لوگ یہ دلیل دیںگے کہ ڈاکٹر طاہر القادری دوہری شہریت رکھتے ہیں اس لئے  یہ انقلاب نہیں آنا چاہئے تو کیا دوہری شہریت جرم ہے؟ آخر یہ کون لوگ ہیں جو دوہری  شہریت کو جرم بنارہے ہیں؟ میرے خیال میں وہی سیاسی مافیا جو یہاں اقتدار پر قابض ہے  وہ نہیں چاہتا کہ ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے کوئی شخص آگے آسکے اور اگر ایسا کرنا چاہے  تو اسے کسی بھی ممکنہ طریقے سے متنازع بنایا جاسکے۔ پاکستان میں قیمتی زرمبادلہ بھجوانے  والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی کسی سند کی محتاج نہیں اور ان لوگوں کا  جسم دوسرے ملک میں لیکن دل و دماغ پاکستان میں رہتا ہے۔ دوہری شہریت کو جرم بنانے والے  اس کی مناسب دلیل نہیں دے سکتے۔

2013ءکے پرامن دھرنے کے بعد اب پرامن انقلاب کی بات خوش آئند ہے اور اگر ایسا ہو  تو یہ لازمی ہے کہ ایک گملہ بھی نہ ٹوٹے۔ ڈاکٹر طاہر القادری تمام ہم خیال جماعتوں  کومکمل اعتماد میں لیکر نکلیں تو میرے خیال میں ایسا نہیں ہوسکتا ہے وہ کسی بھی صورت  میں پرامن انقلاب نہ لاسکیں لیکن انقلاب کی کامیابی تبھی ہوگی جب اقتدار سنبھالتے ہی  ملک بھر میں نئی مردم شماری‘ حلقہ بندیاں کرانے کے بعد ووٹر لسٹوں کی آرمی کے ذریعے  تصدیق کرائی جائے اور ملک بھر میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کا اعلان کیا  جائے اور فوری طور پر بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جائیں کیونکہ جمہوریت کے چیمپئن  تو گزشتہ 6 سال سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے ڈر رہے ہیں۔ انقلاب کے فوری بعد سندھ  میں 4چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور واٹر ویژن 2016ءپر عملدرآمد کا اعلان کیا جائے جو جنرل  مشرف کی وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا اور واٹر ویژن 2016ءمیں 5 بڑے  آبی ذخائر بشمول کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر کا آغاز کیا جائے ۔ جب تک بڑے آبی ذخائر  تعمیر نہیں ہونگے پاکستان نہ توخودمختار ہوسکتا ہے اور نہ ہی توانائی بحران ختم ہوسکتا  ہے۔اگر کوئی یہ دعوٰی کرتا ہے کہ بڑے آبی ذخائر کی تعمیرکے بغیرمہنگائی میں کمی آسکتی  ہے تووہ احمقوں کی جنت میںرہتا ہے۔

انقلاب کے بعد غیر ملکی امداد نہ لینے کا اعلان کرکے چین‘ ایران اور پڑوسی ممالک  سے تجارت کواولین ترجیح دی جائے اور گوادر پورٹ کو جلد از جلد فعال کرکے خطے کی تجارت  میں پاکستان اہم کردار کا آغاز کرے۔ امریکی جنگ سے علیحدگی کا اعلان کرکے پاکستان کی  حدود میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنیوالوں سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا جائے۔ کرپشن‘  لوٹ ماراوراختیارات کا ناجائز استعمال کرنیوالوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور لٹیروں  کوملک سے فرار نہیں ہونے دیا جانا چاہئے۔ قومی اداروں کی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات  ہونے چاہئیں اور چور‘ قاتل‘ لٹیروں کو چوراہوں پر اسلامی سزائیں دی جائیں تو میرے خیال  میں چند لوگوں کو چوراہوں پر سزائیں دینے کے بعد 99% جرائم ختم ہوجائیں گے۔

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
اعدام 375 امام جماعت سني توسط "داعش"


به گزارش شيعه آنلاين،‌ جديد ترين گزارش منتشر شده در مورد فعاليت هاي تروريستي انجام شده توسط گروهک تروريستي "دولت اسلامي عراق و شام" موسوم به "داعش" حاکي از آن است که اين گروهک از زمان ورود خود به عراق تاکنون 375 امام جماعت و سخنران سني مذهب را اعدام کرده و به قتل رسانده است.
نکته جالب اينجاست که اين گزارش توسط فعالان حقوق بشر در استان سني نشين "الأنبار" در غرب عراق تهيه و تنظيم شده و آنان فاش کرده اند که از مجموع اين 375 نفر اعدام شده، دست کم 100 نفر از استان الأنبار بوده اند.
بر اساس اين گزارش، سرشناس ترين چهره هاي اعدام شده توسط "داعش"، "خالد سليمان" رئيس سابق ديوان وقف سني الأنبار، "عمر العاني" مفتي الأنبار و "شيخ حمزه العيساوي" رئيس «رابطه علماي فلوجه» بوده اند.
در پايان اين گزارش مفصل آمده: جنايت هاي نيروهاي "داعش" به علما، ائمه جماعت و سخنرانان محدود نمي شود بلکه آنان تاکنون هزاران شهروند بي گناه از جمله زن و مرد، کوچک و بزرگ، پير و جوان را به قتل رسانده اند.

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
جدید الاسلام هایی به عمق تاریخ تشیع
اسلام جدید رفسنجانی علیه مراجع شیعه

ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
http://farsi.khamenei.ir/page?id=7102

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
s


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
1
s
ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
d
ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

اسلامی انقلاب نجات کی کشتی ہے ۔رہبر معظم انقلاب

قیامت پر جتنا یقین ہوگا اتنے ہی ہمارے اعمال نیک و صالح ہوجائیں گے۔

 

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 



ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
غدیری اسلام
ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
اصلاحِ امتِ مصطفیٰ ؐ
ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
پیام زیبای آیت الله سیستانی خطاب به ظریف۱۰:۵۱ - ۱۳۹۲/۰۷/۰۶  

آیت الله سیستانی خطاب به وزیر خارجه کشورمان(ظریف) گفته است: " اقتدار امروز شما مرهون رهبری هوشمند ایران اسلامی است. مشکلات کنونی عراق هم ناشی از نداشتن رهبری چون حضرت آیت الله خامنه ای است. قدر رهبری عزیز خود را بدانید. من هر روز برای ایشان دعا می کنم."

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
v\:* {behavior:url(#default#VML);} o\:* {behavior:url(#default#VML);} w\:* {behavior:url(#default#VML);} .shape {behavior:url(#default#VML);} Normal 0 false false false false EN-US X-NONE AR-SA /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-priority:99; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0cm 5.4pt 0cm 5.4pt; mso-para-margin-top:0cm; mso-para-margin-right:0cm; mso-para-margin-bottom:10.0pt; mso-para-margin-left:0cm; line-height:115%; mso-pagination:widow-orphan; font-size:11.0pt; font-family:"Calibri","sans-serif"; mso-ascii-font-family:Calibri; mso-ascii-theme-font:minor-latin; mso-hansi-font-family:Calibri; mso-hansi-theme-font:minor-latin; mso-bidi-font-family:Arial; mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

سید حسن نصراللہ حفظہ اللہ نے فرمایا:

Text Box: رہبر انقلاب نے فرمایا :
جو شیعیت امریکہ اور لندن سے نشر  و حمایت ہورہی ہے وہ شیعہ کے فائدہ میں نہیں ہے ۔
اے میرے بھائیو بہنو! پوری دنیا میں ہمارے پاس ایک ولی امر ہے اگرچہ بہت سے مسلمان اس کی پیروی نہیں کرنا چاہتے تو یہ انہی کی مشکل ہے جیسے اکثریت لوگوں کی نبی و امام معصوم کی پیروی بھی نہیں کرتے تھے ۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ امام امام نہ رہے اور نبی نبی نہ رہے ۔ہمارے ہاں بھی ولی امر ہے جو نائب المہدی ہے ۔ ان  کی اطاعت ہم سب پر واجب ہے ۔ ہم ان کی طہارت ،حسن اخلاق  اور تقوی کے ساتھ ساتھ  شجاعت ،اقتدار ،حکمت ، تدبیر اور بصیرت کابھی یقین رکھتے ہیں ۔               

 

 

 

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

 

اے امن کے بھکاریو! کب تک طاغوتی  و شیطانی  و غیر صالح نظام سے بھیک مانگتے رہوگے؟ بیدار    قوموں کی طرح بیداری و شعور کا سفر شروع کرو  کیونکہ دریوزگی اسلام کی نظر میں لعنت ہے۔

امام خمینی اور اما م خامنہ ای کی نظر میں پاکستانی قوم 

مومن ، مسلمان ، رشید، شرافت مند، دیندار، انقلابی اصولوں کے ساتھ وفادار،غیرت مند،دینی حوالے سے متعصب اور پابند  نیز  اسلامی مقدسات کی توہین کے خلاف سب سے پہلے میدان میں حاٖضر ہونے والی قوم۔

 

 

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا :  

امام اور امت کے درمیان تعلق ایسے ہے جیسے روح و بدن کا ہے  ۔

 

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

In the name of allah the beneficent the merciful
Once  upon a time there was a man his name neyaz kazmi.He have one brother.He was a brilliant  docter and her brother is a pillot one day when he was flying areoplane.His areoplane brust and he fell down and he died.neyaz become so sad and now he was so alone.he married with a woman.becoz he was so alone he decided to make a big familyand after 15 years he have 6 sons and 4 duaghter.his sons name is Javed,Zaid,Taher,Raza,Nasir and Haider.His duaghters name is Imteyaz,Riyaz and Shawar.his one duaghter when she burn after 2 hour she died. Javid have 3 sons and 1 duaghter named Arfa,Tahseen,wakas and Ali.Zaid have 3 sons and 2 daughters named Hasnein,mohsen,sadaf, zoniyaand tahzeeb.Taher have 1 daughter and  2 sons named neda,toseef,hassan.Raza have 3 daughters and one son named saniya,eqra,erteza and qeran.Nasir have also 3 daughters and 1 son named muzzama,mohadesa ,moqadesa and mahdi.Haider have only 3 daughters.Imteyaz have 1 duaghters and 2 sons named mohammad,Ali,somayyah.riyaz have 2 duaghters and 2 sons named Fatimeh,zahra,Bahjat and hassan and shawar have 3 duaghter named wajeeha,monazza,marziya and mahdi

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
صدور انقلاب یعنی ایجاد تنش!!
عده ای امام را راس افراطیون می‌دانند
چهارشنبه ۶ شهريور ۱۳۹۲ ساعت ۱۴:۵۲
 
ما برای احقاق حقوق فقرا در همه ی جوامع بشری تا آخرین قطره خون می ایستیم و از حقشان دفاع می‌ کنیم/ما مامور به وظیفه هستیم.شکست اصلی ترک وظیفه و تسلیم شدن است. اگر به تکالیف خود عمل کنیم دیگر نباید باکی از شکست داشته باشیم....
رحیم پور ازغدی در افتتاحیه چهاردهمین نشست اتحادیه انجمن اسلامی مستقل به تببین راه و روش امام و مواجهه طیف های مختلف با خط امام پرداخت.

به گزارش پایگاه خبری انصارحزب الله؛ وی در خصوص رفتار لیبرال مذهبی ها با انقلاب گفت:«این افراد لیبرال مذهبی معتقد بودند که باید دولت را در دست گرفت، با این جامعه ای که ریشه مذهبی دارد از پایین نمی شود درست کرد، باید دولت را در دست گرفت و بی سر و صدا باید با پنبه سر برید، با تدریج و بدون تهاجم، بدون شفاف سازی و رک گویی باید جلو رفت و هویت ما مانع اصلی است.»

وی ایرادهایی را که امروز به خط امامی ها به خاطر رفتارشان می گیرند دارای سبقه تاریخی اعلام کرد و گفت:« سخنانی که الان مطرح است حرف های تازه ای نیست، بهشتی و باهنر هم درگیر آن بوده اند، آخرین نمونه ها آن را من با خودم آورده ام و برخی از آنها در عرصه شفاهی و سیاسی امروز دارند بر می گردند به دهه اول و همان حرف هایی را می زنند که آن زمان گفته می شد حتی برخی از حرفهایشان عیناً همان حرفهای آن زمان است.منتها الان با دهه اول یک تفاوت هایی کرده من جمله اینکه آن هایی که آن زمان با این جریان "لیبرال مذهبی" مقابله می کردند امروز در همان جریان قرار گرفته اند و همان حرفها را می زنند که آن موقع گفته می شد. »

ازغدی نحوه مواجهه لیبرال ها با جبهه غرب را اینگونه تببین کرد:«بدون حذف شدن در اردوگاه غرب نمی شود پیشرفت کرد، فرهنگ ما منشا خرابی است، به ویژه فرهنگ سیاسی که باید اصلاح شود، یک پروژه ای به نام تغییر تدریجی و غیر ناگهانی که جونان و انقلابیون را حساس نکنند و آرام نگه دارد و بگوید اتفاقی نمی خواهد بیفتد و ما با شما یکی هستیم و کاری نداریم. باید یک نوع، سکولاریزاسیون مهندسی شده و غیر ساختارشکن باشد که بالای آب آرام ولی زیر سطح آب، جریان ها به حرکت افتاده اند، تحولات زیر پوستی و استحالیه ای هستند، با این تاکتیک باید عمل کرد. که این همان عقلانیت لیبرال غربی است. اخلاق و انسانیت به درد توسعه نمی خورد، مباحثی مانند تهذیب نفس و عدالت مطرح نیست. »

استاد دانشگاه و حوزه در خصوص توسعه گرایی گفت:«کلید توسعه در دست سرمایه داری داخلی و خارجی است. حتی روشن فکران که از جامعه مدنی سخن می گویند، باید جاده صاف کن باشند. سیاست خارجی را باید سکولاریزه و آرمان زدایی کرد. سیاسیت خارجی باید صرفا توسعه محور و اقتصاد محور باشد. و به هیچ چیز دیگر نیندیشد باید غیر انقلابی سخن گفت در چارچوب اردوگاه سرمایه داری توسعه یافته باید عمل کرد وچون یکی از محکم ترین محکمات سرمایه داری غرب و جهان به اصطلاح، توسعه یافته اسرائیل و صهیونیسم است بدون پذیرش، وموجودیت اسراییل و رسمیت نشناختن آن نمی شود به توسعه رسید. و اساسا باید آماده باشیم تا پایه های مشرعیت، نظام و سیستم را به تدریج، تغییر بدهیم منتهی بودن سر و صدا کرد و فحش و اهانت، با اون سبک اواخر دهه هفتادو اوایل دهه هشتاد نباید باشد بلکه یک سبک جدید داشته باشد. که باید آرام، تدریجی و مودبانه باشد، با کم ترین هزینه و در آن توهین به مقدسات نباشد.»

رحیم پور ازغدی در ادامه از تعابیر حضرت امام رحمت الله در آخرین سال عمرشان در مورد انقلاب و سیاست خارجه سخن گفتند. سخنانی از این قبیل که در حوزه اقتصادو توسعه امام تصریح می کند که، ان چیزی که روحانیون هرگز حق ندارند از آن عدول کنند، و با تحقیرات دیگران از میدان به بیرون بروند، حمایت از محرومین و پابرهنگان است. هرکس از این عدول کند از عدالت اجتماعی اسلام عدول کرده است. ما تحت هر شرایطی باید، خود را عهده دار این مسئولیت بزرگ بدانیم و در تحقق آن اگر کوتاهی کنیم به اسلام و مسلیمین، خیانت کرده ایم.

وی در خصوص خط مستضعفین گفت:«تعبیر دیگر که ما باید تمام تلاشمان را بکنیم که به صورت که ممکن است خط اصولی دفاع از مستضعفین را حفظ کنیم، مسئولان نظام ایران انقلابی باید بدانند، عده ای ازخدا بی خبر برای از بین بردن انقلاب هرکس را که بخواهد، برای فقرا و مستمندان فکر کند و راه، اسلام و انقلاب را بپیماید، فورا او را کمونیسم و التقاطی می خوانند. از این تهمت ها نباید ترسید. باید خدا را در نظر داشت و تمام، تلاش خود را در جهت، رضای خدا وکمک به فقرا به کار گرفت و از هیچ، تهمتی نترسید.»

تعبیر دیگر، این که کسانی می گفتند شما همیشه صحبت از جهاد و شهادت می کنید و تعابیر نظامی گری استفاده می کنید که این مانع پیشرفت است.امام (ره) فرمودند من به عنوان فرمانده کل قوا به مسئولین و تصمیم گیران، دستور می دهم در هیچ شرایطی، از بالا بردن آموزش های عقیدتی و نظامی، در سطح جامعه یعنی مجاهد پروری، و توسعه تخصص های لازم و حرکت به سمت خودکفایی نظامی و جهادی غفلت نکنند، این کشور را برای دفاع از ارزش های اسلام ناب و محرومین و مستضعفین جهان، نه فقط ایران، در آمادگی کامل نگه دارد. مبادا، توجه به برنامه های دیگر موجب غفلت از این امر حیاتی شود. رحیم پور ازغدی خاطر نشان کرد این صحبت های اخر عمر بابرکت امام (ره) می باشد که بر اساس آن روحیه و آمادگی جهادی مهم ترین مسئله است که می فرمایند حق ندارید این روحیه را از بین ببرید به محض اینکه دشمن احساس کند، این روحیه رفت آن زمان به شما حمله می کنند، و تا زمانی که این روحیه است به شما کاری ندارند.

نکته دیگر که ازغدی مطرح کرد این است که امکان دارد کسی بگوید این، ادبیات مبارز طلبی، در جهان و این خط و نشان کشیدن برای استکبار و استعمار و اینکه ما به آزادی و مستضعفین می اندیشیم، این ها چیزی جز دردسر و ایجاد تنش برای کشور فایده دیگری ندارد. باید با مستکبرین، تنش زدایی کرد.

وی پاسخ امام (ره) را اینگونه بیان کرد:«امام در جواب این گونه حرف ها می فرمایند ما باید خودمان را آماده کنیم تا در مقابل جبهه متحد، شرق و غرب، جبهه قدرتمند اسلامی، انسانی یعنی حتی غیر مسلمانانی که مستضعف هستند با همان نام و نشان اسلام و انقلاب ما تشکیل شود و سروری و اقایی محرومین و پابرهنگان جهان جشن گرفته شود.ما می خواهیم محرومین و پابرهنگان، با انگیزه اسلامی و انسانی زیر پرچم انقلاب ما و اسلام پیروزی خودشان را جشن بگیرند.»

کسانی امکان دارد بیان کنند دفاع از حزب الله و اسلام در سطح جهان این ها جز اصول ما نیست، این ها تاکنیکی برای دورانی بوده است که این دوران گذشته است. اما امام (ره) جواب می دهند، دفاع از اسلام و حزب الله کل جهان اسلام اصل خدشه ناپذیر سیاست جمهوری اسلامی است. هیچ چیز نمی تواند این را از بین ببرد.

وی در خصوص عقب نشینی ها در عرصه سیاست خارجی گفت:«بعضی ها می گویند، سیاست خارجی انقلابی و ایدئولژیک مانع، سرمایه گذاری خارجی و غربی و مانع پیشرفت می شود. و ما را از قطار توسعه سرمایه داری جدا میکند. این سیاست خارجی ما تا چه زمانی می خواهد انقلابی و ضد استعماری باشد، کمی باید صحبت از هضم شدن در اردوگاه غرب، صحبت از دوست شدن با غرب شویم. و این حرف های مربوط به استقلال را باید کنار گذاشت.امام پاسخ می دهند ما باید در ارتباط با مردم جهان، و رسیدگی به مشکلات همه مسلمانان، و حمایت از مبارزان و گرسنگان و محرومان با تمام وجود تلاش کنیم و این را باید از اصول سیاست خارجی خود بدانیم.»



وی هدف سیاست امام را تنها توسعه نمی داند و در ادامه گفت:«سیاست خارجی ما هدفش تنها توسعه نیست، که بگوییم باید همه چیز را فدای توسعه کرد. که با غرب سازش کنیم و بر سر فلسطین معامله کنیم. و به غرب بگوییم ما دیگر شعاری نداریم ولی شما جلوی ما چیزی بیندازید.ولی امام در پاسخ این گونه اظهارات می گوید خیر سیاست خارجی ما این نیست، این ها جملات صریحی هستند که باید پخش کنید در گفتمان دانشجویی و نگذارید به حاشیه برود.

امام (ره) صریح می گوید ما باید در ارتباط با مردم، جهان نه فقط دولت های استعماری، رسیدگی مشکلات مسلمانان، حمایت از مبارزان، گرسنگان و محرومان با تمام وجود تلاش کنیم، این هدف اصلی ما است که این را باید از اصول سیاست خارجی خود بدانیم.سیاست خارجی بدون مبارزه از دفاع حقوق مستضعفان و محرومان جهان را امام قبول ندارد.ممکن است کسانی بگویند که ما نسبت به محرومیت در سطح مسلمانان جهان چه مسئولیتی داریم؟ باید مشکل خودمان را حل بکنیم و به بقیه کاری نداشته باشیم.امام چند بار بیان می کنند این هایی که پرچم سازش در برابر آمریکا و صهیونیسم را بالا می بردند، مطمئن باشند که آنها نمی گذارند شما با قطع از نظر از شعارهایتان، حتی زندگی خودتان را سر و سامان دهید.

امام می فرمایند، برادران و خواهران دلیر و مبارز، به مرحله حساسی از دوران انقلاب اسلامی رسیده ایم، دورانی که باید همه ما دست در دست بدهیم که ریشه استکبار، و فقر برکنیم. و در آخر بیان می کنند پشت ابر قدرت ها را بلرزانید. باید برای رفع فقر و محرومیت بسیج شوید، به نجات مستضعفین کمر همت ببندید.»

ازغدی در پاسخ به کسانی که صدور انقلاب را به سخره می گرفتند گفت:«در برابر کسانی که آن زمان، به امام می گفتند، صدور انقلاب، چیست و مستضفعین جهان به ما چه مربوط است؟ اصلا نباید بگوییم که انقلاب را صادر میکنیم و اگر انقلاب صادر کنیم یعنی دشمن سازی کرده ایم، یعنی به حکومت های فاسد می گوییم، ما سراغ شما هم میاییم، ما ملت های شما را علیه شما میشورانیم. این ها ایجاد تنش است. یک عده به امام می گفتند که چرا تنش درست میکنید؟ یا می گفتند حداقل یا با شرق و یا غرب باشیم؟ این چه معنی دارد که میگوید نه شرقی نه غربی، و با همه درگیر می شوید در زمان واحد، آن هم زمان جنگ و تحریم و اول انقلاب و هزاران مشکل دیگر ولی امام در پاسخ می فرمایند، اولا خطر قدرت های کمونیستی از آمریکا کمتر نیست، ما با چپ هم نمی سازیم، خطر امریکا به حدی است که اگر کوچکترین، غفلتی کنیم نابود می شویم.»

ازغدی در خصوص تبیین مواجهه امام و آمریکا گفت:«بعضی ها متعقد بودند، و الان هم هستند که می گویند آمریکا دشمن ما نیست این ما هستیم که دشمن آمریکا هستیم، و یک سوتفاهم ایجاد شده است، یک عده احمق، افراطی نادان، این ها، این مشکلات را ایجاد کرده اند، در راس افراطیونی که اینها می گویند در راس آنها شخص حضرت امام هستند ولی جرات نمی کنند اسم امام را بگویند البته در دهه گذشته، اسم امام را هم بردند، توهین هم کردند، هم به امام توهین کردند و هم به شهدا، به همه توهین کردند.ولی امام پاسخ این افراد را این گونه می دهند: اگر کوچکترین، غفلتی کنید در برابر آمریکا نابود می شوید، یک لحظه هم چشمان خود را نبندید، یک لحظه فقط اگر به آمریکا اعتماد کنید، آنها شما را می زنند.»

امام می گویند هر دو ابرقدرت کمر به نابودی ملل مستضعف جهان بسته اند، ما باید از مستضعفین جهان هم پشتیبانی کنیم، این است اصول امام خمینی (ره) که از آمریکای لاتین تا آفریقا تا شرق آسیا و حتی داخل اروپا باید از مستضعفین آنها دفاع کنیم.

یکی بپرسد مگر شما از سمت مستضعفین جهان وکیل هستید، امام می گویند بله وکیلم چون کسی جز ما جرات ندارند این گونه جلوی این ها بیاستد، من اگر نگویم این جمله های امام هستند، می گویند این صحبت های یک فرد افراطی است.الان هم امکان دارد بهانه بیاورند که این صحبت ها برای آن زمان بوده است، ولی خیر این ها برای زمان آخر عمر امام (ره) است و در وصیت نامه هم این ها بیان شده است.

جملات صریح امام در این رابطه این است: ما باید از مستضعفین جهان پشتیبانی کنیم، ما باید در صدور انقلابمان به جهان کوشش کنیم، صدور انقلاب یعنی ایجاد تنش!! ایجاد تنش با مستکبرین و مستبدین عالم.تفکر این که ما انقلاب خودمان را صادر نمی کنیم را کنار بگذارید، زیرا اسلام بین کشورهای مسلمان فرقی قائل نیست، پشتیبان تمام مستضعفین جهان است.آگاه باشید، که جهان امروز، دنیای مستضعفین است، دیر یا زود پیروزی از آن مستضعفین است و آنها وارثین، زمین و حکومت کنندگان خداوند هستند.»

این جملات را بگذارید در کنار جملات افرادی که می گویند، جهان متعلق به آمریکا و متحدین و موتلفین و نوکرهایش است. این ها بر جهان حاکم هستند و باید این واقعیت را بپذیرید و واقع بین باشید. این شعار و خیال بافی و رویا و ایدئالیزیم و افراطی گری هستند.ولی امام عکس این حرف را می زند و می گوید این جهان جدید، جهان مستضعفین است، دوره مستکبرین، به سر آمده است و ما باید در صحنه بیاستیم.

وی مصر را به عنوان مصداق مطرح کرد و گفت:«همان موقع به امام می گفتند، انقلاب اسلامی نباید به خارج ایران کاری داشته باشد، مبارزین سایر کشور ها به ما مربوط نیست. سیاست خارجی ما ، سیاست داخلی ما وضع موجو در جهان را هرچه هست می پذیرد، و ما کاری به کسی نداریم و ما با همه در آشتی هستیم، حتی با آمریکا و صهیونیسم در آشتی هستیم، به ملت ها ستم می شود، بشود به ما مربوطی نیست. 



ملت ها دارند قربانی می شوند، بشوند، سرزمین های اسلامی اشغال می شود، بشود ما وظیفه ای نداریم، ما به فکر نون و قرمه سبزی خودمان باید باشیم، گوجه فرنگی و پیاز به ما مربوط است، که باید به شما بگویم ملت هایی که تابع این ها بوده اند، این مشکل گوجه فرنگی و پیازشان هم حل نشد، یک نمونه این کشورها مصر است که سی سال نوکر صد در صد آمریکا بود، الان، حدود ۴۵ درصد مردمش زیر خط فقر هستند.این ها که دیگر صددر صد دست آمریکا بود و صلح اسرائیل را هم که امضا کرده اند. حتی در مصر یک شبه انتخابات شد که آنهم کودتا شد، ملت مصر پیش چشم ماست، آمریکا چه گلی بر سر این کشور که صد در صد تسلیمشان بود زد؟ حتی مشکل گوجه و پیازشان هم حل نشد.»

جمع لیبرال مذهبی می گفتند، ما با نهضت های دیگر کاری نداریم اما جواب امام (ره) به این افراد این است که: من بار دیگر پشتیبانی خودم را از تمام نهضت ها و جبهه ها و همه گروه هایی که برای رهایی از چنگال ابرقدرت های چپ و راست می جنگند اعلام میکنم.من پشتیبانی خودم را از فلسطین رشید و لبنان عزیز اعلام میکنم، من بار دیگر اشغال افغانستان را توسط چپاول گران شرق متجاوز شدیدا محکوم میکنم. و امیدوارم هرچه سریعتر مردم مسلمان و اصیل افغانستان به پیروزی و استقلال حقیقی برسند، و از این قبیل عبارات در سخنان امام زیاد است که این سخنان مربوط به آخر عمر شریف امام (ره) است.

چکیده و جمع بندی، مبارزاتش را با مبارزان در میان میگذارد، می گوید که تمام قوای د کشور، همه با قلبی مطمئن و دلی سرشار از ایمان، یک دل و یک جهت و برادرانه با دژخیمان از خدا بی خبر در نبرد هستند و تا انهدام اساس کفر پاربجا از حقوق، انسان ها و مظلومان و همه مستضفعان جهان دفاع می کنیم.

این استاد حوزه و دانشگاه در ادامه این چنین بیان کرد:«در زمان جنگ شعاری وجود داشت که می گفتند:" جنگ، جنگ، تا پیروزی" بعد عده ای پیدا شدند که گفتند: "جنگ، جنگ، کو پیروزی؟" امام نیز جواب زیبایی به آنها داده است و می‌ فرماید: جنگ، جنگ، تا رفع هرچه فتنه در جهان! ما برای احقاق حقوق فقرا در همه ی جوامع بشری تا آخرین قطره خون می ایستیم و از حقشان دفاع می‌ کنیم. ایشان در همان پیامی که برای قطعنامه دادند، حکم اعدام سلمان رشدی را نیز اعلام کردند.

مسئولان آمدند و به امام گفتند که شاید توبه کرد اما ایشان فرمود: سلمان رشدی اگر در آب زمزم غسل کند و سلمان زمان هم بشود باز هم حکمش اعدام است، جواب اهانت این است آنان بر این باور بودند که حرفها و گفتمان انقلاب خلاف گفتمان حاکم بر جهان است.امام نیز جواب بسیار صریح و شفافی می ‌دهد: ما باک نداریم که در جهان به ما ایراد کنند بلکه ما موظیم روی عدل را نشان دهیم. دموکراسی غرب و شرق هر دو فاسد هستند اما دموکراسی اسلامی نظری است که باید پیاده شود و عدل دارد. امام معتقد بودند: نه آنها که طرفدار ابر قدرتها هستند و نه غرب و شرق هیچ کدام دموکراسی ندارند و اصلا دموکراسی ندارند.این منتقدین بر این باور بودند که ما باید به یک ثبات برسیم یعنی ما دارای ثبات نیستیم..»

رحیم پور جواب امام را به این بیانات اینگونه مطرح کردند:«می‌ گوییم حکومت اسلام را می خواهیم، می ‌گویند می‌خواهید هرج و مرج کنید. ما یک حاکم در ایران و کشورهای مسلمان می خواهیم تا حکومت کند و معتقدیم اگر احکام اسلام در جهان پیاده شود ، جهان توسعه می ‌یابد. امام همچنین هدف انقلاب را اینگونه بیان داشتند: ما آمده ایم تا اوضاع جهان را به هم بریزیم و در برابر مستکبرین سکوت نکنیم.لییبرالیست های مذهبی نیز بر این باورند که اسلام همین فقه فردی است و احکام نماز و روزه و ... که به خود فرد مربوط می شود.»



پاسخ امام را به اینگونه افراد می توان اینگونه بیان کرد:«در آیات و روایات تنها بخش و جزء کمی از آیات هستند که به مسائل عبادی بپردازد و بخش اعظم آیات و روایات مربوط به اجتماعیات و سیاست و اخلاق است. در واقع بخش کوچک اسلام در توضیح المسائل هاست و زمانی این پایان می یابد که اسلام ناب محمدی در جهان افراشته شود.»

ازغدی در این نشست درباره هزینه هایی که باید انقلاب بدهد گفت:« از امام پرسیدند: میزان هزینه ای که باید داد چیست؟ آیا تا اینجا کافی نبود؟امام بیان کردند: تا جایی که من کشته شوم. نهضت اسلام ادامه دارد و ملت به مبارزه ادامه می‌دهد تا زمانی که آمریکا و اسرائیل و سایر ابر قدرتها ظلم نکنند.ایشان همچنین وظیفه ی روشنفکران را اینگونه بیان می کنند: بر روشنفکران لازم است فسادشان را رسوا کنند.

همچنین می‌فرماید: هیچ شخصی اصالت ندارد واین اصول هستند که اصالت دارند و امیدوارم بنده هم از اصول منحرف نشوم و با سیاست های غرب و شرق مبارزه کنم.نهضت مقدس را ادامه دهید که در این راه شما به حق هستید و خدا خواسته است که مستضعفان اداره ی امور جهان را خود بر عهده گیرند.»

یکی دیگر از صحبتهایی که مطرح می شد این بود که از انقلابیون می پرسیدند: شما حساب کرده اید که با چه کسانی درگیر شده اید؟ آیا از شکست نمی ترسید؟امام می فرمودند : ما شکست نمی خوریم مگر از خود، در صورت پذیرش فرض شکست هم باید گفت تفاوت موحد و کافر در همین است که همه چیز برای موحد پیروزی مادی نیست. ما مامور به وظیفه هستیم.شکست اصلی ترک وظیفه و تسلیم شدن است. اگر به تکالیف خود عمل کنیم دیگر نباید باکی از شکست داشته باشیم.اگر به تکالیف عمل نکنیم ما شکست خورده هستیم حتی اگر در ظاهر پیروز شده باشیم.از امام پرسیده شد هدف شما چیست؟ از چه چیزی انگیزه می گیرید که همه وقت حتی در شکست ها آرام هستید؟

جواب امام را می توان در پیام ایشان به رزمندگان در زمان شکست انها بیان کرد که فرمودند: هیچ نگران نباشید و ذره ای تردید نکنید.هدف ما پیروزی نظامی نبود ما برای پیروزی همه محاسبات را انجام داده بودیم و ما مامور بودیم و تلاش خودمان را تا جایی که امکان داشت کردیم.

ما مامور به تلاش بودیم نه مامور به پیروزی، اگر ما مامو به پیروزی بودیم که باید بعضی از پیامبران را گنه دار بدانیم چون انها هم گاهی با وجود همه تلاش های خودشان گاهی شکست می خوردند.

و همچنین امام زمان پیروزی نیز به رزمندگان گوشزد میکردند که خرم شهر را خدا آزاد کرد، یعنی خداوند خواست که پیروزی را برای شما ایجاد کرد. زمانی که شما تیر انداختید، خداوند تیر را انداخته است.شکست را برای خداوند بپذیرید و پیروزی را هم برای خداوند بخواهید. هر دو، یعنی هم شهادت و هم پیروزی پیش خداوند مساوی و یکسان است.همین پیام ها و اندیشه های امام (ره) باعث شد که بچه های ما در انقلاب و دفاع مقدس پیروز شوند و اکنون یک کشور تعیین کننده باشند.

امام هدف فعالیت ها را عمل کردن به تکلیف می دانستند و بیان می کردند، که ما باید اسلام را حفظ کنیم.

این همان منطقی است که از ابتدا با رژیم باطل با این منطق پیش رفتیم. مشکل ما از بین رفتن مظاهر اسلام بود. ما باید با همه تلاش خود مقاومت کنیم، که اگر در این راه کشته شویم اشکالی ندارد و اگر پیروز شویم به هدف خود رسیده ایم.



ازغدی در خصوص وسواسانی که باعث تزلزل در راه و قدم می شدند و نحوه مواجهه امام با این افراد می گوید:«امام (ره) در طول مبارزه به رزمندگان این گونه پیام می دادند: اگر موفق شویم این موفقیتی بوده است که خداوند به ما داده است که ما پیروز شده ایم، و زمانی که فردی به وظیفه الهی خود عمل کند پیروز است حتی اگر در دنیای حیوانی شکست بخورد. که این تلاش ما ممکن است مشکلاتی را برای ما به همراه داشته باشد.همه جوانان ما برای خداوند تلاش می کردند، پس هیچ غم و مشکلی زمانی که برای خداوند کار میکنیم وجود ندارد.ناامیدی این سوال که چه می شود وسوسه شیطان است. باید محکم باشیم و هیچ هراسی به دل راه ندهیم، شما در هر صورت پیروز هستید. این ها همه منطق امام (ره) است.امام (ره) فقط همان مرقد نیست بلکه امام یک روح و یک آتشفشان است که تا زمانی که مستکبرین را به زمین نزد نمی میرد. امام (ره) راس امور است.»

بخش دوم صحبت های رحیم پور ازغدی در مورد برخی بحث های مطرح شده در برابر گفتمان امام (ره) بود.وی در این باره گفت:«مورد یکی از این استدلال های نادرست بیان کردند، بعضی ها مطرح می کنند که کشورهای هند و کره جنوبی و برخی دیگر در مورد پیشرفت به اجماع رسیده اند که باید با الگو نظام سرمایه داری پیش رفت و باید تسلیم شد ولی ما در ایران به اجماع نرسیده ایم و در نتیجه به پیشرفتی هم نرسیده ایم.»

رحیم پور ازغدی در جواب این استدلال نادرست گفت:«در کشور هند نباید فقط به یک شهر یا یک منطقه نگاه کرد در بعضی مناطق هند، مردم مانند گله حیوانات کنار خیابان زندگی می کنند.هند کشور غارت زده ایی است که در آن توسعه و رفاهی وجود ندارد. در هند و پاکستان و ترکیه و برخی کشورهای دیگر یک شبه دموکراسی وجود دارد که پشت این شبه دموکراسی ارتش است که این ارتش وابسته به آمریکا و صهیونیسم است و این دموکراسی فقط یک بازی در ظاهر است.»

رحیم پور ازغدی استدلال نادرست دیگری را روشن کرد و افزود:«بعضی ها می گویند کشور ایران دچار تناقضات است و ما نمی دانیم چه می خواهیم تا به اجماع برسیم ولی برخی کشورهای خاورمیانه مانند عمان می دانند و به اجماع رسیده اند.»

این استاد دانشگاه در جواب این استدلال نادرست گفت:«این کشور چون پاساژ یا خیابان های شیکی دارد نباید برای ما الگو توسعه یافتگی باشد.در این کشورها مانند عمان که برخی الگو توسعه می دانند و بیان می کنند قیمت ثابت است باید بگویم آنها اصلا تولیدی ندارند که قیمتشان تغییر کند و تحت تاثیر و زیر نظر آمریکا و صهیونیسم هستند که توسط این کشور ها غارت می شوند.ولی کشوری مانند ایران که مبارزه و مقاومت می کند قیمتش متغیر می شود. رحیم پور ازغدی افزود کشور هند را هم بیان می کنند به اجماع فکری رسیده است که این ها فقط دروغ هایی است که می توان به کودکان گفت.»

یکی دیگر از این استدلال های نادرست به گفته رحیم پور ازغدی این است که به علت اندیشه های مخالف با غربی بودن در ایران نمی توانیم مانند کشور هند به اجماع برسیم پس ما عقلانیت سیاسی و اجتماعی نداریم.

رحیم پور ازغدی در جواب این گونه حرف ها تاکید کرد، جوابشان روشن است که کره جنوبی و هند و باقی کشورهای این چنینی زیر نفوذ غرب تنها کارخانه آنها به شمار می روند.این کشورها که زیر سلطه آمریکا و صهیونیسم هستند نه دولت مستقل دارند و نه حقوق ملت این کشورها مهم است.این کشورها از جنگ جهانی دوم که اشغال شدند دیگر نتوانستند دولت مستقل تشکیل دهند. 

حتی قانون اساسی این کشورها را آمریکا می نویسد.رشد کشورهای سرمایه داری با غارت کشورهای دیگر است، اگر این کشورها، ملت های دیگر را غارت نکنند نمی توانند به حیات خود ادامه دهند چون اقتصادشان از بین می رود.این کشورها بدهکارترین دولت ها هستند که باید به طور مداوم همه جا را برهم بزنند و غارت کنند.این کشورها همیشه باعث تنش می شوند ولی به ما می گویند که تنش زا هستیم..

رحیم پور ازغدی استلال نادرست دیگر را مشکل توسعه نیافتگی ایران بیان کرد و افزود این استدلال بیان می کند که در ایران مدیریت فرهنگی قوی وجود دارد در نتیجه نمی توانیم با فرهنگ جهانی که منظور همان فرهنگ غرب است اقدام شویم، این عدم اقدام با فرهنگ غرب مانع توسعه یافتگی ایران می شود.

رحیم پور ازغدی خاطر نشان کرد، این استدلال نادرست مقابله با جمله ی ما می توانیم امام (ره) است.

وی در مورد همین استدلال های نادرست افزود:«بعضی ها می گویند، ما می خواهیم هم با دنیا زندگی کنیم و هم می خواهیم فلسفه دنیا را نفی کنیم.کسانی که این حرف را می زنند هرچه آمریکا و صهیونیسم می گوید را فلسفه دنیا می دانند.آنها می گویند ایران دچار یک غرور تاریخی است که با این غرور نمی توانیم با روند جهانی خود را تطبیق دهیم.»


منبع:خبرنامه دانشجویان
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
اکستان میں 350 مدرسے ہیں کہ جن میں سے 320 مدرسوں کے پرنسپلز نے لکھ کر تحریر دی ہوئی ہے کہ ہم علامہ ساجد علی نقوی صاحب کو قائد مانتے ہیں۔ علامہ شہنشاہ نقوی

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-priority:99; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0cm 5.4pt 0cm 5.4pt; mso-para-margin-top:0cm; mso-para-margin-right:0cm; mso-para-margin-bottom:10.0pt; mso-para-margin-left:0cm; line-height:115%; mso-pagination:widow-orphan; font-size:11.0pt; font-family:"Calibri","sans-serif"; mso-ascii-font-family:Calibri; mso-ascii-theme-font:minor-latin; mso-hansi-font-family:Calibri; mso-hansi-theme-font:minor-latin; mso-bidi-font-family:Arial; mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

شعور و بیداری کا سفر

ایک عالم بزرگوار نے قیادت کی شرائط پر مناظرہ کرنے کا چیلنج کیا لیکن جب ان کو خود قیادت کی شرائط بیان کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے "حوزتین کودیکھنے والے " ،"شہید باقر الصدر کے شاگرد "،"پیر ومرشد کی خصوصیات کے حامل" وغیرہ قسم کی قیادت و رہبری کی غیر منطقی و غیر علمی خصوصیات بیان کرکے سامنے بیٹھے علماء و قوم کے ساتھ مزاح فرمایا۔ اس قسم کی شرائط سے ہی امیرالمومنین کے خلاف لوگوں کو کھڑا کیا گیا۔ کتنے افراد نے پیغمبر اکرم ،امام خمینی اور شہید حسینی کے ساتھ مل کر کام کیا قربانیاں دیں لیکن یہی  کافی نہیں ہیں بلکہ قیادت و رہبری کے لیے اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیز کسی قوم کے اندر شعور و بیداری کے سفر سے مانع بنتی ہے اور پھر علماء کے مجمع میں اس قسم کی باتیں ان کی توہین کا باعث بھی ہیں۔

 ایک دینی جماعت کا اتنی دینی جماعتوں کے باوجود سیکولر اور بے دین  جماعت کے ساتھ اتحاد نا قابل فہم ہے ۔اگر یہ تمام دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل یا ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم  پر جمع ہوجاتی ہیں  اور سیاسی میدان میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں ۔یہ دونوں موقف خدا کے نزدیک درست اور حق نہیں ہو سکتے ۔یا اتحاد صحیح ہے یا مخالفت۔      فیصلہ عقل سلیم پر!!!





؂  گھر اس کا بخارا نہ بدخشاں نہ سمر قند

                   تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے


جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا نظام حکومت جس میں تمام انسان مکمل طور پر مساوی ہوں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہ ہو اور ہربالغ شخص مرد و عورت الیکشن میں آزاد انہ طور پر حصہ لے سکتا ہو انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کو کسی پیمانے پر جانچانا نہ جائے جیسے ایران میں امیدواروں کی منظوری رہبر کونسل دیتی ہے یہ جمہوریت نہیں ہے ہر عاقل بالغ جو جمہوری قواعد و ضوابط پورے کرے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔


جمہوریت کے ذریعے صرف اور صرف جہلاء نہیں پڑھے لکھے اور عالم فاضل بھی منتخب ہوسکتے ہیں مگر عملاً منتخب نہیں ہوتے اگر منتخب ہو جائیں تو سرمایہ دارانہ نظام انہیں چلنے نہیں دیتاغیر جمہوری نظام میں حاکم کے لیے سخت شرائط اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ ہی ریاست کو چلانے کے فیصلے کرتا ہے لہٰذا اس کا اہل ہونا ضروری ہے جمہوریت میں تمام فیصلے معاملے پارلیمان صدر اور وزیر اعظم طے نہیں کرتے وہ فیصلے غیر منتخب اشرافیہ کرتی ہے مگر منظر پر عوامی نمائندے ہوتے ہیں غیر جمہوری فیصلے جمہوری نمائندوں کے ذریعے عوام پر مسلط کرکے انھیں دھوکہ دیا جاتاہے کہ وہ اقتدار اختیار اور حکومت کے فیصلوں میں شریک ہیں یہ جمہوری نظام کا کمال ہے لوگ دھوکہ بھی کھالیتے ہیں اور کسی کو دھوکے کا پتہ بھی نہیں چلتا


جو شخص خدا کے نظام کو چهوڑ کرکوئی اور نظام اپناتا هےوه بی بی کے گهر جلانے والوں می شامل هے

شهید مطهری لکهت هی  سرسید احمد خان کا شمار مسلم لیران می هوتا تها اور برطنوی استعمار ک خلاف مقابله کرت ته لیکن جب 1284ه می کا سفر کیا تو اس سفر ن ان پر گهرا اثر چهوا اور برطانوی سیاست اقتصاد ثقافت وتمدن ن  استعمار ک خلاف مقابل کی فکر ان ک ذ


آج پاکستان میں کون کون سی امامتیں امت کو سلطان زرداری و طاغوت پرست بنا رہی ہیں۔

فتنه ملت بیضا ہے  امامت اس کی

جو مسلمان کو سلاطین کا پرستار کر


پاکستانی قوم کے غیر الہی نظام میں شرکت پر علامہ کا درد انگیز کلام؛

 زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

 آج کیا ہے فقط مسئلہ علم کلام 

روشن اس کی ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو

خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام


 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علامہ بھی اس فعل کو کفر عملی کہتے تھے۔


پاکستانی قوم کو عالم ، سیاستدان ، رہبر اور  نمائندہ پرستی لے ڈوبی ہے یہ سب شخصیت پر ستی کے زمرے میں آتی ہیں ۔  اس کا علاج بیداری ، شعور اور بصیرت ہے ۔ 



ذوشهادتین بودن شما، به تعبیر حضرت امام(قدس سره) برای ما حجت است.

مقام معظم رهبری(مدظله العالی) در مورد شخصیت جنابعالی می‌فرماید: «من قدر آقای مصباح را می‌دانم، ایشان خلأ شهید مطهری وعلامه طباطبایی را در زمان ما پر کرده‌اند… در شما(علامه مصباح) سه چیز جمع است؛ علم، صفا و بصیرت. و به معنای حقیقی کلمه دارای بصیرت هستید.»



از حالا برای ۴ سال بعد فکر کنیم

ما مرد تکلیفیم و نه مسئول نتیجه
سه شنبه ۲۸ خرداد ۱۳۹۲ ساعت ۱۸:۴۷
 
عضو خبرگان رهبری با اشاره به فرمایشات حضرت امام(ره) و مقام معظم رهبری گفت: این عافیت‌طلبان و راحت‌طلبان هستند که نسبت افراط‌گری را به عده‌ای می‌دهند، اما با دادن این نسبت‌ها تکلیف ساقط نمی‌شود.
به گزارش پایگاه خبری انصارحزب الله به نقل از پایگاه اطلاع‌رسانی آثار حضرت آیت‌الله مصباح یزدی، رئیس مؤسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی(ره) در جمع اعضای کانون طلوع با اشاره به اینکه در روز‌های اخیر یک حماسه سیاسی در کشور اتفاق افتاد که کم‌نظیر بود اظهار داشت: اجتماع پرشور و با حرارت همراه با احساس مسئولیت مردم کشور از جمله مواردی است که در دیگر کشور‌ها نظیر آن را سراغ نداریم و اظهارات رسانه‌های غربی و مسئولان کشورهای غربی نظر مقام معظم رهبری که همان موضوعیت داشتن حضور مردم است را تأیید می‌کند، اما در کنار آن مسائل و سئوالاتی برای برخی پیش آمده است که موجب ابهام یا دلسردی برخی در روند آینده است که باید آن را تبیین کنیم.

آیت‌الله مصباح یزدی با اشاره به اینکه بسیاری از فقها و علما شرکت در انتخابات را واجب شرعی می‌دانند، اظهار داشت: هرچند اصل حضور مردم در این انتخابات لازم بوده و تأثیرات مثبت بین‌المللی دارد، اما به نظر تنها حضور کافی نیست و باید اصلح را انتخاب کرد، مخصوصا اگر در مقابل اصلح کسانی باشند که ممکن است ضعف‌هایی داشته باشند که در سیاست‌گذاری‌ها و مدیریتشان احتمال وارد شدن ضرر به اسلام و مسلمین وجود داشته باشد.

وی در خصوص ملاک اصلح بودن نیز اظهار داشت: مردم ما همواره منتظر رهنمودهای مقام معظم رهبری و شاخص‌های اصلح از زبان ایشان هستند تا بتوانند با توجه به آن ملاک‌ها اصلح را پیدا کنند، اما مقام معظم رهبری همواره تأکید می‌کردند که بنده درباره کاندیداها هیچ اظهار نظری نمی‌کنم، اما چرا با وجود اینکه مصلحت کشور مهم است و این مصلحت می‌تواند با انتخاب یک فرد تأمین شود، رهبری اظهار نظر نمی‌کنند؟

وی در پاسخ به این ابهام افزود: هرچند عنوان اولی این است که معرفی کامل شاخص‌های نامزد اصلح، توسط ایشان برای جامعه مفیدتر خواهد بود، اما با چنین کاری نظام متهم خواهد شد که این انتخابات مهندسی شده و فرمایشی است و از لحاظ بین‌المللی تأثیر بسیار منفی بر کشور دارد، چرا که امروز چه ما بخواهیم و چه نخواهیم دموکراتیک بودن انتخابات یک اصل تلقی شده است و هرچه قدر دشمنان بتوانند آن را خدشه دار کنند، ارزش سیاسی انتخابات را کمرنگ کرده‌اند و از سوی دیگر کسانی که شاخص‌ها را در خود نمی‌بینند، در انتخابات شرکت نکرده و آن را تحریم می‌کنند و حضور حداکثری اتفاق نمی‌افتد.

علامه مصباح یزدی با طرح این سؤال که آیا با عدم اظهار نظر صریح رهبری، دیگران هم نباید اظهار نظر کنند، خاطرنشان کرد: چنین اصلی وجود ندارد، چرا که در صدر اسلام نیز چنین مواردی وجود داشته است، مثلا حضرت زهرا(س) در خصوص مسئله فدک محاجه کردند، ولی امیرالمؤمنین(ع) چنین نکردند. معلوم می‌شود که تکلیف آنها با یکدیگر فرق داشت و کاری که از حضرت زهرا(س) بر می‌آمد، از شخص دیگری بر نمی‌آمد، چرا که اگر حضرت امیر(ع) ورود می‌کردند، متهم به حرص بر ملک می‌شدند و چه بسا به شورش و درگیری منجر می‌شد. نمونه دیگر آن نوع برخورد ابوذر با خلفا و انتقاد از مال اندوزی آنها بود، در حالی که حضرت علی(ع) چنین مواضعی نگرفته و اینگونه برخورد نمی‌کردند، چون تکلیف آنها با یکدیگر تفاوت داشت.

عضو خبرگان رهبری خاطرنشان کرد: اگر کسی دید افرادی اشتباه می‌کنند که به ضرر اسلام تمام می‌شود و وی می‌تواند آنها را هدایت کند باید اقدام کند. گاهی گفته می‌شود که چنین رفتاری خلاف شأن است، در حالیکه بالاترین شأن، هدایت مردم است.

وی با اشاره به سؤال و ابهام دیگری که ممکن است در ذهن برخی پیش آمده باشد اظهار داشت: تجربه انتخابات‌های گذشته و به خصوص تجربه اخیر نشان داد که با وجود تلاش‌های مخلصانه‌ای که مردم فرهیخته کشور و به خصوص دانشگاهیان و حوزویان صورت دادند و انصافا در این زمینه کم هم نگذاشتند و حتی از جیب خود خرج کردند که بیانگر علاقه وافر مردم به دین و نظام است، این تلاش‌ها مؤثر واقع نشد، لذا این تصور پیش می‌آید که این تلاش‌ها بیهوده است و ممکن است در آینده انگیزه‌ای برای چنین تلاش‌هایی وجود نداشته باشد و از همین روست که عده‌ای رأی آوری را از مهمترین ویژگی‌های اصلح عنوان می‌کنند. از طرف دیگر اگر کسی رأی آورد که او را اصلح نمی‌دانیم، وظیفه ما چیست، آیا باید تسلیم وی شویم یا تحمل کنیم یا برخورد کنیم؟

وی ادامه داد: از نظر فقهی علاج مرض برای رفع ضرر موجود یا دفع ضرر محتمل، واجب است و سیره عقلا بر این است که اگر شک وجود داشت در اینکه با مراجعه به دکتر و استفاده از دارو، مریضی بهبود می‌یابد یا خیر، باز هم اقدام می‌کنند و احتمال عدم تأثیر مجوزی برای ترک مداوا نیست. در مسائل اجتماعی که فعالیت یک فرد تأثیر اجتماعی دارد نیز نمی‌توان وظیفه اجتماعی را به صرف احتمال عدم تأثیر رها کرد. اگر به وظیفه خود عمل نکردیم و روز قیامت از ما به خاطر عمل نکردن به وظایف سؤال شد، جوابی نخواهیم داشت.

وی در پاسخ به این سؤال که آیا اگر چندین مرتبه عدم تأثیرگذاری فعالیت خود را دیدیم باز هم اقدام واجب است، به آیاتی از قرآن کریم در خصوص اصحاب سبت اشاره کرد و اظهار داشت: عذاب الهی نه تنها قوم گنهکار، بلکه کسانی که نسبت به آن بی‌تفاوت هم هستند را فرا می‌گیرد، لذا اگر در جامعه‌ای خلاف شرع رایج شد و افرادی با عذر عدم تأثیر به وظیفه خود عمل نکردند، با اصحاب سبت که مشمول عذاب الهی شدند، فرقی نخواهند داشت.

علامه مصباح یزدی با بیان سخن امام(ره) مبنی بر اینکه ما مرد تکلیفیم و نه مسئول نتیجه اظهار داشت: امام(ره) با وجود وساطت کشورهای دوست و مسلمان برای خاتمه جنگ، زیر بار نرفته و شعار جنگ جنگ تا رفع فتنه را سر دادند. حتی در مبارزه علیه شاه نیز وقتی برخی مخالف مبارزه با شاه بودند و برخی علما برای گردهم آوردن امام(ره) و دیگران پادرمیانی کردند، امام(ره) معتقد بود اگر قرار است، اصل مبارزه مورد مشورت و تصمیم جمع قرار گیرد، برای من هیچ اعتباری ندارد، چرا که من یقین به وظیفه برای مبارزه دارم، اما اگر در نحوه مبارزه می‌خواهند مشورت شود و مثلا نرم‌تر برخورد شود، از آنجا که کار جمعی اثرش بیشتر است، بنده می‌پذیرم.

وی ادامه داد: در صدر اسلام نیز افرادی چون حجر بن عدی، میثم تمار، عمر و بن حمق و رشید حجری نیز تا پای جان بر اصول خود ایستادند، آنها مگر احتمال تأثیر می‌دادند و مگر ترس از جان نداشتند، پس چرا تقیه نکردند؟ در حالیکه اگر آنها نبودند ما امروز از شیعه چیزی نداشتیم. سید الشهدا(ع) نیز با وجود یقین به عدم تأثیر در مخاطبان و نتیجه جانگداز آن، باز هم اقدام کرد. اما در عین حال در آخر کار اظهار رضایت کرده و حتی حضرت زینب(س) می‌فرمایند « ما رأیت الا جمیلا».

وی با اشاره به فتوای امام(ره) در خصوص حرمت تقیه در مهامّ امور اظهار داشت: شیخ فضل الله نوری با اینکه می‌دانست پافشاری او سبب آویخته شدنش به دار می‌شود، باز هم دست از استقامت خود برنداشت، در حالیکه اگر مبنای نهی از منکر را جلوگیری از مفاسد بدانیم، وی نباید روی حرف خود پافشاری می‌کرد، چرا که حاصل نشد.

استاد اخلاق حوزه علمیه قم با اشاره به اینکه احکام شرعی بر اساس ملاک‌هایی تشریع شده است، اظهار داشت: هر موردی که با اراده و اختیار ما سر و کار داشته باشد، جای تکلیف هم هست، مثل شرکت در جنگ ولو که برخی جنگ‌ها نیز به شکست انجامید. چرا که تکلیف هرچند به خاطر مصالح واقعیه است و برای تحقق امور مطلوب است، اما اینکه تا چه میزان این مطلوب، محقق شود، به اراده ما نیست، بلکه به میدان رفتن و شمشیر زدن تا پای جان در اختیار ماست، اما اینکه بعد چه خواهد شد، تابع اراده ما نیست. لذا همواره باید ببینیم که تکلیفی متوجه ما هست یا خیر؟

وی با اشاره به اینکه اتفاقاتی که در عالم رخ می‌دهد چه تاریک و چه روشن همه در مجموعه نظام احسن است، ادامه داد: ملاک تکلیف نتیجه روشن نیست، بلکه ملاک تکلیف، شناخت آن از راه عقل و شرع است، ولو اینکه عملا نتیجه دلخواه از آن حاصل نشود.

علامه مصباح یزدی ادامه داد: بر این اساس اگر دوباره فصل انتخاباتی پیش آمد باید با همان انگیزه و جدیت شرکت کنیم و نگران نتیجه نباشیم.

این استاد اخلاق خاطر نشان کرد: زیارت عاشورا به ما می‌آموزد که حتی بر مصیبت عاشورا نیز باید شکر کرد، چون وسیله سعادت دنیا و آخرت است. یعنی تکلیف را باید انجام دهیم، ولو اینکه به دنبال آن مصیبت باشد و حتی پس از آن به خاطر توفیق عمل به وظیفه و آن مصیبت، خداوند را شاکر باشیم. لذا اگر مثل برخی به خاطر پول، رودربایستی یا گرفتن پست رأی ندادیم، ولو زحمت کشیدیم، بی‌خوابی کشیدیم، تهمت‌ها را تحمل کردیم و فحش‌ها را شنیدیم باید شاکر خداوند باشیم.

وی ادامه داد: از طرف دیگر این طور نیست که این زحمات و تلاش‌ها هیچ اثری نداشته باشد. آیا اینکه فردی با کمترین امکانات و هزینه ها، رأیی نزدیک به کسانی بیاورد که میلیاردها خرج کردند، تأثیر نیست؟ مخصوصا اینکه تنها همین چند روز کار شد و اگر مدت بیشتری با این اخلاص و جدیت کار می‌شد، نتیجه کیفی کار نیز بالاتر بود. پس نمی‌توان گفت این کارها اثری ندارد و تکلیف از ما ساقط است، و اگر از حالا برای ۴ سال بعد فکر کنیم تأثیر آن چندین برابر خواهد شد.

وی خاطرنشان کرد: اگر به وظیفه خود عمل نکنیم باید منتظر مسخ شدن باشیم، اما نه مسخ ظاهری، بلکه مسخ فکری و روحی که نسبت به انقلاب و اسلام بی‌تفاوت بوده و بیکاری و گرانی به عنوان مهمترین مسئله برای ما قلمداد شود.

این استاد برجسته فلسفه ادامه داد: هرچند آدمی دوست دارد، همگان به او احترام بگذارند، هرچند تحمل ملامت و ناسزا مخصوصا از دوستان آسان نیست، اما قرآن فرموده است «لایخافون لومه لائم». بله، اگر وظیفه‌ای نباشد، انسان خود را در معرض فحشها و تهمت‌ها و ملامت‌ها قرار نمی‌دهد، اما اگر وظیفه‌ای را احساس نمود، باید به تکلیف عمل کند.

وی با اشاره به فرمایشات حضرت امام(ره) و مقام معظم رهبری اظهار داشت: این عافیت‌طلبان و راحت‌طلبان هستند که نسبت افراط‌گری را به عده‌ای می‌دهند، اما با دادن این نسبت‌ها تکلیف ساقط نمی‌شود.

ریف حقایق دفاع مقدس به نام اعتدال/ رازگشایی از دادن جام زهر به امام(ره)
مؤلف کتاب «راز قطعنامه» گفت:‌ یک دلیل سرکشیدن جام زهر از طرف امام(ره) این بود که عده‌ای می‌گفتند چطور می‌شود ایشان را از مواضعشان عقب‌گرد داد و می‌خواستند کاری کنند نقاط برتری که در دست ماست از دسترس نیروهای رزمنده ما بیرون برود. وی ادامه داد: حالا با این گزارش‌ها که همگی دستانشان را به نشانه تسلیم بالا برده بودند حضرت امام با اتکا به چه کسی می‌خواستند مقاومت را ادامه دهند؟!
به گزارش سرویس سیاسی پایگاه 598 ، کامران غضنفری محقق و پژوهشگر و نویسنده کتاب «راز قطعنامه» در جلسه هفتگی انصار حزب‌الله با موضوع «تحریف در بینات انقلاب به بهانه نفی افراطی گری» به ایراد سخنرانی پرداخت. 

اعتدال و افراطی‌گری از منظر آقای رفسنجانی

غضنفری با بیان اینکه اخیراً در سایت آقای هاشمی به مطلبی برخوردم که عنوان آن اعتدال و افراطی‌گری بود، اظهارداشت: وی موضوعاتی را مطرح کرده بود و حالا به یکی دو جمله از آنها اشاره می‌کنم؛ آقای هاشمی گفته بود که مهمترین شاخص اعتدال در حضرت امام(ره) توجه خاص ایشان به نگاه کارشناسی بود.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» افزود: در خاطرم جمله‌ای تاریخی از ایشان هست که نظر کارشناسی مجمع را حتی اگر خلاف نظر خودم هم باشد، می‌پذیرم. از اعتدال امام درس‌های بزرگی در تاریخ ثبت شده؛ از ده‌ها فتوای نوآورانه وفقهی نظیر فتوای شطرنج و موسیقی تا آن حرکت بی‌بدیل سیاسی در قبول قطعنامه 598 که هم منجر به تأمین مصلحت مردم و پیشرفت ایران اسلامی گردید و هم سقوط و زوال صدام.

وی ادامه داد:‌ بعد در جایی دیگر اشاره می‌کنند که در واقع‌گرایی اسلامی نه اسلام فراموش می‌شود و نه آرمان‌ها. در مسیر واقع‌گرایی اسلامی آرمان‌های ما هم اسلامی‌تر می‌شوند و هم واقع‌بینانه‌تر. شما فقط کافی است در مقطع تاریخی قبول قطعنامه 598 نتایج واقع‌گرایی اسلامی و اعتدال در تصمیم‌گیری حضرت امام را بررسی کنید و در نقطه مقابل آن تصور کنید که اگر قرار بود تصمیمات نظام بر مبنای آرمانگرایی افراطی اتخاذ می‌شد، چه سرنوشتی در انتظار ایران اسلامی بود. معلوم است که آرمانگرایی محض و خالی از واقع‌گرایی ممکن بود چه بلایی به سر کشور بیاورد.

غضنفری یادآور شد: وی با این حساب اشخاص را به دو دسته تقسیم‌بندی کرده‌اند که یک طیف معتقد به واقع‌گرایی اسلامی هستند که طبعاً ایشان خودشان را هم جزو این طیف می‌دانند و نقطه‌ مقابل را طرفدار آرمانگرایی افراطی می‌دانند.

وی تأکید کرد: ما یادمان هست در دوران هشت سال دفاع مقدس بودند بعضی آقایانی که خودشان را عقلای قوم به حساب می‌آوردند و افراد معتدل فرض می‌کردند و در مقابل، عده‌ای دیگر را دارای گرایش‌های افراطی و آرمانگرایان افراطی تلقی می‌کردند. حالا اینجا می‌خواهیم چند تا از این شعارهای آرمان گرایانه افراطی را بیان کنیم تا بعد ببینیم این جملات افراطی از ناحیه چه فرد یا افرادی بیان شده است.

سخنان آرمان گرایانه به ظاهر افراطی

غضنفری در ادامه به بخشی از سخنان امام خمینی (ره) اشاره کرد و فت: در تاریخ 21/3/62  ایشان فرموده‌اند: اگر بعضی از منحرفین و منافقین بین مردم بیفتند و بگویند که جنگ را تمام کنید شما هم قبول کنید بدانید که اسلام در خطر کفر است. اگر چنانچه امروز ما یک کلمه عقب‌نشینی کنیم، اگر ملت ما یک قدم سستی به خودش راه بدهد و عقب‌نشینی کند، نوامیس، اموالش، جان‌های جوانهایش، همه‌اش به باد خواهد رفت. همچنین در تاریخ 10/4/63 امام خمینی (ره) می‌فرمایند:  آنهایی که به ما می‌گویند سازش کنید، آنها یا جاهل هستند یا مزدور. سازش با ظالم یعنی که دست ظالم را باز کن تا ظلم کند. این خلاف رأی تمام انبیاء است.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» در ادامه گفت: امام‌خمینی(ره) در 18/12/63 بیان کردند:  اینان ندیدند که مادران و پدران شجاع ایران، فرزندان و نور چشمان خود را از زیر خروارها خاک بیرون می‌کشند و فریاد جنگ جنگ تا پیروزی سر می‌دهند و از دست‌اندرکاران مقابله به مثل و از سلحشوران جبهه‌ها ادامه جنگ را طلب می‌کنند؟! درود خدا بر این ملت شجاع و مؤمن که جان می‌دهد و تن به سازش و تسلیم نمی‌دهد؛ همچنین در تاریخ 16/5/65 می‌فرمایند: سازش و صلح تحمیلی بدتر از جنگ چه معنا دارد؟ کیست که نداند صلح با این حزب به رسمیت شناختن حزب بعث است که با قتل و جنایت بر یک کشور اسلامی حکومت می‌کند و کیست که نداند این امر از بزرگترین گناهان است و از واضح‌ترین خیانت‌ها به مسلمین است.

غضنفری گفت: با این تفاسیر، جناب آقای هاشمی رفسنجانی، فکر می‌کنید این شعارهای به زعم شما آرمانگرایانه افراطی را چه کسانی سر می‌دادند. گوینده این جملات کسی جز روح‌الله ‌الموسوی الخمینی رضوان‌الله تعالی علیه نیست.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» با تأکید بر اینکه سوالی که مطرح می‌شود این است که چه شد امام خمینی(ره) که با چنین دیدگاهی از اول جنگ تا پایان جنگ این مسیر را مستقیم جلو می‌رود بدون اینکه ذره‌ای از این مسیر منحرف شود، افزود: درست 10 روز بعد از 13تیرماه 67 یعنی 23 تیرماه پذیرش قطعنامه به ایشان تحمیل می‌شود و دقیقاً اوضاع 180 درجه تغییر می‌کند؟!

دلایل تغییر نظر حضرت امام در جریان قطعنامه 598

وی ادامه داد: چه پیش آمد در حالی که 10 روز قبل از آن امام(ره) مردم را جهت حضور در جبهه و مقابله با آمریکا و اذناب آمریکا دعوت می‌کنند و می‌فرمایند غفلت از مسائل جنگ خیانت به رسول الله(ص) است و خائن به رسول الله جایگاهش در درک جهنم خواهد بود، چگونه می‌توان قبول کرد؟ در جلسه 23 تیرماه 67 چه اتفاقی می‌افتد؟ آقای هاشمی چند تن از مسئولین دیگر را با خودش همراه می‌کند و به نزد امام می‌روند. قبل از این جلسه هم آقای هاشمی به کرّات سراغ امام خمینی(ره) رفته بود و با اصرار هر چه تمام‌تر از ایشان خواسته بود که آتش بس را بپذیرند و صلح انجام شود ولی حضرت امام خمینی(ره) سرسختانه مقاومت کرده و پاسخ رد می‌دادند.

غضنفری گفت: یکی دو مورد آن را آقای محسن رضایی تعریف می‌کند. البته تمام مطلب که این جا مطرح می‌شود، همگی آشکار است و هیچ یک جزء مطالب محرمانه محسوب نمی‌شود و چه در سایت‌ها، چه در کتاب‌ها و چه در مجلات منتشر شده است؛ روابط محسن رضایی با هاشمی رفسنجانی همیشه صمیمانه و گرم بوده است. شاید به جرأت بتوان گفت که در حدود سه دهه است که آقای رضایی در زمین جناب آقای هاشمی رفسنجانی بازی می‌کند. همچنان که در انتخابات ریاست جمهوری سال 88 و در انتخابات سال 92 در هر دو در زمین هاشمی بازی می‌کرد و البته آقای هاشمی هم از خجالت ایشان درآمده بود.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» با بیان اینکه محسن رضایی نقل می‌کند که در یکی از جلسات که آقای هاشمی به امام اصرار می‌کند باید بپذیرید و ما مجبوریم قطعنامه را امضاء کنیم، گفت: امام ناراحت می‌شوند و پاسخ منفی می‌دهند. در جلسه دیگری آقای هاشمی، منتظری و دیگران را همراه خود کرده بود و نزد امام آمده بود تا اینکه شروع می‌کنند راجع به بدی اوضاع مملکت صحبت کنند، امام بلند می‌شوند و جلسه را ترک می‌کنند و به حرف‌های آنها اعتنایی نمی‌کنند.

جلسه 23 تیر و گزارش‌های آن

وی تأکید کرد: در جلسه 23 تیر که آخرین جلسه‌ای بوده که نهایت فشار را آقای هاشمی رفسنجانی بر حضرت امام وارد می‌کنند و ایشان را وادار به پذیرش قطعنامه می‌کنند. پنج، شش گزارش را جلوی حضرت امام می‌گذارند. یک گزارش از فرماندهی وقت سپاه، یک گزارش از فرماندهی ارتش، گزارشی از نخست وزیر وقت راجع به اوضاع اقتصادی و گزارشی از وزیر اقتصاد و گزارشی از رئیس برنامه و بودجه آقای روغنی زنجانی که در گزارش خود بیان کرده بودند که کفگیرمان به ته دیگ خورده است و دیگر اصلاً پول نداریم و گزارشی هم آقای سیدمحمد خاتمی - که آن زمان مسئول تبلیغات ستاد کل بود - آورده بود مبنی بر اینکه مردم دیگر به جبهه‌ها نمی‌روند و از جبهه‌ها استقبال نمی‌شود و یک گزارش مفصل هم خود آقای هاشمی تهیه کرده و ارائه می‌کنند - به این در یادداشت‌های خود ایشان هم اشاره‌ای نمی‌شود.

وی ادامه داد: حالا با این گزارش‌ها که همگی دستانشان را به نشانه تسلیم بالا برده بودند حضرت امام با اتکا به چه کسی می‌خواستند مقاومت را ادامه دهند؟! تمام اینهایی که به آنها اعتماد کرده و تا آن موقع به آنها تکیه کرده بودند، همگی دستانشان را بالا برده بودند. این جاست که می‌فرمایند من این جام زهر را سر می‌کشم. و در جایی دیگر می‌فرمایند: قبول این مسئله برای من از زهر کشنده‌تر است.

حالات حضرت امام پس از پذیرش قطعنامه

غضنفری اظهارداشت:‌ بعد آقای هاشمی در چند مصاحبه‌ای که سال‌های اخیر داشته‌اند، می‌گویند امام(ره) از پذیرش قطعنامه خیلی خوشحال بود و به من گفتند این از الطاف الهی بود که من قطعنامه را پذیرفتم.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» با طرح این سؤال که آیا به واقع چنین بود، اظهارداشت:  ایشان تا دو روز بعد از پذیرش قطعنامه هیچ چیزی نتوانستند بخورند، از قول حاج عیسی مستخدم امام نقل می‌کنند بعد از دو روز یک استکان چای که برای امام می‌آورد، حضرت امام او را بغل می‌کنند و یک ساعت تمام گریه می‌کنند؛ نقل می‌کنند همان روز اول این قدر امام افسرده و ناراحت شده بودند که توان اینکه از جایشان بلند شوند و به رختخواب بروند، نداشته‌اند؛ آیا با این وضعیت امام خوشحال بود؟! مرحوم توسلی، از اعضای دفتر حضرت امام، نقل می‌کند که بعد از اینکه امام قطعنامه را پذیرفت دیگر تا آخر عمر ایشان من یک لبخند بر لبهای امام ندیدم.

وی گفت: امام بعد از پذیرش قطعنامه تا روز رحلت دیگر با هیچ گروه و شخصی که برای دیدار می‌رفتند صحبت نکردند. و همه صحبتهایشان را قطع کردند. شما در صحیفه امام جستجو کنید از روز قبول قطعنامه تا زمان رحلت حتی یک سخنرانی از امام پیدا نمی‌کنید.

غضنفری در ادامه سخنان خود تصریح‌کرد: توصیه می‌کنم کتاب «راز قطعنامه» را حتما مطالعه کنید. علامتهای سوال بسیاری در مورد قبول قطعنامه توسط حضرت امام در ذهن خیلی‌ها مانده است. ما در این کتاب اشاره‌ای به چند دسته از استدلال‌ها که جلوی حضرت امام برای قبول قطعنامه می‌گذارند، کرده‌ایم. اولین استدلال آنها این بوده که می‌گویند ما دیگر توان اقتصادی نداریم و کشور از پشتیبانی جبهه‌ها ناتوان است و دیگر پولی در خزانه نداریم. لیکن ما با شواهد و قرائن متعدد اثبات کردیم که این ادعا، ادعایی خلاف واقعیت و کذب بود. یعنی اینکه گزارش دروغ به حضرت امام دادند.

چند نمونه از گزارش‌های مسئولان به امام

وی ادامه داد: بنده به چند نمونه اشاره می‌کنم. آقای روغنی زنجانی در گزارشی که برای حضرت امام می‌نویسد و در آن ذکر می‌کند ما دیگر پولی در بساط نداریم که خرج کنیم، آقای محسن رضایی نقل می‌کند که چند وقت بعد میرحسین موسوی نخست‌وزیر به من گفت که این چیزی که روغنی زنجانی گزارش داده است، نظر دولت نبوده یعنی تلویحا می‌گوید که این گزارش روغنی زنجانی است که داده شده است.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» اضافه‌کرد: بگذریم از اینکه چند سال بعد آقای روغنی زنجانی هم مصاحبه‌ای می‌کند و به این وسیله پته همدیگر را روی آب می‌ریزند و دست همدیگر را رو می‌‌کنند. روغنی زنجانی می‌گوید که این خود میرحسین موسوی بود که به من گفت این نامه را بنویسم.

وی تصریح‌کرد: بهزاد نبوی که خودش وزیر صنایع سنگین در آن زمان بود، طی مصاحبه‌ای در سال 87 می‌گوید که در مورد دلایل پایان جنگ هیچ گاه اشاره نشد که کشور از نظر اقتصادی توان تهیه نیازهای جبهه‌ را ندارد. به هیچ عنوان دلیل پایان جنگ، اقتصادی نبوده است.

غضنفری گفت: آقای محسن رضایی در مصاحبه‌ای عنوان می‌کند که ما در طی 8 سال جنگ حدود 180 میلیارد دلار نفت فروختیم. از این مقدار چیزی حدود 20 الی 22 میلیارد آن فقط هزینه جنگ شده است. این یعنی چه؟! با اینکه این قدر حضرت امام از سال اول فریاد می‌زدند که جنگ باید در راس امور باشد، همه توجهات مردم و مسئولین کشور باید معطوف به جنگ باشد.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» تأکید کرد: من به خاطر دارم در آن سال‌ها موضوعی بین بچه‌ها به شوخی رایج بود که می‌گفتند تنها کسی که به این حرف امام گوش می‌کند صدام است! و او به این حرف امام واقعا عمل کرد. ما به طور متوسط طی 8 سال جنگ فقط حدود 12 درصد بودجه کشور را هزینه کردیم. آیا این بدان معنی است که جنگ مسئله اصلی کشور بوده است و یا اینکه در نظر آقایان مسئول در آن زمان، جنگ نه تنها اصل نبوده که فقط یک مسئله فرعی و دست چندم تلقی می‌شده است.

وی یادآور شد: آقای هاشمی در مصاحبه‌ای در سال 61 بعد از قضایای فتح خرمشهر و عملیات بیت‌المقدس اعتراف جالبی می‌کند و می‌گوید: ما در جنگ 10 الی 15 درصد بودجه را به این امر اختصاص داده‌ایم، اما عراق حدود 80 درصد بودجه‌اش را برای جنگ مصرف می‌کند. بعد اشاره می‌کند که اگر در زمان صلح هم همین مقدار را به نیروهای مسلح اختصاص می‌دادیم پذیرفتنی بود.

غضنفری تأکید کرد: آقای کاظم‌پور اردبیلی معاون وقت وزیر نفت، در دی ماه سال 66 به ژاپن سفر می‌کند و با قائم مقام وزارت صنعت و تجارت ژاپن ملاقاتی دارد که در این ملاقات جمله‌ جالبی بیان می‌کند. می گوید که ما در 9 سال گذشته درآمد ارزی سالانه 24میلیارد دلاری داشته‌ایم. در سال 1986 با درآمد کمتری توانستیم سر کنیم. این در حالی بود که مسئولین مملکتی سالانه در حدود 2 الی 5/2 میلیارد به جنگ اختصاص می‌دادند.

وی گفت:‌ آقای محسن رفیق‌دوست وزیر وقت سپاه می‌گوید که در سال 66 حتی کمتر از 2 میلیارد دلار به جنگ اختصاص داده می‌شود. کاظم پور اردبیلی در سال 66 که در اجلاس اوپک شرکت می‌کند، اشاره می‌کند که در سال 1986ارزش تولید ناخالص کشورهای عضو اوپک 568 میلیارد دلار بوده است. و درآمد ناخالص جمهوری اسلامی ایران در این سال 133 میلیارد دلار بوده که بالاترین میزان تولید ناخالص ملی در میان کشورهای عضو اوپک بوده است.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» ادامه داد:‌ بعد آقایان برای امام ادله آوردند که کفگیرمان ته دیگ خورده است و دیگر قرانی برای پشتیبانی جبهه‌ها نداریم. موضوع و ادله دیگری که مدعی شدند یکی این‌که آقای سید محمد خاتمی عنوان می‌کند دیگر مردم از جبهه‌ها استقبال نمی‌کنند. جناب رفسنجانی در صحبتی که با امام دارد این جمله را به امام می‌گوید که مردم دیگر به جبهه‌ها نمی‌آیند و از جبهه‌ها استقبال نمی‌‌شود.

شواهد و قرائن موجود در کتاب

غضنفری افزود: آیا راست می‌گفتند. ما مواردی از شواهد و قرائن مختلف دال بر کذب بودن این ادعا را در کتاب آورده‌ایم که به چند مورد آن اشاره می‌کنم: حضرت امام در نامه 25 تیر ماه 67 خطاب به مسئولین کشور بعد از پذیرش قطعنامه می‌نویسند که مسئولین سیاسی می‌گویند از آنجا که مردم فهمیده‌اند پیروزی سریع به دست نمی‌آید، شوق رفتن به جبهه در آنها کم شده است؛ آقای هاشمی در جلسه‌ 11 دی سال 1366 به فرماندهان جبهه شمالغرب می‌گوید: الان ما یک میلیون سرباز داریم که باید تدارک شوند.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» اظهارداشت: دو ماه قبل از قبول قطعنامه در یادداشت 5 اردیبهشت 67 ایشان در کتاب خود می‌نویسند در جلسه‌ شورای عالی پشتیبانی جنگ درباره اعزام نیرو به جبهه بحث شد. گفتند سطح اعزام خوب است؛ این اعتراف خود آقای هاشمی رفسنجانی است. باز ایشان در 24 آذر سال 66 طی مصاحبه‌ای با کیهان گفته بود: مانورها نشان داد که از نظر نیروی انسانی رزمنده غنی هستیم؛ فرمانده پایگاه مقداد سپاه تهران در تاریخ 28 آذر 66 مصاحبه می‌کند و می‌گوید: در سال جاری آمار اعزام نیروهای داوطلب به جبهه فقط از غرب تهران نسبت به سال گذشته 120 درصد افزایش داشته است.

وی گفت: سخنگوی سپاه در آذر ماه 66 می‌گوید: امسال اعزام نیرو از استان خراسان نسبت به سال گذشته بیش از سه برابر افزایش داشته است؛ بعد آقایان به حضرت امام گفته بودند که دیگر مردم به جبهه نمی‌روند و از آن استقبال نمی‌کنند؛ آقای رفیق‌دوست وزیر سپاه در مصاحبه‌ای بعد ازجنگ می‌گوید: زمانی که قطعنامه را پذیرفتیم، در بهترین شرایط عدّه و عدّه بودیم. ما هیچ وقت در جنگ مشکل عدّه و نیروی انسانی نداشتیم.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» افزود: رئیس جمهور وقت (مقام معظم رهبری) در هفته اول فروردین سال 67 می‌گویند از ابتدای جنگ تا امروز هر زمان که مسئولان جنگ به مردم حتی به اشاره‌ای نیاز جبهه‌ها را اعلام کرده‌اند مردم با کمال شوق و رغبت بدون اندکی درنگ به جبهه‌ها شتافته و سنگرها را پر کرده‌اند، مردم ما هر چه پیش می‌رویم نسبت به ادامه دفاع مقدس خود مصمم‌تر می‌شوند.

غضنفری با بیان اینکه آقای هاشمی در یادداشت 2 مرداد 67 یعنی چند روز بعد از پذیرش قطعنامه می‌نویسد: آقای محسن رضایی آمد و از سرعت جذب نیروهای مردمی راضی است، تصریح‌کرد:  در یادداشت 15 مرداد 67 می‌نویسد: ظهر آقای شمخانی آمد(او همان کسی است که چند سال پیش در یک برنامه تلویزیونی گفت ما در آخر جنگ چون مردم به جبهه نمی‌آمدند و نیرو نداشتیم مجبور شدیم قطعنامه را بپذیریم!) و طرح عملیات سپاه را آورد و گفت:300 گردان نیرو حاضر است و باز هم آمدن نیرو ادامه دارد.

وی ادامه داد:‌ گزارش بعدی که به امام دادند گزارش فرماندهان نظامی ارتش و سپاه بود و گفتند: دیگر نمی‌توانیم ادامه دهیم. آقای محسن رضایی نامه‌ای در تاریخ 2 تیر سال 67 به آقای هاشمی می‌نویسد و او هم برای امام می‌برد. در آن نامه مفصل می‌گویند تا پنج سال دیگر هیچ پیروزی نداریم. ممکن است در صورت داشتن وسایلی که در پنج سال به دست می‌آوریم، قدرت عملیات انهدامی یا مقابله به مثل را داشته باشیم و بعد از پایان سال 70 اگر ما 350 تیپ پیاده و 2500 تانک و 3 هزار توپ و 300 هواپیمای جنگی و 300 هلی‌کوپتر و 4-5 میلیارد بودجه داشته باشیم و به شرطی که بتوانیم آمریکا را هم از خلیج فارس بیرون کنیم، می‌توان گفت به امید خدا می‌توانیم عملیات آفندی داشته باشیم.

پاسخ حضرت امام(ره) به گزارش‌ها

غضنفری افزود: حضرت امام جواب این‌گونه افراد و طرز تفکر و بینش‌ها را جلوتر داده بودند. امام می‌فرمایند که اشتباهشان در همین است که خیال می‌کنند زیادی جمعیت و زیادی اسلحه کار را انجام می‌دهد و نمی‌دانند که این چیزی که کار را انجام می‌دهد بازوی قوی افراد است.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» یادآور شد: افراد کم با بازوی قوی و قلب مطمئن و متوجه به خدای تبارک و تعالی و عشق به شهادت و لقاءالله، اینهاست که پیروزی را می‌آورد. پیروزی را شمشیر نمی‌آورد، پیروزی را خون می‌آورد. پیروزی را افراد و جمعیت‌های زیاد نمی‌آورد، پیروزی را قدرت ایمان می‌آورد.

وی ادامه داد: ما در کتاب «راز قطعنامه» بعد از اینکه این نامه محسن رضایی را آوردیم یک سوال از او کردیم و گفتیم آقای محسن رضایی! جناب عالی مگر در نامه دوم تیر 67 این موضوع را ننوشته‌ای، پس چطور شد که یک ماه بعد از نگارش این نامه در مرداد سال 67 پیغام برای امام(ره) می‌فرستی که آقا ما الان آماده حمله به بصره هستیم.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» همچنین افزود:‌ چطور شد مرداد سال 67 درخواست عملیات آفندی کردی و یک دفعه عملیات آفندی 5 سال به جلو افتاد؟ شما که تا یک ماه قبل از آن می‌گفتی ما از شلمچه یک قدم هم نمی‌توانیم جلوتر برویم. مگر بنا نبود در اسفند 66 در محور جنوب عملیات کنید و مگر قرار نبود یک عملیات در اسکله البکر و الامیه داشته باشید؟چرا آن دو عملیات را لغو کردید؟ حالا چه شده که یک ماه پس از قبول قطعنامه می‌گویید عملیات آفندی داشته باشیم و بصره را تصرف کنیم؟

وی گفت: پس معلوم می‌شود که توان نظامی کشور سر جای خود بود و رزمندگان ما در حالت آمادگی کامل بودند، به طوری که وقتی سه روز بعد از پذیرش قطعنامه، عراق لشکرهای خودش را در جنوب وارد کشور می‌کند و تا نزدیکی‌های اهواز پیشروی می‌کند و از آن طرف از جبهه‌های غرب و میانی وارد کشور می‌شود و بخش‌های وسیعی از کشور را دوباره می‌گیرد، با یک پیام دو سطری حضرت امام که توسط تماس تلفنی حاج‌احمدآقا(ره) به آقای رحیم صفوی، امام می‌گویند:«اینجا نقطه تقابل اسلام و کفر است، اینجا جایی است که باید متر به متر جنگید و هیچ چیز از هیچ کس پذیرفته نیست، یا سپاه، دشمن را به عقب می‌راند یا برای همیشه یک سپاه ذلیل و مرده‌ای می‌شود.»

غضنفری تأکید کرد: این پیام را آقای رحیم صفوی دریافت می‌کند و به فرماندهان لشکرها و گردانها می‌رساند و ظرف دو ساعت آنچنان جهنمی برای تانک‌های عراقی ایجاد می‌شود که تانک‌ها همین‌طور یکی یکی منفجر می‌شدند، بعد آقای محسن رضایی در سالها بعد می‌گوید: وقتی که قوای عراق آمدند و آن حمله آخر را انجام دادند و تا نزدیک اهواز آمدند ما یک عملیات سرنوشت‌ساز را طراحی کردیم و خلاصه لشکرها را بسیج کردیم و قوای عراق را بیرون راندیم.

وی در ادامه تصریح کرد: آقای رضایی! جنابعالی که این قدر نبوغ نظامی دارید و می‌توانید ظرف کمتر از دو ساعت هم طراحی عملیات کنید و هم عملیات را به جنوب برسانید و هم تمام فرماندهان لشکرها را جمع کرده و توجیه کنید و هم محورها و راهکارهای عملیاتی را مشخص کرده و نقشه‌ها را آماده کنید و نیروها را پای کار بیاورید و ظرف همان دو ساعت به خط بزنید و ظرف همان دو ساعت هم دشمن را نابود کنید، پس تا قبل از آن در این چند سال چه کار می‌کردید؟ این نبوغ نظامی شما تا قبل از آن کجا بود؟ فقط پیام امام به رزمندگان رسید و به خط زدند.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» یادآور شد:‌ سردار سعید قاسمی در یکی از صحبت‌هایش نقل می‌کرد و می‌گفت: همین که رزمندگان پیام امام را شنیدند هرکس یک موتوری، چیزی داشت سوار ‌شد و یکی هم ترک موتور سوار و آرپی‌جی به دست و یا علی مدد به قلب جاده زدند. و موتورسوار بود که بین تانک‌های عراقی از چپ و راست با آرپی‌جی ویراژ می‌دادند و تانکها را به هوا می‌فرستادند.

وی تأکید کرد: آقای رضایی، مشکل شما نداشتن توپ و تانک و هواپیما و هلی‌کوپتر و بودجه و غیره نبود، مشکل شما از دست دادن اعتقاد و ایمان بود.و مشکل شما از دست دادن روحیه‌تان بود. مشکل شما این بود که از چند سال قبل به گفته خودتان به دنبال صلح شرافتمندانه بودید! در راستای خطی که آقای هاشمی پیش می‌رفت و شما پایتان را جای پای ایشان می‌گذاشتید.

وی افزود: گیر کار شما این بود. پس گزارش سومی که به امام دادند گزارشی کذب و دروغ بود که می‌گفتند ما توان مقابله با حملات عراق را نداریم. این بچه‌هایی که زدند و 18 تیپ زرهی عراقی را در مدت یک روز داغون کردند و بقیه نیروهای عراقی را پشت مرزها راندند، مگر غیر از بچه‌های جنگ بودند؟ مگر غیر از کلاشینکف و آرپی‌جی سلاح دیگری داشتند و امکانات نظامی جدیدی به دستشان رسیده بود؟! تفاوت در یک چیز بود و آن اینکه یک عده انگیزه جنگیدن را از اینها گرفته بودند. آنهایی که خودشان واداده بودند و خودشان را باخته بودند.

دلیل دیگر سرکشیدن جام زهر توسط حضرت امام

غضنفری با بیان اینکه سرکشیدن جام زهر از طرف حضرت امام دلیل دیگری هم داشت، افزود: عده‌ای در این تفکر بودند که چطور می‌شود حضرت امام را از مواضعش عقب‌گرد داد. لذا بر آن شدند تا کاری کنند که نقاط برتری که در دست ماست از دسترس نیروهای رزمنده ما بیرون شود و عراق اینها را بازپس بگیرد تا ما دیگر در جبهه دست برتر را نداشته باشیم. وقتی ما فاو، شلمچه و جزایر مجنون را نداشته باشیم. آن قدر راحت می‌شود به امام گفت که ما هیچ برگ برنده‌ای از عراق نداریم که هیچ، عنقریب ممکن است لشکر دشمن بیاید و بخش‌هایی از خاک کشورمان را بگیرد. پس لطف کنید از سرسختی‌‌تان دست بردارید و کوتاه بیایید و بپذیرید!

مولّف کتاب «راز قطعنامه» یادآور شد: سال 1366 عملیات بزرگی را برای غرب کشور معروف به عملیات حلبچه طراحی کردیم و تقریبا اکثریت نیروها را به غرب کشور گسیل داشتیم و تنها درصد ناچیزی نیروها را در جنوب و در فاو نگه داشتیم. آن موقع سردار رشید نسبت به این کمبود نیروها در فاو هشدار داده و گفته بود که عراق در تدارک حمله‌ای گسترده به فاو است و این در حالی بود که ما نیروی کمی برای نگهداری فاو در آنجا مستقر کرده بودیم. خلاصه اینکه پس از خالی شدن جبهه جنوب صدام حمله کرد و فاو را بازپس گرفت و حدود 1200 نفر از رزمندگان در آنجا به شهادت رسیدند. این‌گونه بود که موقعیت ما در جنوب غرب کشور به هم ریخت.

وی تأکید کرد: موضوع دیگری را هم داخل پرانتز عرض می‌کنم. آقای هاشمی در 27 تیر 67 مصاحبه‌ای می‌کنند؛ درست همان روزی که پذیرش قطعنامه توسط جمهوری اسلامی از رادیو و تلویزیون اعلام می‌شود. وی می‌گوید تا قبل از حادثه اسقاط هواپیمای مسافربری ایران ایر توسط آمریکا یعنی 12 تیر 67 بحث در زمینه پذیرش قطعنامه 598 اصلا مطرح نبود. در حالی که ما دیروز عصر به نتیجه نهایی رسیدیم و از شب گذشته نیز در صدد اعلام به سازمان ملل برآمدیم.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» در ادامه اظهارداشت:‌ آقای محسن رضایی در سال 1387 طی مصاحبه‌ای می‌گوید که ایران قطعنامه 598 را یک سال قبل به صورت مشروط پذیرفت؛ ولی بنابر دلایلی آن را اعلام نکرد. لذا از هر نوع اظهار نظر منفی در مقابل قطعنامه جلوگیری شد. در جلسات خصوصی با سران کشورها آن را یک قدم مثبت تلقی می‌کرد و فعالیتهای مقدماتی در سازمان ملل را برای پذیرش آن شروع کرده بود.

وی اضافه کرد: بعد آقای هاشمی در مصاحبه با سایت آینده در سال 90 به این صحبت آقای رضایی اشاره می‌کند و می‌گوید این برخلاف واقعیت است. همان روزی که تصمیم به پذیرفتن گرفتیم و با امام مطرح کردیم و ایشان پذیرفت، اعلام کردیم. شاید نظرشان در بین خودشان باشد.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» بر همین اساس افزود: باز محسن رضایی در هفته دفاع مقدس سال 88 صحبت می‌کند و می‌گوید که خیلی‌ها فکر می‌کنند ایران در سال 67 قطعنامه را پذیرفت اما ایران یک سال قبل قطعنامه را پذیرفته بود اما بنا نبود که این موضوع افشا شود تا مذاکرات پیش برود و مانعی برای انجام مذاکرات پیش نیاید.

وی ادامه داد: سردار حسین علایی که از ارادتمندان آقای هاشمی است در جلد دوم کتاب «روند جنگ ایران و عراق» می‌نویسد: ایران قطعنامه 598 را بعد از تصویب در شورای امنیت رد نکرد و پس از دو ماه از تصویب آن به صورت مشروط پذیرفت ولی به منظور عدم تاثیر منفی بر رزمندگان از اعلام رسمی پذیرش آن خودداری کرد تا فرصت رایزنی را از دست ندهد. در 5 آذر سال 66 سفیر شوروی در امارات متحده عربی گفت که شوروی علائم مثبتی از عراق و ایران درباره اجرای قطعنامه آتش‌بس شورای امنیت دریافت کرده است، اما افشای جزئیات امکان‌پذیر نیست.

وی با بیان اینکه در تاریخ 21 دی 66 شاهزاده عبدالله ولیعهد وقت عربستان می‌گوید که جنگ ایران و عراق در سال میلادی جاری به طور عملی پایان خواهد یافت، افزود:  تمامی دلایل نشان می‌دهد این جنگ به مراحل پایان خود نزدیک شده است؛ در 13 اسفند 66 حدود 5 ماه قبل از پذیرش رسمی قطعنامه، آقایان با دیپلماسی پنهانشان رفتند در شورای امنیت اعلام کردند که ما قطعنامه را پذیرفتیم، ‌خب امام که به شدت مخالفند، رئیس جمهور که مخالف است، رزمنده‌ها و فرماند‌هان هم که مخالفند.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» افزود: تا وقتی که ما این نقاط قوت را داشتیم امام حاضر به پذیرش قطعنامه نمی‌شوند، رزمندگان و فرماندهان حاضر به پذیرش نمی‌شوند، پس چکار باید کرد؟ باید کاری کرد که همه این نقاط قوت ما تبدیل به نقطه ضعف بشود، همه این نقاط استراتژیکی که دست ماست یکی یکی از دست ما بیرون برود و به دست عراقی‌ها تصرف بشود تا ما در موضع ضعف باشیم و حالا از موضع ضعف به امام خمینی فشار وارد کنیم که باید قطعنامه را بپذیریم.

وی گفت: در کتاب آورده‌ام که وزارت اطلاعات از چند ماه قبل از عملیات کربلای 10 چندین بار به سپاه هشدار می‌دهد که عراق دارد قوای خودش را آماده می‌کند که بیاید فاو، ‌شلمچه و جزایر مجنون را بگیرد. سردار رشید در گزارشی که به آقای محسن رضایی دارد اشاره می‌کند: صدام 4صدهزار نیرو در بصره و العماره جمع کرده است، حدود 3هزار تانک و توپ و کلی نیرو و تجهیزات آماده کرده، این‌ها آمده‌اند که فاو و مناطقی که دست ما است را بگیرند، این هشدار‌ها را آقای سردار رشید چند ماه قبل از عملیات کربلای 10 به آقای محسن رضایی می‌دهد.

مولّف کتاب «راز قطعنامه» تصریح‌کرد: سوال این است که ما به‌جای اینکه بیاییم نیروهای مستقر در فاو را تقویت کنیم تجهیزات و امکانات به آنجا منتقل کنیم و نیروهایمان در جزیره مجنون و شلمچه را تقویت کنیم، چرا می‌آییم برعکسش عمل می‌کنیم؟ عقب‌نشینی ما از فاو ظرف 24 ساعت هیچ توجیه نظامی ندارد؛ این چیزی است که تا الان از آقایان کسی سوال نکرده که بیایند به مردم جواب بدهند، شما در حالی که خبر دارید که دشمن دارد خودش را آماده حمله به این جبهه‌ها می‌کند، به جای اینکه این نقاط و این جبهه‌ها را تقویت کنید نیرو‌ها را جمع می‌کنید می‌برید هزار کیلومتر دور‌تر، که در این مناطق نباشند؟! این چه معنایی دارد؟

وی در پایان خاطرنشان کرد:‌ جز این است که بناست جوری عمل شود که ما این مناطق را یکی یکی از دست بدهیم و بعد بیاییم به امام خمینی فشار وارد کنیم که بله عراق دارد همینطور پیشروی می‌کند و ما توانایی مقاومت نداریم و باید قطعنامه را بپذیریم؟! این چیزی است که بعضی از آقایان از اینکه مردم بدانند به شدت احتراز می‌کنند، این یکی از مطالب بسیار مهم بحث پایان جنگ و پذیرش قطعنامه است.


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
عوام کو اپنا دفاع خود کرنیکا کہنے پر مجبور ہیں

شیعہ ایک فرقہ نہیں بلکہ ایک مکتب ہے ۔

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

ولایت فقہاء  یا   ولایت فقیہ؟

آج جب ولایتِ فقیہ کے سسٹم اور نظام نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوالیا ہے ۔اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرکے ان کے غیر دینی عزائم کو خاک میں ملادیاہے ۔دنیا کے ظالموں اور مستکبروں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار اور مظلوموں اور مستضعفوں کا حامی و مددگار ہونے کے حوالے سے یکتا و بے مثال نظر آتا ہے ۔ حق و باطل کے درمیان کسوٹی و میزان بن چکا ہے۔پوری دنیا میں اسلام و مسلمانوں کی متاعِ مسروقہ کو واپس دلوانے کاخواہش مند ہے ۔ مستضعفین  ومحرومین ِ جہاں کی آخری امید حضرت بقیہ اللہ کی عالمی حکومت کی زمینہ سازی کرنے میں مشغول ہے ۔

ایسے میں کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ولایت ِفقیہ کہنا غلط ہے بلکہ ولایت فقہاء   صحیح اور درست ہے ۔یہ حضرات دلیل یہ دیتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐکے بعد سلسلہ امامت و  ولایت بارہ  اماموں میں منحصر ہےجو سب کے سب معصوم ہیں  ۔عصرِحضور میں محمد و آل محمدؑ اپنے نائبین اور جانشینوں کو نام لے کر معین کرتے تھے ۔یہ سلسلہ غیبت صغریٰ تک جاری رہا۔غیبت کبری میں امام زمان ؑ نے تمام  جامع الشرائط علماء و فقہاءکو نا م لیے بغیر مساوی طور پر اپنا نائب وجانشین  بنایا ہے۔کیونکہ علماء و فقہاء معصوم نہیں ہیں ان سے غلطی سرزد ہو سکتی ہے لہذا ان میں سے کسی ایک کو ہم ولی ورہبر  نہیں مان سکتے ۔پس ہر زمانے میں ایک ولی فقیہ نہیں ہوگا بلکہ جتنے علماء و مجتہدین ہو ں گے وہ سب کے سب ولی فقیہ کہلائیں گے۔خواہ وہ  ایک ملک  کے اندر ہی کیوں نہ ہوں چہ جائیکہ دو ملکوں میں ہوں ۔پس اگر ایران میں ولی فقیہ حاکم ہیں تو ان کی اطاعت دیگر ممالک پر واجب نہیں چونکہ ان  کے انتخاب میں بھی غیر ایرانی  شامل نہیں ہیں ۔

یہ استدلال چند جہات سے ناپختہ ہے ۔ اول تو یہ کہ تمام آئمہ اطہار ؑ  حتی خود پیغمبر اکرم ؐ  نے صرف نام لے کر  علماء  کو نائب نہیں بنایا   بلکہ تمام معصومین ؑ نےجامع الشرائط  فقہاء ومجتہدین کو  اپنی نیابت میں ولایت  و رہبری کا حق دیا ہے ۔احادیث  کو دیکھا جائے تو بہت سی جگہوں پر ملتاہے  کہ تمام مجتہدین  خواہ وہ عصرِ غیبت میں ہوں یا عصر ِحضور میں سب کو  نام لیے بغیر عوام پرحاکم و  سرپرست  نصب کیا ہے ۔

دوسرا یہ کہ جس سبب سے ایک مجتہد کو رہبر و لی نہیں مان رہے وہ سبب تو سب میں موجود ہے یعنی سب سے خطا ہوسکتی ہے  تو کیا پھر سب کو رہبر نہ ماناجائے؟اور اس سے بڑھ کر اگر غلطی کے خوف سے ان کی ولایت کا انکار  کیا جارہا ہےتومراجع ِعظام کی تقلید کیوں کی جاتی ہے؟کیونکہ ان میں بھی تو غلطی کا احتمال موجود ہے ۔جبکہ مراجع کرام کی تقلید پر شیعہ سنی علماء و عوام کا اتحاد و اتفاق ہے باوجود اس کے کہ ان کا یقین ہے کہ مراجع سے غلطی ہوسکتی ہے ۔

تیسرا یہ مطلب  درست ہے کہ آئمہ کی طرف سے تمام علماء کو مساوی طور پر حقِ ولایت  ملا ہے لیکن دوسری کئی قرآنی،روائی ،عقلی اور سیرت کی دلیلیں تقاضا کرتی  ہیں کہ رہبر و حاکم سارے نہیں ہیں بلکہ  ایک ہے ۔

1۔انبیاء اور آئمہ ؑ کی سیرت و سنت:۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور ان کے اوصیاء و جانشین گزرے ہیں کسی جگہ سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتاکہ دویا چند  نبیوں ،رسولوں  ،اماموں یا وصیوں نے مل کر عوام پر حکومت کی ہو بلکہ ہمیشہ ایک الٰہی نمائندہ حاکم و رہبر ہوتا تھا جبکہ دوسرے اس کے معاون و مددگار۔خود  رسول اکرم ﷺ،امیرالمومنین ؑامام حسن ؑاور امام حسینؑ دس سال سے زیادہ اس ظاہری زندگی میں اکٹھے رہے لیکن امام و رہبر  رسول خدا  ﷺہوتے تھے  اور ان کی وفات کے بعد امیرالمومنینؑ   ۔ حتی ٰ حضرت علی ؑکی شہادت کے بعد امام حسنؑ و حسین ؑدونوں بھائی تھے دونوں بیک وقت امام  و رہبرِِمسلمین نہیں تھے بلکہ سید الشہداءؑ کی ظاہری امامت امام حسن ؑ   کی شہادت کے بعد شروع ہوئی۔

2۔ امام  ِ معصومؑ کا واضح و صریح حکم:۔ امام علی رضا ؑ سے پوچھا گیا۔امام و رہبر ایک کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا : اول تویہ ہے کہ  ایک رہبر کی تدابیر اور فیصلوں میں اختلاف نہیں ہوتا لیکن اگر دو یا  دو سے زیادہ افراد امام ہو ں تو ان کا ایک رائے پر متفق ہونا مشکل ہوتاہے۔ ہمیں آج تک کوئی ایسے دو آدمی نہیں ملے کہ جن کی تمام موارد میں ایک ہی فکر اور رائے ہو ۔ پس اگر دونوں کی اطاعت واجب ہو  اور دونوں کی فکر و رائے بھی مختلف ہو تو معاشرے میں حرج و مرج   پیش آئے گا۔اور اگر صرف  ایک کی اطاعت کی جائے تو دوسرے کی نافرمانی  کا باعث بنے گی ۔اگر آدھی عوام ایک کی اور آدھی دوسرے کی اطاعت کرے تو اجتماعی اختلاف کے ساتھ ساتھ پوری عوام نافرمان اور معصیت  کار ثابت ہوگی ۔

دوسرایہ کہ دونوں کے واجب الاطاعت ہونا  الہی حدود ، احکام اور حقوق کے ضیاع  کا پیش خیمہ بنتا ہے ۔اس لیے کہ عوام ان رہبروں میں سے اپنی مرضی کے رہبر کی طرف جائیں گے  اور رہبروں میں سے بھی ہر ایک دوسرے کے خلاف فیصلہ کرے گا۔

تیسرا یہ کہ  اگر کہا جائے کہ اس کا امر و نہی مقدم ہو گا جو پہل کر جائے  تو پھر ہم کہیں گے کہ دونوں ذاتی  وصفاتی طور پر صلاحیت رکھتے ہیں تو پہلے کو کیوں حکومت  و رہبری ملے؟اور دوسر ا پہلے کے حکم  صادر کرنے کے بعد کیوں نہیں مخالفت کر سکتا؟ اس بات کو بھی قبول کرنے سے الٰہی حقوق و حدود پامال ہوں گی۔ (عیون اخبار الرضاؑ ،  ج2۔)

3۔ ایک رہبر دوسری شخصیات سے مشورہ لے سکتا ہے اور تمام علماء  و ماہرین اپنی اپنی رائے رہبر تک پہنچا سکتے ہیں البتہ مسلط نہیں کرسکتے  کیونکہ فیصلہ رہبر  اور حاکم کرے گا۔اور پھر سب کے مشوروں پر عمل کرنا ناممکن بھی ہےاور غیر عقلی بھی ۔جس طرح خداوند متعال قرآن مجید میں رسول اللہ ؐ کو لوگوں سے مشورے لینے کے بعدکام کرنے کا حکم دیتاہے اور  فرماتا ہے :

وشاور ھم فی الامر     فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ۔    آلِ عمران ، 159۔یعنی اجتماعی امور میں لوگوں سے مشورہ  کرو  اور پھر جب  کسی کام کا عزم کرلیا  تو خدا پر توکل کریں۔

اگر تمام مجتہدین کو ولایت و حکومت دے دی جائے تو معاشرے یا امت  میں اختلاف  و خلل  ایجاد ہوجائے گا۔کسی مہم مسئلے میں ان رہبروں  کے درمیان اختلاف      اس نظام اور معاشرے  کے مختل ہونے کے لیے کافی ہوگا۔مثلا ایک امت کے تین رہبر ہوں اور اس امت کو کوئی مشکل پیش آئے اور تینوں الگ الگ راہِ حل پیش کریں تو اس حالت میں اس امت کا کیا حشر ہوگا ۔(وہی حشر ہوگا جو آج عراقی و پاکستانی قوم کا ہے۔) امام علیؑ  فرماتے ہیں :

رہبروں کا شریک قرار دینا اضطراب اور بے نظمی کا باعث ہے لیکن رہبر کا مشورہ لینا  حق کے زیادہ قریب ہے ۔

5۔ امام معصوم ؑ کا مشہور فرمان ہے کہ سفر کے دوران اگر چند افراد ہیں تو ان میں ایک کو سفری امور میں رہبر بنالو۔

یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ جب امام معصوم ؑ چند گھنٹوں کے لیے  بغیر امامتِ واحدہ کے نہیں رہنے دیتے تو پوری زندگی بشر کو کیسے شترِ بے مہار کی طر ح چھوڑنے کے قائل  یا مختلف رہبروں کے حوالے کرسکتے ہیں ؟

6۔ بعض چیز وں کا وجود خود ہی  اس  بات کا دلیل ہوتا ہے کہ وہ واحد و یکتا ہوں اور ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔سب سے پہلے ذاتِ باری تعالیٰ عزو جل ہے کہ جس  کا وجود خود اس  بات کا متقاضی ہے کہ اس کا کوئی شریک و ثانی  نہ ہو اور اس کی دوسری مثال رہبر و امام کی ہے ۔اگر کسی کی امامت و خلافت  اور رہبری و حکومت ثابت کی جائے تو عقل بلافاصلہ  فرمان جاری کرتی ہے کہ اس امام کا  کوئی ثانی و  شریک ِکا ر نہ ہو ۔

لو کان فیہما آلہۃ الا اللہ لفسدتا۔انبیاء ،22۔

اگر زمین و آسمان میں خدا کے علاوہ کوئی اور بھی خدا ہوتا تو یہ زمین و آسمان تباہ وبرباد ہوجاتے۔

یہ آیہ کریمہ  بھی مذکورہ عقلی فیصلے کی طرف  اشارہ کررہی ہے ۔در اصل یہ آیہ تو حیدِ ربوبیت و خالقیت کو بیان کررہی ہے لیکن اسی کے ذیل میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جس قاعدےو  کلیے کے تحت خدا کی توحید ثابت ہوتی ہے اسی سے امام  و رہبر کی وحدت بھی ثابت ہوتی ہے ۔                        (شمیم ِولایت ، ص 180) 

۷۔ بعض لوگ جو اس بہانے سے ولایت فقیہ کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ولی فقیہ کے انتخاب میں مثلا ہم شامل نہیں ہیں اور ولی فقیہ کو چونکہ فقط ایرانی علماء  منتخب کرتے ہیں اور دیگر ممالک والوں نے اسے ووٹ نہیں دیا لہذا اس کی اطاعت بھی صرف ایرانیوں پر ہی واجب ہے ۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کا یہ اعتراض صرف ولایت فقیہ پر ہی نہیں رہتا بلکہ چودہ سو سالہ  مرجعیت کے ساتھ ساتھ حضرت علی ؑکی امامت پر بھی ہوتا ہےبلکہ یہ وہی اعتراض ہے جو معاویہ  نے کتنی بارحضرت علی ؑکی طرف لکھے گئے خطوط میں کیا تھااوروہ   یہ تھا کہ  میں نے تو آپ کی  بیعت نہیں کی تو پھر کیوں مجھے اپنی اطاعت پہ مجبور کرتے ہو۔تو حضرت  ؑنے فرمایا  : تونے تو سابقہ خلفاء کی بیعت بھی نہیں کی تھی بلکہ اب کی  طرح اس وقت بھی صرف اہل ِ مدینہ نے بیعت کی پھر بھی تو   ان کی اطاعت واجب سمجھتا تھا تو اب تجھے  کیا ہوا؟

یہی جواب آج بھی ولایت پر اعتراض کرنے والوں کو دیا جائے گا کہ سابقہ کئی سو سالہ مرجعیت کے چناو میں کتنے ہندی و پاکستانی ہوتے تھے کہ آج تک بحمدِاللہ     جہانِ تشیّع  ایرانی و عراقی علماء کےمنتخب  شدہ مراجعِ عظام  کی تقلید کرتی آرہی ہے ۔تو جو دین مراجع کی تقلید کا حکم دیتاہے وہی دین ولایت  وامامت کے نظام میں زندگی گزارنے کا حکم دیتاہے  اور طاغوتیت کے منحوس سائے سے نہی اور منع کرتاہے ۔

 

پس خدارا   !!  اس ستم دیدہ  اور مظلوم امت کو راہِ امامت و ولایت سے روکا نہ جائے اور امت و امام کے درمیان جوتحجر،بےشعوری،ظلم و ظالم پر خاموشی ،خواب ِغفلت و جہالت کے  ڈیم اور بند باندھے گئے ہیں ان کو دور کیا جائے یعنی اسلام ِناب ِ محمدی  ،اسلامی انقلاب اور نظامِ ولایت ِفقیہ کو تشنگان ِحق و حقیقت تک پہنچایا  جائے تاکہ یہ امت جامِ ولایت  نوش ِ جان کرسکے اور اس کی روحانی و جسمانی  آفات کا خاتمہ ہوسکے۔ 
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

تحریک بیداری ایک الہی و تاریخی ضرورت

بیداری ایک ایسی چیز ہے جس کو علما ء کرام نے انسان کے اسلامی ،ایمانی ،انفرادی اور  اجتماعی سفر کی بنیاد اور پہلی سیڑھی قرار دیا ہے ۔عربی میں بیداری کو  یقظہ اور صحوہ کہتے ہیں جبکہ اردو میں لفظ بیداری  جاگنے ، چوکنا ،خبردار اور ہوشیار رہنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔غفلت ،بے توجہی اور بے حسی اس کے متضاد الفاظ میں سے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب نے  اسلامی بیداری کو تجدید حیات اسلام و مسلمین قرار دیا ہے ۔اگرچہ شروع سے ہی رہبر انقلاب بہت عظیم  بیدار گر  تھے  لیکن آپ نے بھی آخری چند سالوں میں خصوصی طور پر بیداری کی تحریک شروع کی اور پورے عالم سے عموما اور عالم اسلام سے خصوصا   امت مصطفی  کے مختلف طبقات مثلا    علما ء ،دانشوران ، اساتید ، پروفیسرز،  ڈاکٹر ز ،اسٹوڈنٹس ،جوانان ،خواتین او ر فعال لوگوں جدا گانہ طور پر دعوت دے کر عالمی کانفرنسز  کا انعقاد کیا اور اس میں باقاعدہ طور پر بیداری کی تاریخ ،عوامل و اسباب ،آفات ومشکلات اور اس کے اہداف و مقاصد   کے بارے میں گفتگو فرمائی۔

الہی دین کی تحریک کا آغاز و انجام تو عظیم اور بے مثال ہے لیکن درمیانی عرصےمیں اسلام و مسلمانوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ۔وفات رسول اکرمﷺ کے بعد سے دین و سیاست کی جدائی کا سلسلہ شروع ہو گیا اگرچہ تمام زمانوں میں حکومت اور اقتدار دین کے نام سے ہی حاصل کیاگیا اور کسی نے نہیں کہا کہ حکومت کا دین سے کیا تعلق ؟بلکہ سب قبول کر لیتے تھے ۔یہ بات اس  امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عام عوام کے اندر اس قسم کا کوئی انحراف موجود نہیں تھا۔یہ کچھ خواص تھے کہ جو عملی میدان میں اپنے مفادات کی خاطر  اس انحراف کا شکار ہوتے رہے ۔بعض علماءکا ان منحرف اور طاغوتی حکومتوں میں شریک ہونا ایک مجبوری او ر ضرورت ہوتی تھی جس کی وجہ امت کا میدان میں نہ ہونا وغیرہ تھی   وگرنہ وہ  ظالم و فاسد نظاموں میں دخول کواپنے لیے ننگ و عار سمجھتے تھے۔

بہر حال پیغمبر اکرم ﷺکی وفات کے بعد چند صدیوں تک اگرچہ نام نہاد ہی سہی لیکن ایک حد تک مسلمان اپنے تمدن ،ثقافت ،علوم و فنون اور اجتماعیات میں  اظہار وجود کرتے تھے لیکن آخری کئی صدیوں سے مسلمانوں کا وہ عروج نہیں رہابلکہ سقوط  و  زوال  کی حالت رہی اور اسلام ناب محمدی اتنی ساری مدت  کتابوں اور علما ء کے سینوں کی زینت بنا رہا۔

امام خمینی منشور روحانیت کے عنوان سے ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب دشمنان اسلام نے دین و سیاست کی جدائی کا پروپیگنڈا کیا تو مسلمانوں نے  غفلت اور بے توجہی کا مظاہرہ کیا اورحتی علما ء نےبھی  اس پر منفی رد عمل دکھانے کے بجائے  اس کو اپنا نظریہ  اور ایمان بنا  لیا حالانکہ اسلام ایک سیاسی و اجتماعی دین ہے ۔جس کی ابتدا مدینہ میں خاتم الرسل کی سیاست وحکومت سے ہوئی او ر انتہا خاتم الآئمہ کی عالمی حکومت پر ہوگی ۔امام علی نقی  ؑفرماتے ہیں : اہل بیت اطہار ساسۃ العباد یعنی لوگوں کے سیاستدان اور سیاسی لیڈر و  پیشوا ہیں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے  جس کی عبادت بھی سیاست ہے ۔اسی طرح آیت اللہ سید حسن مدرس فرماتےہیں:ہماری سیاست عین دین اور ہمارا دین عین سیاست ہے۔

اسی نکتے کی طرف گزشتہ صدی میں سید جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال جیسے دین شناس ، درد مند اور با بصیرت مفکر اور مصلحوں نے توجہ دلائی اورکئی صدیوں بعد  اسلامی بیداری  کابابرکت سلسلہ شروع کیا۔ عروہ الوثقی جیسے عظیم فکری ،علمی اور انقلابی رسالے کے ذریعے امت مسلمہ کو بیدار کیا اور شہید مطہری کے بقول مسلمانو ں کو سر سید احمد خان جیسے اسوہ اور ماڈل سے بر حذر کیا اور مختلف ممالک میں جا کر تقاریر کیں اور دین و سیاست کے رابطے کو بیان کیا استکبار ،استعمار و استبداد کے خلاف امت کو اکسایا نیز تمام مشکلات اور دردوں کے حل کے لیے اسلام حقیقی کی طرف بلایا۔قومیت و ملیت کے بت سے اجتناب کو کہا۔اسی زمانے  کو شہید مطہر ی نے بیدار سازی اور اسلامی رنسانس کا نام دیا۔

سید جمال کی نہضت بیداری  سے  مصر میں سید قطب ،محمد عبدہ ،کواکبی   اور حسن البنا  ء جیسے مصلح پیدا ہوئے ۔فلسطین میں عز الدین  قسام نے اسرائیل کے خلاف مسلح مقاومت کی بنیاد ڈالی ۔عراق میں شہید باقر الصد ر آپ کی اس نہضت سے  بہت متاثر تھے۔ہندوستان میں  علامہ اقبال نے بھی سید جمال سے الہام لیتے ہوئے عالم اسلام کو جھنجھوڑا اور ان کو خواب غفلت سے جگایا ۔

اٹھو  اے دنیا کےغریبوں کو جگادو

کاخ  امراء کے  در و دیوار  ہلا  دو

ہندی مسلمانوں کو  مملکت عزیز خداداد پاکستان کا تصورپیش کیا ۔گویا مملکت پاکستان بھی سید جمال کی تحریک بیداری کے مبارک نتائج میں سے ہے۔آج بھی  اس ملک کی بقا اور اس میں الہی نظام کے نفاذ کے لیے بھی سید جمال اور علامہ اقبال جیسے  زیرک   ، دردآشنا ، بصیرت افروز ،دشمن شناس ،بیدارکرنے والے راہنما کی ضرورت ہے جو پاکستانی قوم کے اندر احساس زیاں پیدا کرے ۔اس کو اس کی متاع مسروقہ کی پہچان کروائے۔سر گردان قوم کے ہاتھ میں حبل اللہ تھمائے۔وہ کہ جو بقول علامہ اقبال قوم کو سلطان و طاغوت پرستی کے فتنہ میں مبتلا کرنے کے بجائے سایہ خدائے ذوالجلال میں لے آئے۔

  البتہ مصر و عراق میں اسلامی بیداری نےابھی تک  کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں کیا ۔ لیکن ایران میں بیداری نے اپنا عظیم اور الہی ہدف حاصل کر لیا ہے اور امام خمینی کی قیادت و رہبری میں اسلامی انقلاب  اور نظام امامت و ولایت کا قیام تینتیس سال سے درخشاں ہے اور دن بدن  مستحکم تر ہو رہا ہے۔آج امام خمینی کی تحریک بیداری کو شروع ہوئے نصف صدی گزر چکی ہےاور نہ صرف عالم اسلام بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور  یورپ ، امریکہ و افریقہ کے مسلم  و غیر مسلموں تک  بیداری  منتقل ہو  چکی ہے  لیکن امام و انقلاب کے ہمسائے میں موجود انقلابی اور     پر جوش ملت نے ابھی اس بیداری پر کوئی اثر نہیں دکھایا۔

سید جمال اور علامہ اقبال نے مسلمانوں کو خبر دار کیا کہ دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے صرف اعتقادی کفر و شرک سے بچنا کافی نہیں ہے بلکہ میدان عمل میں بھی خدا کی اطاعت اور اخلاص کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ خدا کو نہ ماننا اعتقادی کفر ہے اور مان کے اس کے فرمان پر عمل نہ کرنا عملی کفر ہے۔غیر خدا کو خدا کے کاموں میں مستقل طور پر شریک قرار دینا عقیدتی شرک ہے لیکن خدا پر ایمان لانے کے بعد نماز نہ پڑھنا یا ریاکاری کے ساتھ پڑھنا یا     اس کے بنائے ہو ئے نظام کے علاوہ کسی اور نظام میں زندگی گزارنا یا   ولی خدا کے علاوہ کسی اور کو اپنا حاکم و لیڈر ماننا عملی شرک  و کفر  ہے  اور مسلمان و مومن کو کفر و شرک کی ان دونوں اقسام سے دوری کا حکم ہے۔ اسی مطلب کو برصغیر کے عظیم اسلام شناس، توحید شناس نے اس طرح بیان کیا۔ 

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج   کیا   ہے   فقط   مسئلہ علم  کلام

روشن اس کی ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو

خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

اسی طرح مسلم رہبروں اور خواص کو مخاطب ہو کر علامہ اقبال فرماتےہیں:

میں نے اے میر سپاہ تیری سپاہ دیکھی

قل ھواللہ کی شمشیر سے خالی ہے نیام

 

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
سعدالله زارعی
قدس و فلسطین براساس فرهنگ وگفتمان حضرت امام خمینی- قدس سره- ‌با چند ویژگی عمدتاً منحصر به فرد شناخته می‌شود؛ «عامل همبسته ساز»، «عامل جهت‌دهنده»، «عامل حل اختلافات» و «معیار حرکت سازنده». بر این اساس قدس و فلسطین برای جهان اسلام فقط یک قطعه مقدس جغرافیایی نیست بلکه بیش از آنکه یک «فیزیک» باشد، جنبه انسانی و معنوی دارد به عبارت دیگر قدس و فلسطین به غیر از آنکه مقصد حرکت می‌باشد، عامل حرکت و معنادهنده به آن نیز می‌باشد قدس به‌عنوان عامل همبسته‌ساز می‌تواند همه اجزاء امت اسلامی را منسجم گرداند توجه همه مسلمانان به قدس، صف دوستان و دشمنان واقعی است اسلام را از یکدیگر جدا می‌کند آنکس که در قضیه فلسطین و قدس در کنار سایر مسلمانان قرار ندارد، در هیچ مورد دیگر هم در کنار مسلمانان قرار نمی‌گیرد بنابراین کسی که پای کار فلسطین می‌ایستد در سایر موارد نیز به میدان می‌آید و از این رو هیچ بخش از امت اسلامی خود را در مواجهه با دشمنان تنها نمی‌بیند اما زمانی که مسلمین به بخش‌های مختلف تقسیم شده باشند و هیچ فریاد واحدی میان آنان وجود نداشته باشد، به هیچ روی قادر به دفاع از هیچ بخشی از جهان اسلام نخواهند بود. امروز ما شاهد هستیم همه کسانی که قدس را فراموش کرده‌اند، در کنار غاصبان و حامیان اشغالگران قدس قرار گرفته و اعتنایی به منافع و امنیت مسلمانان ندارند برای تصدیق این داعیه می‌توانید به عراق، سوریه، لبنان، یمن، بحرین و... نظر بیاندازید.

قدس و فلسطین به‌عنوان «عامل جهت‌دهنده» از اهمیت خاصی برخوردار است. مسلمانان می‌توانند در هر مبحث عقیدتی، دیدگاه متفاوتی داشته باشند و می‌شود نام‌های متفاوتی را برای هر بخش جهان اسلام در نظر گرفت بخشی را تندرو، بخشی را کندرو و... لقب داد و برای مدت‌های طولانی درباره آنها صحبت کرد این صحبت‌ها ممکن است ضرری برای مسلمانان نداشته باشد اما سودی هم ندارد. وقتی پای فلسطین به وسط می‌آید همه بحث‌ها جهت‌دار می‌شود، بحث از فلسطین، بحث از یکی از مباحث عقیدتی یا جغرافیایی نیست که اختلاف در آن روا باشد. بحث فلسطین صف‌ها را از یکدیگر جدا می‌کند و از این طریق مردم می‌توانند حق را از باطل تشخیص دهند. آنکس که در بحث فلسطین دارای ثبات قدم بیشتری باشد، قابل اعتماد‌تر است و آنکس که فلسطین را در روزی که خطر و ضرری ندارد، یاری می‌کند و در روزی که صحبت کردن از فلسطین مستلزم هزینه است، کنار می‌کشند این‌ها در هیچ موضوع دیگری هم قابل اعتماد نیستند تجربه هم این را به روشنی ثابت کرده است.

همین ماهها و هفته‌های اخیر شاهد بودیم که گروهی از فلسطینی‌ها از سوریه فاصله گرفته و تلاش کردند تا ترکیه و قطر را جایگزین نمایند. اما حاصل این کار چه شد آیا قطر و ترکیه آنقدر ظرفیت دارند که از نیروهایی دفاع نمایند که در لیست سیاه آمریکا و اروپا قرار دارند. این عده از فلسطینی‌ها چند مورد کمک را به‌عنوان وضع جاری در این کشورها ارزیابی کردند اما به محض آنکه دفاع از فلسطینی‌ها به پرداخت هزینه و مخالفت با آمریکا نزدیک شد، این دو کشور حضور رهبران فلسطینی در دوحه را ممنوع کردند. در واقع فلسطین صف‌ها را از هم جدا می‌کند و به پیش می‌برد.

فلسطین و قدس مهمترین «عامل حل اختلاف» نیز به حساب می‌آیند. جدای از اینکه توجه و تمرکز روی موضوع مهمی همچون فلسطین می‌تواند اولویت موضوعاتی که نوعاً در درجه دوم اهمیت قرار دارند را از دستور کار خارج نماید. دفاع از فلسطین و کنار هم قرار گرفتن کشورهای اسلامی در این موضوع، حل اختلافات کشوری با کشور دیگر را آسان می‌گرداند یک لحظه تصور کنید که رهبران لیبی و رهبران الجزایر مشترکاً آزادسازی فلسطین را در دستور کار قرار داده‌اند و در همان حال در بعضی از موارد این دو اختلافاتی هم با خود به همراه دارند این اختلافات در سایه اهمیت دادن به قدس کمرنگ می‌شود و در نهایت امکان رفع و رجوع آنان فراهم می‌گردد. از این رو حضرت امام خمینی براساس رهنمود قرآنی می‌فرمودند روز قدس روز حرکت همه مردم است.

قدس و فلسطین به عنوان معیار درستی حرکت نقش بی‌بدیلی در تشخیص آنچه باید و آنچه نباید دارد. در واقع حرکت فقط قدس‌گرایانه نیست بلکه بیش از آن قدس‌گونه است بر این اساس می‌توان گفت تا زمانی که قدس و فلسطین آزاد نشده‌اند هر برنامه اساسی جهان اسلام باید به یک پیوست مهم به نام آزادی فلسطین و قدس همراه باشد؛ با این دو معیار است که هر اقدام دیگری در مجموعه جهان اسلام توجیه و معنا پیدا می‌کند. در واقع ساختن برج‌های شیشه‌ای در جهان عرب بدون مهار خطر تهاجم رژیم اسرائیل مانند نقاشی روی آب است و متأسفانه ما مشاهده می‌کنیم که علی‌رغم وجود این دشمن لجوج، جهان عرب به هر اقدام بزرگ در حوزه رفاه عمومی دست ‌زده است. و حال آنکه عقل سلیم حکم می‌کند که اول محیط اطراف را اصلاح نمائیم.

متأسفانه طی دو سال اخیر شاهد بروز شکاف‌های جدیدی در جهان اسلام بوده‌ایم امروز در اکثر نقطه‌های این منطقه درگیری حاکم است و خون برادران مسلمان توسط برادر مسلمان دیگر به زمین ریخته می‌شود. در کنار این ریخته شدن خون‌های مسلمانان ما شاهد تفرقه‌های جدیدی در جهان اسلام هستیم و این می‌تواند همه حیات اجتماعی جهان اسلام را تهدید کند. این تفرقه‌ها هر کدام با راه‌افتادن انواعی از تهمت‌ها و افتراها همراه است و محیط اجتماعی آنان را آکنده از سوءظن کرده است!

ای کاش مسلمانان روی چند خطوط قرمز توافق می‌کردند و راه را بر دشمنان خود می‌بستند. مسلمانان می‌توانند به تبعیت از قرآن کریم روی موارد زیر توافق نمایند:

1- «خون مسلمانان»، قرآن کریم ریخته شدن خون مسلمان توسط مسلمان دیگر را نهی کرده است. این می‌تواند یک خط قرمز باشد. جالب این است که در جهان امروز ما غرب بدون آنکه برای انسان ارزش ماندگاری قایل باشد، از افراد مسیحی در هر کجا که باشند دفاع می‌نمایند.

2- «سیطره غرب»؛ این سیطره با توجه به سرگذشت اغلب کشورهای اسلامی طی 300 سال اخیر کاملاً محسوس می‌باشد. در این دوران بخش‌های وسیعی از جهان اسلام تحت اشغال نظامی مستقیم غرب بوده‌اند و پس از طی میلیتاریزم به تصرف وابستگان بومی آنان درآمده‌اند. امروز هم اکثر مسلمانان احساس می‌کنند که غرب در امور مربوط به آنان مداخله و به خرابکاری اشتغال دارند. نفی سیطره غرب که امروزه در سطوح ملی برای هر کشور تبدیل به یک مطالبه شده است می‌تواند بعنوان مطالبه عمومی در دستور کار قرار بگیرد.

3- «وحدت جهان اسلام» بدون تردید هیچ مسلمانی از گسیخته شدن بخشی از بخشی دیگر جهان اسلام حمایت نمی‌کند بلکه همه توده‌های مردم در همه کشورهای اسلامی خواستار وحدت و همدلی هستند. این مطالبه ظرفیت آن را دارد که علمای دینی از هر طرف که باشند، دور هم جمع کند و از حاکم شدن دوگانگی و ستیز میان آنان جلوگیری کند. امروز جهان مسیحی تا حد زیادی به وحدت رسیده است و هر کشور مسیحی در حمایت از کشور مسیحی دیگر در آفریقا و آسیا به میدان می‌آید ولی متأسفانه این وضع در جهان اسلام بحرانی است.

4- «استقلال و تمامیت ارضی کشورهای اسلامی»؛ استقلال هر کشور رابطه مستقیمی با توسعه و ترقی آن کشور دارد. این استقلال البته در ابعاد سیاسی، ‌فرهنگی، اجتماعی و اقتصادی قابل اشاره است ولی در اینجا منظور عمدتاً استقلال سیاسی و سرزمینی است. اگر مسلمانان حفظ مرزهای فعلی جهان اسلام را یک هدف مهم به حساب آورند و بخاطر مباحث ستیزه‌جویانه‌ای که هیچگاه هم نتیجه‌ای در برنداشته است، علیه یکدیگر نباشند، دستکم نیمی از مشکلات جهان اسلام حل می‌شود. همین الان عراقی‌ها هزینه سوءظنی را می‌پردازند که برادران مسلمان در یک یا چند کشور همسایه در یک طرح آمریکایی علیه برادران خود روا می‌دارند کما اینکه همین وضعیت در سوریه،‌در... است.

5- «حفظ نوامیس مسلمانان»؛ همانگونه که هر فرد ناموس دارد و هر ملت ناموس دارد امت اسلامی و مکتب مسلمانان نیز ناموس دارند. ناموس عبارت است از آن «امر مشترک حساس واجب الحرمه» تردیدی نیست که قرآن کریم در رأس نوامیس مسلمانان قرار دارد و پس از آن شخصیت حضرت محمدبن عبدالله (ص) قرار دارد و در مراحل بعد شخصیت‌های مشترک فیه دیگر قرار دارد. مسلمانان باید بطور یکپارچه در برابر هر عامل اهانت‌گر و یا تهدیدگر علیه نوامیس مسلمانان بایستند و اگر ایستادند آنوقت کسی جرأت نخواهد کرد به کتاب خدا،‌یا پیامبر خدا جسارت نماید.

6- «منافع و امنیت مسلمانان»؛ منفعت عمومی و مشترک مسلمانان و امنیت آنان یک موضوع مشترک است که باید به مطالبه عمومی و فراگیر مسلمانان تبدیل شود. اگر در کنار هم بودن برای مسلمانان آفریقایی و آسیایی ما سود ملموس پیدا کند در موضوعاتی که به دلیل پیچیده بودن، سود آن ملموس نباشد هم کنار هم قرار می‌گیرند و آنوقت جهان اسلام به یک دژ مستحکم تبدیل می‌شود. در همه این موارد قدس و فلسطین می‌تواند سنگ‌بنا و بهانه آغازین باشد.


برای بسته شدن آب،از علی(ع) انتقاد کنیم یابا معاویه گفتگو؟!

 


 

 

  میں یہاں شیخ قطب الزاد کا ایک واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے امام خمینی کو لکھا کہ ہمارا جمال عبد الناصر سے ایک معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت شاہ کی حکومت کے خاتمے کے لیے وہ ایرانیوں کو مسلح کرنے کے لیے تیار ہے۔ امام نے جواب دیا کہ جتنا بھی وقت لگے ہم شاہ کے خلاف مسلح جدوجہد نہیں شروع کریں گے۔ ہم انتظار کریں گے کہ ایرانی قوم شاہ کی اس بربریت کے مقابلے میں خود سے قیام کرے۔

القاعدہ کے مرکزی راہنماشیخ نبیل نعیم کے اہم انکشافات اور نصیحتیں

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 
2: جواب دفتر آیت اللہ العظمٰی ولی امر المسلمین سید علی خامنہ ای کیطرف سے: ہم اسطرح کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے، لیکن پھر بھی اگر کوئی ایسا (ہماری نمائندگی کا) دعویٰ کرے تو ان سے دلیل کتبی طلب کرلیں، یعنی یہ کہ انکے پاس رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا خط موجود ہونا چاہئے کہ رہبر نے فرمایا ہو کہ ہم نے اس شخص کو خمس و زکات کے علاوہ سیاست میں بھی وکیل قرار دیا ہے۔ اگر کسی کے پاس امور سیاسی میں مداخلت کے حوالے سے رہبر معظم کا خط موجود نہ ہو تو وہ ہمارا نمائندہ نہیں ہے۔
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 


ادامه مطلب
+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

جمشید علی

 

حضرت فاطمہ الزہراء ،بیداری اسلامی کانفرنس اور فراموش شدہ اسوہ

یہ ایام  جناب فاطمۃ الزہرا ء کی ولادت با سعادت  کے ساتھ منسوب ہیں  جوں ہی جناب زہراء سلام اللہ علیھا  کا اسم مبارک سنائی دیتا ہے  ،مظلومیت ،ولایت، عظمت ،انسانیت وغیرہ  سب مفاہیم  ذہن کی طرف انسباق کرتے ہیں ۔اس عالم میں  ولایت  کی سب سے پہلی مدافعہ ولی اللہ کی بیٹی ، ولی اللہ کی زوجہ اور ولی اللہ کی ماں تھیں ۔رسول خداﷺ کی رحلت کے بعد جب شیر خدا کی ذوالفقار   پیامبر اکرم ﷺ کے حکم مطابق نیام میں چلی گئی اور اسلام  کا دفاع  میدان جنگ کے بجائے مسجدوں ،درباروں اور گھروں میں کرنا پڑا اس وقت رحمۃ للعالمین کےلیے رحمۃ قرار پانے والی شخصیت اللہ کے  حکم پر لبیک کہتے ہوئے وارد میدان ہوئیں اور نظام ولایت کو  کفر و نفاق کے طوفانوں اور ارتداد کی غضبناک موجوں سے محفوظ کر کےامن  کے ساحل تک پہنچا گئیں ۔

روایات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کو حضرت علی علیہ السلام کا کفو قرار دیا گیاہے ، تاریخ  میں نقل ہوا کہ جس طرح امیر المؤمنین علیہ السلام  نے اسلام کو  مختلف  مشکلات سے  اللہ تعالی کے فضل و کرم سے نکالا حتی کہ یوم الخندق  کی ایک ضربت کو  ثقلین کی عبادت سے  افضل قرار دیا گیا ہے کیونکہ اگر وہ ایک ضربت نہ ہوتی تو پورا اسلام خطرہ میں پڑ گیا تھا اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی رحلت کےبعد جناب زہراء سلام اللہ علیھا کے چند ایام نہ ہوتے تو روح اسلام  کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ جناب زہراء سلام اللہ علیھا نے اجتماعی ،انفرادی  دونوں  لحاظ سے ولایت کا دفاع فرما کر عملی نمونہ پیش کیا ہے ،ساتھ یہ درس بھی دیا ہےکہ اسلام اور ولایت کے تحفظ کے لیے مرد اور خاتون میں کوئی فرق نہیں بلکہ اگر مردوں کےلیے اسلام کی حفاظت میں مشکلات پیش آ جائیں تو خواتین کو میدان میں آنا پڑتا ہے اور جان کی بازی لگاکر بھی اللہ کی امانت کی حفاظت کرنا ہے ۔ ایک اہمبات یہ ہے کہ سید ہ زہرا   حضر ت علی کے حق میں   زوجہ  ہونے کی حیثیت سے  نہیں بلکہ امام کی امت ہونے  کی حیثیت سے  میدان میں حاضر رہیں  اور امامت و  ولایت کے الہی نظام کی حامی و ناصر قرار پائیں۔

ان ایام میں  بیداری اسلامی کی چھٹی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالم اسلام کےعلما و دانشوروں  نے شرکت فرمائی ، یہ بیداری بھی جناب زہراء سلام اللہ علیھا کی تحریک و  نہضت کا نتیجہ ہے اور آج بھی عالم ان کی خاموش تحریک کو  اپنے لیے اسوہ و  ماڈل قرار دے چکاہے ۔تمام اسلامی ممالک میں فاطمی استقامت کے مظاہر دیکھنے میں آرہے ہیں ۔

جب  مسلمان  آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد غافل ہوگئے ، غدیر میں شریک ہونے والے ایک لاکھ بیس ہزار   پتھر نما انسان  جب ولایت کو بھول  بیٹھے اور اسلامی تمدن پر خطرات  کےبادل منڈلانے  لگے  ولی زمان  کو گھر میں نظر بند  کر دیاگیا اور قانون زر پرست لوگوں کے ہاتھوں چڑھ گیا ،جس عرب معاشرہ میں ظلمت کی گھٹائیں دوبارہ چھانےلگیں اور نو رِ خدا کو  بجھانے کی ناکام کوششیں شروع ہو گئی تھیں استکبار نے   پر تول لیے تھے ،احکام خدا کو پس پشت ڈالنے کی سازشیں تیار ہو چکی تھیں ،عظیم معاشرہ کو دوبارہ  بیٹیوں کو زندہ درگور   کیے جانے والے دور کی طرف دھکیلا جا رہا تھا ،جہاں  ظلم کے تیر کمانوں میں رکھے جاچکے تھے جاگیر داری اور اشرافیہ پرستی  نےآنکھیں کھول لیں تھیں ،جہاں رسول اللہﷺکے صاحبان فضل اصحاب کو ذلیل و خوار کیا جا رہا تھا ،ضمیر مردہ اور  ہوائے نفس زندہ ہو رہی تھی الغرض غفلت کے پردے آنکھوں پر چھا چکے تھے ۔۔۔۔۔ ایسے میں  دین کا درد رکھنے والی،  رسول کے  قلب کا درجہ قرار پانے والی ، اللہ کی رضیہ اور مرضیہ  کنیز ، کل ایمان  کا نصف ایمان  کا درجہ حاصل کرنے والی اور بہشت کے سرداروں کی بہشت  قدموں میں رکھے ہوئے وارد میدان ہوتی ہیں اور بے ضمیر لوگوں کے ضمیر جگاتے ہوئے شیطان و شیطانی طاغوتوں  کےتمام راستوں کا سد باب کرتے ہوئے نظام ولایت کو  رہتی دنیا تک ایسے زند ہ کر دیتی ہیں کہ  دنیا کی استکباری ،استعماری اور استحماری طاقتیں اس کے سامنے بے بس و شکست خوردہ نظر آتی ہیں ۔قرآن کے وعدہ کو عملی جامعہ پہنایا ۔ ان کا عمل آج ہمارے لیے  مشعل راہ قرار پاسکتا ہے۔

 مسلمانوں نے اس طول تاریخ میں عروج و زوال کے مختلف نظارے کیے کبھی دنیا پر حکومت کی اور کبھی گوشہ نشین نظر آئے ، آج کا دور بھی اسلامی ملت کے لیے  زوال کا وقت شمار کیا  جاتا ہے ،گذشتہ ادوار میں مسلمانوں نے زوال کے بعد عروج کی طرف سفر شروع کیا اور عروج کو پا لیا ، اور آج ایک دفعہ پھر  مسلمانوں کے اندر بیداری کی لہر آچکی ہے ستم خوردہ امت مسلمہ سید جمال ، علامہ اقبال ااور امام خمینی کی محمدی فریادوں پر خانقاہوں سےنکل کر آزادی و حریت بخش میدانوں میں آ چکی ہے ۔  لیکن اس بلند ہدف اور  مطلوب نتیجہ تک ابھی دیر ہے  ۔ اہل فکر حضرات کو اس سفر کےموانع  پر غور کرنا چاہیے  ،آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ رہے ؟کیا جس وقت مسلمانوں کا عروج تھا اس  وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی ؟ کیا ان کے پاس اس دور سے بڑھ کر مفکرین موجود تھے ؟کیا ان کے پاس اسلحہ زیادہ موجود تھا؟ آخر عروج سے زوال کی طرف کیوں آئے  اس کےاسباب و عوامل کیا ہیں؟ وہ کونسی خوبیاں ہیں جو ان کے اندر موجود تھیں اور ہمارے اندر  موجود  نہیں ؟کونسی کمزوری موجب بنی کہ ہم اپنا اسلامی تمدن اور ثقافت ہاتھ سے دے بیٹھے ؟ کن ظالموں نے ہماری  عظیم میراث ہم سے چھین لی ؟ کیا وہ ظالم ہم خود تو نہیں؟روز اول سے اسلام دشمن عناصر متحرک ہو گئے تھے اور پھر ان کےمظالم سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن اس کےباوجود اسلام کا نام زندہ رہا ، ہمارے آباء و  اجداد نے اپنی  جانیں قربان کر کے اسلام کی حفاظت کی ، حامل قرآن و حامل دین بنے طاغوتی طاقتوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور  اپنے زمانہ کےحجاجوں کو خاک میں ملا دیا ، آج ہماری وہ غیرتیں کہاں گئی ہیں ؟ہمارے سامنے ہماری جانیں ضائع ہو رہی ہیں ،ہماری عزتیں لوٹی جا رہیں ہیں ہمارے درخشاں  تمدن  پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ہم اس دنیا میں امامت کیا کرتے تھے لیکن اب ہمیں ماموم کی حیثیت سے بھی کوئی قبول  نہیں کرتا ، ہماری پر برکت ثقافت کی جگہ شہوت،  غضب ، خود پرستی  اور نفرتوں نے لے لی ہے ،وہ خود اعتمادی ، اخوت ،  امانت ، شجاعت،پاک دلی ،بڑوں کا احترام اورچھوٹوں پر شفقت وغیرہ نا پید ہو گئی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ  ہم سے کوئی بڑا گناہ سر زد ہوا ہےجس کی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنی کرامات کےدروازہ تھوڑا تنگ کر دیا ہے ،شاید ہم اپنے اسلامی اصولوں کو بھو ل گئے ،شاید ہم نے دشمن کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا ،شاید ہم نے  دنیا سے دل لگا  کر آخرت کو الوداع کر دیا ،شاید ہم نفس کے پجاری بن گئے،شاید ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ دیا ، شاید ہم اپنی مدد آپ کی جگہ دوسروں پر امید لگا کر بیٹھ گئے اور افسوس امید بھی وہاں لگائے بیٹھیں ہیں جہاں سے اچھائی کی امید نہیں ،ان موجودہ طاقتوں پر امید لگا نا ایسے ہے جیسے کوئی چرواہا بھیڑیوں پر امید لگا بیٹھے کہ وہ میرے گلہ کی حفاظت کرے گا لیکن نتیجہ سب کو معلوم ہے ۔ تاریخ  کی عظیم اور مقاومت کےسردار  سید حسن نصر اللہ نے دنیا والوں پر ثابت کر دیا ہے کہ  چودہ سو سال پہلے کیا جانے والا اعلان ان تنصروا ینصرکم اللہ آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے تم اللہ پر توکل کرکے ظالموں اور مستکبرین کےخلاف ایک مُکا  ہِلا  دو ،   اِن کے  قصر خود بخود زمین بوس ہو جائیں گے۔

بیداری اسلامی کانفرس میں علماء اسلام سے خطاب کرتے ہوئے  فرزند زہرا ء رہبر مسلمین  نے چند اسلامی اقدار کی طر ف اشارہ فرمایا ہے جو اکثر دوستوں  کےگوش گذار ہو چکا ، سب سے اہم رہبران کا وظیفہ ہے  ان کےفرمان مطابق لیڈرز حضرات  کی ذمہ داری کئی برابر بڑھ  چکی ہے، ملتوں کی کامیابی رہبران کے خلوص پر مبنی ہے۔یعنی قومیں بیداری میں اپنے خواص پر برتری لے گئی ہیں اور خواص کو جہاں ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں ہیں کہ کوئٹہ کا حماسہ اس کی بہت بڑی مثال ہے ۔حسن اختتام کے طور پر مقام معظم حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای  (دام ظلہ ) کا جملہ ذکر کرتا ہوں ۔

انہوں نے  فرمایا:

 اگر ایک ملت اپنے  رہبران کی سچائی اور صمیمت کو  باور کر لے  وہ کبھی اپنے پر برکت حضور سے میدان کو خالی نہیں چھوڑے گی اور جہاں بھی ایک ملت عزم راسخ کے ساتھ میدان میں  آ جائے  اس  ملت  کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔

ہم فقط اللہ کےوعدوں کو باور کرلیں اور اسلام کی تعلیمات کو اپنا نصب العین قرار دے دیں فتح ہمارے قدم چومے گی  ، ہم اپنی عظمت رفتہ کو واپس  لے سکتے ہیں فقط ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ کہ ہم کر سکتے ہیں (مامی توانیم we can do.

+ نوشته شده در  ساعت   توسط نقوی  | 

امارگیر حرفه ای سایت