ولایت فقیہ از دیدگاہ مذاہب اربعہ

ولایت فقیہ اسلامی فقہ کے بنیادی اور قدیمی نظریات میں سے ہے ۔ تمام اسلامی مذاہب اور فقہی مسالک میں جلیل القدر فقہاء و مجتہدین نے اسے مورد قبول اور اپنی کتب زیر بحث لایا ہے ۔ان تمام بزرگوں نے اس نظریے کو خدا اور اسلام کا مسلم حکم قرار دیا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود عام طور پر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ولایت فقیہ شیعہ نظریات و اعتقادات  میں سے ہے اور صرف امامیہ فقہ کے ساتھ خاص ہے یا کچھ شیعہ بھی اس پر اعتقاد نہیں رکھتے چہ جائیکہ غیر شیعہ اسلامی فرقے و مسالک ۔

اس گمان کی وجہ یہ ہے ولایت فقیہ کو امام زمان کی غیبت کا منطقی نتیجہ سمجھا گیا ہے اور امام زمان کی غیبت کا اعتماد دوسرے مذاہب میں نہیں ہے پس ولایت فقیہ کا نظریہ بھی نہیں ہے ۔ 

اگرچہ حضرت مہدی ع کے آخر الزمان میں وجود تمام اسلامی مذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے اور پھر اس سے بڑھ کر منجی موعود کا عقیدہ تو نہ صرف اسلامی مذاہب میں مسلم و قطعی ہے بلکہ کئی غیر اسلامی ادیان جیسے یہودیت و عیسائیت  وغیرہ حتی غیر الہی ادیان یعنی انسانی مکاتب جیسے مارکسزم میں بھی منجی بشریت کا تصور و عقیدہ پایا جاتا ہے ۔

ولایت فقیہ کو تشیع اور امام زمانہ کی غیبت کے ساتھ خاص کر دینے کی وجہ سے اس نظریے کی نفی و انکار ہوا ہے اور اس کے بارے میں ہر فقیہ و مجتہد کی ذاتی و اجتہادی فکر و رائے کہہ دیا جاتا ہے اور فطری بات ہے جب کوئی نظریہ مخلتف آراء و نظریات کے مقابلے میں دیکھا جائے تو خواہ اس کے مضبوط اور مستحکم دلائل ہی کیوں نہ ہوں اس سے چشم پوشی کر دی جاتی ہے اور دیگر افکار و نظریات کی وجہ سے کمزور اور ضعیف گمان کر لیا جاتا ہے ۔
پس اس قسم کے سوالات و ابہامات کو حل کرنا چاہیے کہ کیا ولایت فقیہ کا نظریہ صرف شیعہ فقہاء کا نظریہ ہے ؟
کیا ولایت فقیہ غیبت امام زمانہ کا لازمہ ہے ؟


تاریخچہ ولایت فقیہ
ولایت فقیہ دو الفاظ "ولایت" اور "فقیہ" سے مرکب اصطلاح ہے ۔ یہ اصطلاح اسی ترکیب کے ساتھ قرآن و شیعہ و سنی روایات میں موجود نہیں ہے ۔ اس اصطلاح کو شیعہ سنی فقہاء نے قرآن و روایات کے مضامین اور روح سے نکالا ہے ۔ قدیمی ترین منبع و ماخذ جس میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے وہ چوتھی ہجری میں امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم ہے ۔ انہوں نے علم فقہ ، اخلاق اور دیگر اسلامی معارف کے باہمی مقائسے سے علم فقہ میں یہ اظہار کیا ہے کہ فقہ اسلامی معاشرے کو چلانے کیلیے ہے اور انسان کے ظاہری اعمال کی طرف متوجہ ہے اور اسی ظاہری بناء پر صحت و بطلان کا حکم لگاتی ہے اور نیت و دل کے بارے میں حکم نہیں لگاتی ۔ اما القلب فخارج عن ولایة الفقيه .

 

 امام غزالی اس کتاب کی ابتداء میں اشارہ کرتے ہیں کہ لوگ چونکہ اپنے حقوق پر قانع نہیں رہتے  اور دوسروں کے حقوق کی طرف تجاوز کرتے ہیں  تو حتمن ایک حکومت ہونی چاہیے اور یہاں سے حکومت کی ضرورت اور اہمیت پر استدلال کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ حکومت کو قانون کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ قانون جس پر حکومت استوار ہونی چاہیے وہ شریعت ہے اور پھر کہتے ہیں کہ جو بھی عوام پر حکومت کر رہا ہوں اگر وہ خود عالم وفقیہ ہو تو اسے  کسی دوسرے کی ضرورت نہیں لیکن اگر وہ خود عالم و فقیہ نہیں ہے تو  اسے  رہنمائی کی ضرورت ہے کہ  اس کا رہنما اور معلم فقیہ ہے معلوم ہوا کہ امام غزالی کی نظر میں حکومت ایک فقیہ کی زیر نگرانی اور اس کے ارشادات و تعلیمات کے مطابق چلنی چاہیے فقیہ کے تحت حکومت میں رہنے والے تمام افراد اس  کی حکومت کی کوئی مجریہ ہیں اور اس کے فرامین کو اجراء کرنے والے ہیں بتعبیر دیگر حکومتی عملہ ہیں اور وہ کہ جو مرجع و صاحب ولایت ہے وہی  فقیہ ہے

ایک مسلمان اور مومن کا غیر مسلم کے ساتھ فرق یہی ہے کہ مسلمان اس عقیدے کے ساتھ عمل انجام دیتا ہے کہ یہ شرعا جائز ہے یعنی ایک مسلمان فرد اس عمل کو انجام دینا شری حوالے سے اپنے لیے جائز سمجھتا ہے اور اگر کسی کام کو انجام نہیں دیتا تو صرف انجام نہ دینا شریعت کی طرف سے کافی نہیں سمجھا جائے گا بل بلکہ شعر مقدس کی نہیں کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے یعنی چونکہ شارع نے اسے منع کیا ہے اس لئے وہ یہ کام نہیں کر رہا ۔ اللہ تعالی نے مومن کو جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو خدا کے دستور کی اطاعت اور جن چیزوں سے منع کیا اور روکا ہے ان سے خدا کے ممنوع اور نہیں شدہ امور سے دور رہنے کے عنوان سے باز رہنا ضروری ہے

کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی شرعی اجازت کو ایک مسلمان کا شرعی اختیار اور سلطہ کہا جاتا ہے
 اس شرعی اختیار واہ سلطاں کو جو مسلمان کو کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے پر حاصل ہوتا ہے اسلامی مذاہب کی فقہی اصطلاح میں اسے ولایت کہتے ہیں کتاب الھدایہ والاختیار میں پڑھتے ہیں اس عبارت میں جیسا کہ واضح اور صریح کہا گیا ہے کہ اپنے نفس کو تصرف میں لانا ولایت پر موقوف ہے اسی لئے فقہاء نے کہا ہے کہ کسی بھی نظام اور مسئلہ میں طرفین خود پر ولایت رکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص سے ثالث کو اپنے لئے حاکم اور منصف قرار دیں جو ان کے درمیان اختلافی موضوع کو حل کرے بالغ و عاقل انسان کا خود پر ولایت رکھنا اسلامی فقہ کی ضروریات وی مسلمات میں سے ہے اس لئے کہ اگر کوئی اپنے نفس پر ولایت نہ رکھتا ہو تو کوئی معاہدہ و قرارداد انجام نہیں دے سکتا اور وہ نہ اجیر بن سکتا ہے اور نہ مستاجر اور اپنے اموال بھی نہیں بیچ سکتا نیز اپنے مال کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دے سکتا اور نہیں صدقہ دے سکتا ہے اور نہ ہی وقف کر سکتا ہے
 جس طرح کے ہجر و افلاس اور نکاح کے باب میں ماجورین اور وہ لوگ کہ جن کو اپنے اموال پر تصرف کا حق نہیں ہے ان کے اولیاء و سرپرست معین کئے ہیں درحقیقت ان کے سرپرستوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کی ذات و انواع کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں بنابریں مرغینانی حنفی نے کہا ہے ۔۔۔۔ اپنے مال کا جائز اور شرعی استعمال اس وقت ہوگا جب صاحب مال بالغ و عاقل ہو نے کے ساتھ ساتھ ورشکستہ نہ ہو چکا ہوں اور اپنے نفسوں مال پر کو زیر استعمال لانے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو اس صورت میں اس کا استعمال شری ولایت کی اساس پر مشتمل ہوگا اور اس ولایت کے مطابق عمل کرنا واجب ہوگا چونکہ شرعی ولایت کی بنا پر استعمال پر اثر مترتب کرنا ضروری ہوتا ہے تمرتاشی اور حصکفی حنفی نے کہا جب بھی کسی مسئلے میں دو طرف ایک شخص کو ثالث اور حاکم قرار دیتے ہیں اور وہ حاکم ان کے درمیان فیصلہ کرے اور حکم دے تو اس حکم کو قبول کرنا ان دونوں کے لئے لازمی ہوگا اگر وہ دو طرف اس تلاوت اور فیصلے کو انکار کردیں تو وہ حکم اور فیصلہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ وہ حکم شرعی ولایت رکھنے والے سے صادر ہوا تھا شربینی شافعی نے بھی کہا ہے قاضی و حاکم کا حکم اس وقت تک نافذ و قابل عمل نہیں ہو گا جب تک طرفین اس قاضی کی قضاوت پر راضی نہ ہوں اس لیے کہ کسی مسئلے والنظام کے طرفین کا راضی ہونا قاضی کی ولایت ایجاد کرتا ہے پس قضاوت اور فیصلہ کرنے سے پہلے طرفین کا قاضی کی ولایت پر
راضی ہونا ضروری ہے اور جب کسی شخص کو قاضی فیصلہ کرنے والا معین کر دیا گیا ہو اور وہ حکم صادر کردے تو اس کے حکم و فیصلے سے انکار اور سرپیچی نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ اس کے حکم کو قبول کرنا شریف ولایت کی اساس پر واجب ہے اسلامی مذاہب کے علماء و فقہاء اس بات کے قائل ہیں شرعی ولایت کے دائرے کے اندر تصرف جائز اور مشروع ہیں ولایت شرعیہ کے دائرے سے باہر تصرف جائز نہیں ہوگا اس لئے عبدالکریم زیدان نے قاضی کے حکم کا انکار کرنے کے بارے میں کہا ہے ایسا قاضی جسے اسلامی حکومت نے معین کیا ہو اسے اصطلاحات قاضیاں مسلمین کہا جاتا ہوں اگر جج کے حکم کو نظرثانی کرنے کے لئے قاضی مسلمین کو دیا جائے اور وہ اس حکم کو اجتہادی جہاد سے اپنی نذر کے مخالف قرار دے اور وہ جو اس کے نزدیک حق ہے تو جج کے اس حکم کی مخالفت جائز ہے قاضیاں مسلمین کے حکم کے ذریعے جج کے حکم کی مخالفت کے جواز کی دلیل یہ ہے کہ قاضی مسلمین کو ان تمام ججوں پر ولایت حاصل ہے جن کو کسی مسئلے بننزا کہ طرفین نے چنا ہو جیسا کہ انہیں ججوں کو دیگر جھگڑوں کے طرفین پر کوئی ولایت حاصل نہیں ھوتی اس کلام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قاضی مسلمین جس چیز کو استعمال میں لانا اور جج کے حکم کو منسوخ کرنے کو ولایت سے گردانہ گیا ہے جس طرح کے ایک جج کی کسی مسئلے میں قضاوت کے حق کو ولایت کہا گیا ہے اور اسی ولایت کی اساس پر وہ جنج حکم صادر کرتا ہے جس کی وجہ سے طرفین اس حکم کی مخالفت نہیں کر سکتے اگر اس حکم پر راضی نہیں ہیں تو اس کا زئی کے پاس جائیں جو اس جج پر ولایت رکھتا

اور وہ شخص وہی قاضیاں مسلمین جو اسلامی حکومت کی طرف سے منسوب ہے۔
ایک کیس حل کرنے والا قاضی اور جاز دوسرے کیس پر ولایت نہیں رکھتا اس بارے میں عبداللہ مسلم لکھتا ہے جب بھی غیر عمدی قتل میں مقتول کے وارث اور قاتل کسی ایک شخص کو قاضی قرار دیتے ہیں

اسی طرح اگر بیچنے والا اور خریدار کسی شخص کو قاضی بناتے ہیں اور وہ قاضی خریدے ہوئے مال کے عیب دار ہونے کی وجہ سے اسے بیچنے والے کو دے دے تو بیچنے والا اس معیوب کو سابقہ بیچنے والے کو نہیں دے سکتا کیونکہ اس سابقہ بیچنے والے پر قاضی ولایت نہیں رکھتا

اسلام کے تمام فقہی مسالک کے علما ہر قسم کے تصرف و استعمال کو ولایت پر موقوف سمجھتے ہیں اس حصے میں اسلامی فقہ کے ممے ممتاز علماء کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں جس میں انہوں نے ولایت کو سراہتا بیان کیا ہے تاکہ ہرقسم کے دخل وتصرف کے شریف ولایت پر متوقع ہونے پر تاکید ہوجائے اور شرعی ولایت کا یہ ہمارا نظریہ وام دعا کہ امت مسلمہ پر ایک فقیہ کو ولایت حاصل ہے قابل قبول ہوجائے

مرتہن یعنی راہ لینے والا رحم کو استعمال نہیں کرسکتا اس لیے کہ اسے صرف اور صرف راہن قبضے میں رکھنے کی ولایت حاصل ہے اس کے علاوہ کسی اور عمل میں اسے کوئی ولایت حاصل نہیں
ایک اور مورد مرغینانی کا ہے مولا مالک اپنے غلام پر امام کی اجازت کے بغیر کوئی حد جاری نہیں کرسکتا
سرخسی اس روایت کے ذیل میں کہتا ہے
حدود کو نافذ کرنے کا حق امام مسلمین کو ہے چونکہ وہ شرعی ولایت رکھتا ہے ۔ کوئی بھی اس الہی حق میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہے حدود نافذ کرنا یعنی ٹیکس جزیہ صدقہ زکات وصول کرنا غیر امام کا کام نہیں یہ الہی حق ہے اور جو خدا کا نائب ہوگا وہی اس حق کو انجام دے سکتا ہے اور نیابت و جانشینی خدا و شریعت کی طرف سے امام مسلمین کے ساتھ مختص ہیں ۔

نووی المنہاج میں کہتے ہیں شرعی عدالت میں زانی کا جرم ثابت ہونے کے بعد امام اعظم یا اس کا نائب ان پر حد جاری کریں گے یعنی خواہ آزاد ہو یا غلام مبعض غلام بعض اسے کہتے ہیں جو آدھا غلام اور ادا آزاد ہو خطیب شربینی نے نوی کی کلام کی دلیل اس طرح بیان کی ہے چون کہ حد و سزا ہر فرد مجرم پر لاگو ہوتی ہے اور غلام مبعض جو اپنی آدھی قیمت کی ادائیگی کے سبب
 بن عابدین تمرتاشی اور حصکفی کی کلام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ولایت کے علاوہ قصاص بھی انجام نہیں دیا جاسکتا یعنی وہ شخص جو ولایت رکھتا ہے وہ قصاص لینے کا حق رکھتا ہے اور وہی قصاص آدم کشی اور قتل و غارت کو روک سکتا ہے جو ولایت پر مبنی ہو
موصلی قاضی کی ولایت کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں قاضی کو تمام عقود و معاملات میں انشاء و فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ۔
معلوم ہوا کہ عام افراد کو اس قسم کا حق نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے جان و مال میں دخل وتصرف کریں کیونکہ وہ ایک دوسرے پر ولایت نہیں رکھتے البتہ عام افراد وکالت کے عنوان سے

 امام غزالی نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں مہم یہ ہے کہ وہ زمانہ جس میں امام غزالی ہی رہے تھے اور اس میں معاشرے کو ادارہ کرنے کا ویلای اور ولایت محور نظریہ باقاعدہ طور پر رائج تھا ولایت فقیہ کی تعبیر اس زمانے کے علماء اور دانشوروں کے لیے جانی پہچانی تھی کہ غزالی نے اس سے ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کیا
 اس نے کسی قسم کی اجنبی تو تازگی محسوس نہیں کی گئی وگرنہ اہل علم و دانش کے لیے سوال برنگے ہوتا اور یقینا امام غزالی کے چاہنے والے اور ان کے آثار کا مطالعہ کرنے والے ان سے سوال کرتے اور وضاحت طلب کرتے جب کہ اس زمانے میں ان کی گفتگو میں نقد و تنقید کا پہلو موجود تھا پھر بھی کسی نے اس مسئلہ پر وضاحت طلب نہیں کی البتہ امام غزالی کے جملات میں اخلاق سے غفلت اور فکر کی طرف افراطی نگاہ محسوس ہو رہی ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ کا دارومدار صرف ظاہری اعمال ہیں انسان کے باطن سے کوئی دخل نہیں مگر ہمارا مقصد یہاں ان کے اس پہلو پر نقد و تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کے درپے ہیں کہ نظریہ و تفکر ولایت فقیہ اس زمانے میں کوئی اجنبی اور اچنبھے کی بات نہیں  

یک مسلمان اور مومن کا غیر مسلم کے ساتھ فرق یہی ہے کہ مسلمان اس عقیدے کے ساتھ عمل انجام دیتا ہے کہ یہ شران جائز ہے یعنی ایک مسلمان فرد اس عمل کو انجام دینا شری حوالے سے اپنے لیے جائز سمجھتا ہے اور اگر کسی کام کو انجام نہیں دیتا تو صرف انجام نہ دینا شریعت کی طرف سے کافی نہیں سمجھا جائے گا بل بلکہ شعر مقدس کی نہیں کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے یعنی چونکہ شارع نے اسے منع کیا ہے اس لئے وہ یہ کام نہیں کر رہا ۔ اللہ تعالی نے مومن کو جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو خدا کے دستور کی اطاعت اور جن چیزوں سے منع کیا اور روکا ہے ان سے خدا کے ممنوع اور نہیں شدہ امور سے دور رہنے کے عنوان سے باز رہنا ضروری ہے

کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی شرعی اجازت کو ایک مسلمان کا شرعی اختیار اور سلطہ کہا جاتا ہے
 اس شرعی اختیار واہ سلطاں کو جو مسلمان کو کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے پر حاصل ہوتا ہے اسلامی مذاہب کی فقہی اصطلاح میں اسے ولایت کہتے ہیں کتاب الھدایہ والاختیار میں پڑھتے ہیں اس عبارت میں جیسا کہ واضح اور صریح کہا گیا ہے کہ اپنے نفس کو تصرف میں لانا ولایت پر موقوف ہے اسی لئے فقہاء نے کہا ہے کہ کسی بھی نظام اور مسئلہ میں طرفین خود پر ولایت رکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص سے ثالث کو اپنے لئے حاکم اور منصف قرار دیں جو ان کے درمیان اختلافی موضوع کو حل کرے بالغ و عاقل انسان کا خود پر ولایت رکھنا اسلامی فقہ کی ضروریات وی مسلمات میں سے ہے اس لئے کہ اگر کوئی اپنے نفس پر ولایت نہ رکھتا ہو تو کوئی معاہدہ و قرارداد انجام نہیں دے سکتا اور وہ نہ اجیر بن سکتا ہے اور نہ مستاجر اور اپنے اموال بھی نہیں بیچ سکتا نیز اپنے مال کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دے سکتا اور نہیں صدقہ دے سکتا ہے اور نہ ہی وقف کر سکتاہے 

جس طرح کے ہجر و افلاس اور نکاح کے باب میں ماجورین اور وہ لوگ کہ جن کو اپنے اموال پر تصرف کا حق نہیں ہے ان کے اولیاء و سرپرست معین کئے ہیں درحقیقت ان کے سرپرستوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کی ذات و انواع کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں بنابریں مرغینانی حنفی نے کہا ہے ۔۔۔۔ اپنے مال کا جائز اور شرعی استعمال اس وقت ہوگا جب صاحب مال بالغ و عاقل ہو نے کے ساتھ ساتھ ورشکستہ نہ ہو چکا ہوں اور اپنے نفسوں مال پر کو زیر استعمال لانے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو اس صورت میں اس کا استعمال شری ولایت کی اساس پر مشتمل ہوگا اور اس ولایت کے مطابق عمل کرنا واجب ہوگا چونکہ شرعی ولایت کی بنا پر استعمال پر اثر مترتب کرنا ضروری ہوتا ہے تمرتاشی اور حصکفی حنفی نے کہا جب بھی کسی مسئلے میں دو طرف ایک شخص کو ثالث اور حاکم قرار دیتے ہیں اور وہ حاکم ان کے درمیان فیصلہ کرے اور حکم دے تو اس حکم کو قبول کرنا ان دونوں کے لئے لازمی ہوگا اگر وہ دو طرف اس تلاوت اور فیصلے کو انکار کردیں تو وہ حکم اور فیصلہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ وہ حکم شرعی ولایت رکھنے والے سے صادر ہوا تھا شربینی شافعی نے بھی کہا ہے قاضی و حاکم کا حکم اس وقت تک نافذ و قابل عمل نہیں ہو گا جب تک طرفین اس قاضی کی قضاوت پر راضی نہ ہوں اس لیے کہ کسی مسئلے والنظام کے طرفین کا راضی ہونا قاضی کی ولایت ایجاد کرتا ہے پس قضاوت اور فیصلہ کرنے سے پہلے طرفین کا قاضی کی ولایت پر
 راضی ہونا ضروری ہے اور جب کسی شخص کو قاضی فیصلہ کرنے والا معین کر دیا گیا ہو اور وہ حکم صادر کردے تو اس کے حکم و فیصلے سے انکار اور سرپیچی نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ اس کے حکم کو قبول کرنا شریف ولایت کی اساس پر واجب ہے اسلامی مذاہب کے علماء و فقہاء اس بات کے قائل ہیں شرعی ولایت کے دائرے کے اندر تصرف جائز اور مشروع ہیں ولایت شرعیہ کے دائرے سے باہر تصرف جائز نہیں ہوگا اس لئے عبدالکریم زیدان نے قاضی کے حکم کا انکار کرنے کے بارے میں کہا ہے ایسا قاضی جسے اسلامی حکومت نے معین کیا ہو اسے اصطلاحات قاضیاں مسلمین کہا جاتا ہوں اگر جج کے حکم کو نظرثانی کرنے کے لئے قاضی مسلمین کو دیا جائے اور وہ اس حکم کو اجتہادی جہاد سے اپنی نذر کے مخالف قرار دے اور وہ جو اس کے نزدیک حق ہے تو جج کے اس حکم کی مخالفت جائز ہے قاضیاں مسلمین کے حکم کے ذریعے جج کے حکم کی مخالفت کے جواز کی دلیل یہ ہے کہ قاضی مسلمین کو ان تمام ججوں پر ولایت حاصل ہے جن کو کسی مسئلے بننزا کہ طرفین نے چنا ہو جیسا کہ انہیں ججوں کو دیگر جھگڑوں کے طرفین پر کوئی ولایت حاصل نہیں ھوتی اس کلام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قاضی مسلمین جس چیز کو استعمال میں لانا اور جج کے حکم کو منسوخ کرنے کو ولایت سے گردانہ گیا ہے جس طرح کے ایک جج کی کسی مسئلے میں قضاوت کے حق کو ولایت کہا گیا ہے اور اسی ولایت کی اساس پر وہ جنج حکم صادر کرتا ہے جس کی وجہ سے طرفین اس حکم کی مخالفت نہیں کر سکتے اگر اس حکم پر راضی نہیں ہیں تو اس کا زئی کے پاس جائیں جو اس جج پر ولایت رکھتا ہوں
 اور وہ شخص وہی قاضیاں مسلمین جو اسلامی حکومت کی طرف سے منسوب ہے۔
ایک کیس حل کرنے والا قاضی اور جاز دوسرے کیس پر ولایت نہیں رکھتا اس بارے میں عبداللہ مسلم لکھتا ہے جب بھی غیر عمدی قتل میں مقتول کے وارث اور قاتل کسی ایک شخص کو قاضی قرار دیتے ہیں

اسی طرح اگر بیچنے والا اور خریدار کسی شخص کو قاضی بناتے ہیں اور وہ قاضی خریدے ہوئے مال کے عیب دار ہونے کی وجہ سے اسے بیچنے والے کو دے دے تو بیچنے والا اس معیوب کو سابقہ بیچنے والے کو نہیں دے سکتا کیونکہ اس سابقہ بیچنے والے پر قاضی ولایت نہیں رکھتا

اسلام کے تمام فقہی مسالک کے علما ہر قسم کے تصرف و استعمال کو ولایت پر موقوف سمجھتے ہیں اس حصے میں اسلامی فقہ کے ممے ممتاز علماء کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں جس میں انہوں نے ولایت کو سراہتا بیان کیا ہے تاکہ ہرقسم کے دخل وتصرف کے شریف ولایت پر متوقع ہونے پر تاکید ہوجائے اور شرعی ولایت کا یہ ہمارا نظریہ وام دعا کہ امت مسلمہ پر ایک فقیہ کو ولایت حاصل ہے قابل قبول ہوجائے

مرتہن یعنی راہ لینے والا رحم کو استعمال نہیں کرسکتا اس لیے کہ اسے صرف اور صرف راہن قبضے میں رکھنے کی ولایت حاصل ہے اس کے علاوہ کسی اور عمل میں اسے کوئی ولایت حاصل نہیں

 ایک اور مورد مرغینانی کا ہے مولا مالک اپنے غلام پر امام کی اجازت کے بغیر کوئی حد جاری نہیں کرسکتا
سرخسی اس روایت کے ذیل میں کہتا ہے
حدود کو نافذ کرنے کا حق امام مسلمین کو ہے چونکہ وہ شرعی ولایت رکھتا ہے ۔ کوئی بھی اس الہی حق میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہے حدود نافذ کرنا یعنی ٹیکس جزیہ صدقہ زکات وصول کرنا غیر امام کا کام نہیں یہ الہی حق ہے اور جو خدا کا نائب ہوگا وہی اس حق کو انجام دے سکتا ہے اور نیابت و جانشینی خدا و شریعت کی طرف سے امام مسلمین کے ساتھ مختص ہیں ۔

نووی المنہاج میں کہتے ہیں شرعی عدالت میں زانی کا جرم ثابت ہونے کے بعد امام اعظم یا اس کا نائب ان پر حد جاری کریں گے یعنی خواہ آزاد ہو یا غلام مبعض غلام بعض اسے کہتے ہیں جو آدھا غلام اور ادا آزاد ہو ۔
 بن عابدین تمرتاشی اور حصکفی کی کلام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ولایت کے علاوہ قصاص بھی انجام نہیں دیا جاسکتا یعنی وہ شخص جو ولایت رکھتا ہے وہ قصاص لینے کا حق رکھتا ہے اور وہی قصاص آدم کشی اور قتل و غارت کو روک سکتا ہے جو ولایت پر مبنی ہو
موصلی قاضی کی ولایت کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں قاضی کو تمام عقود و معاملات میں انشاء و فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ۔
معلوم ہوا کہ عام افراد کو اس قسم کا حق نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے جان و مال میں دخل وتصرف کریں کیونکہ وہ ایک دوسرے پر ولایت نہیں رکھتے البتہ عام افراد وکالت کے عنوان سے

ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کر سکتے ہیں ایک اور مثال ان مسلمانوں کے بارے میں ہے جو طاغوتی حکومت یا بلاد خوف میں رہ رہے ہیں وہاں اگر کوئی مسلمان گناہ کا مرتکب ہو تو اس بارے میں فقہاء علمائے اسلام کے درمیان اختلاف ہے حنفی فقہاء کہتے ہیں کیونکہ اس نے ایسے علاقے میں گناہ کیا جس تک امام مسلمین کی رسائی نہیں ہے اور وہ علاقے امام المسلمین کی ولایت کی قلمرو سے باہر ہیں پس اس گناہ گار پر ہاتھ جاری نہیں ہو گی لیکن اگر وہی مسلمان ایسے علاقے میں گناہ کرتا ہے جہاں امام المسلمین کو ولایت حاصل ہوتی ہے تو گناہ گار پر ہر دو مجازات جاری ہوں گے

پس دوسروں کے امور میں کسی قسم کی مداخلت وتصرف شریف الہی ولایت پر موقوف ہے اس مطلب کے اثبات کے لئے اتنی ہی موارد پر اکتفا کرتے ہیں انہیں موارد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام فقہی مذاہب نے لوگوں کے جان و مال میں تصرف کے جواز کو صاحب ولایت کے لئے مختص کیا ہے ۔
عمومی اور خصوصی امور میں ولایت : ۔
اسلامی فقہ میں ولایت کا اجرا و نفاذ اور شرعی حق تصرف کی دو اقسام ہیں
کبھی ایک شخص اپنے یا اپنے اموال کے بارے میں ولایت جاری کرتا ہے جیسا کہ کسی اختلاف کے طرف این اپنے اختلاف کے حل کے لئے ایک شخص سے ثالث کو منصف بنالیتے ہیں یا کوئی شخص اپنے مال کو وقف کرتا ہے بیچتا ہے یا کرایہ پہ دیتا ہے یا اپنا غلام آزاد کرتا ہے اس قسم کے تمام ذاتی استعمالات کو شخصی اور خصوصی امور میں ولایت کہا جاتا ہے
لیکن کبھی اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے افراد پر یا چند کاموں کے بارے میں ولایت نافذ کی جاتی ہے جس کا تعلق اسلامی معاشرے اور تمام مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے اس قسم کی ولایت کو عمومی ولایت کا نام دیا جاتا ہے اس تقسیم کو بھی کئی علماء نے بیان کیا ہے اپنی فقہ کی کتب میں عبداللہ موصلی حنفی مذہب کہتے ہیں اگر کسی کو کوئی گمشدہ بچہ ملتا ہے اس کو پڑھنے پڑھانے سے کھانے کے لیے کسی کارگاہ و کارخانے میں بھیجا جاسکتا ہے لیکن اس کی شادی نہیں کرائی جاسکتی اور اس مطلب پر اس طرح استدلال کیا ہے اس لئے کہ جس شخص کو یہ بچہ ملا ہے اس شخص کو اس بچے پر کوئی ولایت حاصل نہیں شادی کرانا خریدوفروخت کی ولایت والد کے بعد صرف امام کو حاصل ہے کیونکہ امام کی عمومی ولایت ہے یعنی جس سے بچہ ملتا ہے اسے اتنی ہی ولایت حاصل ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اور اس کی صحیح تعلیم و تربیت کے لئے اقدام کریں اور اسے کوئی ہنر و فن سکھانے کے لیے کسی ماہر کے پاس لے جائیں لیکن اس کی شادی کے لیے ولایت نہیں رکھتا بلکہ اس کی ازدواج اور نابالغ بچے کے مال کی خریدوفروخت کا حق فقط اور فقط حاکم اور امام مسلمین کو حاصل ہے اس لئے کہ امام و رہبر کی حاکمیت عمومی اور وسیع تر ہیں اور تمام موارد کو شامل ہے پس امام مسلمین ایسے بچے کی شادی بھی کرا سکتا ہے اور بیت المال سے اس کا مہر بھی ادا کرسکتا ہے

یحییٰ نووی شافعی مذہب ہے وہ کہتے ہیں کہ جس شخص کو بچہ
 حمبلی کہتے ہیں کہ اگر گمشدہ بچے کے پاس کوئی مال نہ ہو تو حاکم پر واجب ہے کہ اس کا خرچہ بیت المال سے ادا کرے جس طرح دیگر فقراء کا خرچہ حاکم پر واجب ہوتا ہے حنفی فیک میں یہ صراحت کی گئی ہے انا ولایة القاضی عامة . یعنی قاضی کی ولایت وسیع و عام تر ہے
شوکانی ایک سلفی رجحان رکھنے والے عالم ہیں وہ امام مسلمین کی شرط سلامت ہو اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں انا المقصودہ بال ولایت علامت ہو تدبیر امور ناس یعنی ولایت عامہ سے مراد لوگوں کے عمومی و خصوصی امور کو تدبیر و ادارہ کرنا ہے اور تمام امور کو ان کے اصلی مقام سے چلانا اور ہر چیز کو اس کی اپنی حیثیت ومنزلت دینا یہ سب کام ایسے شخص سے ممکن نہیں ہیں جس کے حواس سالم نہ ہوں اور اگر ہو اس میں کوئی خلل ہو تو یہ حاکم امور مسلمین کی کی بے تدبیری پر منتہی ہو گا

مندرجہ بالا تمام موارد ولایت عام خاص کے ہیں اور یہ تقسیم اسلامی فقہ کی مسلمات میں سے ہے
البتہ فقہی ابحاث میں ایک اور اصطلاح بھی ولایت عام اور ولایت خاص کی موجود ہے یہاں ولایت خاص سے مراد بعض خاص اور معین افراد کی کئی امور میں ولایت ہے ولایت عام سے مراد ولی خاص کے نہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں میں سے کچھ غیر معین افراد کا صاحب ولایت ہونا ہے ۔
معاشرے کے امور میں ولی امر کی ضرورت
ولی امر مالکی فقہ میں امام مسلمین کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

 

ابن عابدین مقاصد تفتازانی سے امامت کبریٰ کی تعریف نقل کرتے ہیں امامت کبری نبی اکرم کی نیابت میں دین اور دنیا کے امور کو چلانا ہے اور ریاست کی تحقیقی تفسیر حقیقت صرف کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسی وجہ سے حصکفی نے امام اعظم اور ولی امر کو لوگوں کی خصوصی وہ عمومی مسائل میں مداخلت کا حق دار قرار دیا ہے اور اسے امام کا سب سے بڑا حق گردانہ ہے


جب لوگوں کی عمومی اور خصوصی مسائل کو حل کرنے اور ان میں دخل وتصرف کرنے کو کو ایک حق کا عنوان دیا گیا ہے تو اس حق کے مقابل میں ایک فریضہ بھی تصوف عام کے عنوان سے عید ہوتا ہے یعنی تصوف عام شری افراد میں سے ایک فعل ہے کہ اسلامی معاشرے میں مکلف اسے شریف ریزے کے عنوان سے اپنے ذمہ لے اور انجام دے کسی فریضے کو ترک کرنا ایک بہت بڑی آفت و مصیبت ہے خصوصا امت کے امور کی ذمہ داری جیسے فریضے میں کوتاہی ہو تو تمام امت بڑی آفت اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوگئی شربینی نے اسے واجب کفائی قرار دیا
کہ اس فریضے کا ترک تمام امت کے گناہ گار ہونے کا موجب بنے گا اور تمام مسلمان معصیت کبیرہ میں مبتلا ہوں گے
و ھی کالقضاء ۔۔۔۔ ولایت عمل اور امامت امت کا فریضہ قضاوت کی طرح واجب کفائی ہے اس لئے کہ امت کے لئے ایک امام کا ہونا ضروری ہے دین کو قائم کرے اور سنت کی مدد و نصرت کرے اور مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلوائیں نیز تمام حقوق کو فرائض انجام دلوائے
ماوردی شافعی اور ابویعلیٰ حنبلی اسلامی امت کیلئے امام کا منصوب ہونا واجب جانتے ہیں مزید برآن ابویعلیٰ احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں ال الفتنہ ۔۔۔۔ یعنی فتنہ معاشرے میں اس وقت رونما ہوتا ہے جب معاشرے میں کوئی امام نہ ہو جو لوگوں کے امور چلائے اور ان کے لئے قیام کریں ہنس کافی حنفی نے بھی کہا ہے و نصبہ اہم ۔۔۔۔ امام کا نصب کرنا اہم میں واجبات میں سے ہے ابن عابدین حنفی اہم ترین واجبات کی دلیل کے بیان میں کہتے ہیں بہت سے شری واجبات امام پر موقوف ہیں کہ امام نے ان تمام واجبات کو احیاء و اقامہ کرنا ہے

 

[1/26, 5:45 PM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: ابن عابدین نے اپنی گفتگو کو نجم الدین ابو حفص حنفی کی کلام سے مستند کرتے ہوئے لکھا ہے مسلمانوں کے لئے ایک امام کا ہونا ضروری ہے جو اسلامی احکام کو نافذ کرے اور ان کی حدود کو قائم کریں گھر اور اسلامی سرزمین کی حفاظت اور دفاع کے لئے محافظ معین کرے فوج اور پولیس کو مجاہد کرے ٹیکس اور صدقات وصول کرے زور زبردستی کرنے والوں اور بغاوت کرنے والوں کو کنٹرول کرے اور معاشرے کا امن و سکون تباہ کرنے والے ڈاکوؤں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹے نماز جمعہ اور نماز عید فطر و قربان کے اجتماعات قائم کر آئے مسلمانوں کے درمیان مختلف اختلافات کو حل کرانے اور وہ کام کے جن کو معاشرے کے عام افراد انجام نہیں دے سکتے اپنی ولایت کے تحت ان کی انجام دہی کے لئے اقدام کریں بیت المال سے خرچے پر کے یتیم اور بے سرپرست بچوں کی زندگی کو سروسامان دے
اس جامع و کامل متن سمجھ آتا ہے کہ فقہ صرف نصیحت واحکام کا مجموعہ نہیں بلکہ جو انسان اپنی کامل سعادت اور خوشبختی چاہتا ہے وہ فک کو اپنائے اور اس پر عمل کرے ۔
[1/27, 8:31 AM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: اور یہ فقہ و شریعت کے احکام پر عمل انسان کو فضائل و کمالات اور کامیابی و رستگاری تک پہنچاتا ہے سکھ معاشرے کو چلانے کی دقیق برنامہ ریزی ہے امنیت اما اجتماعی نظام اور دنیا کا آرام و سکون معاشرے میں فقہ و شریعت کے دستورات کو لاگو کرنے میں ہے معاشرے کا بہترین نظم و نسق اور عادلانہ قیام جو کہ عام شہریوں کو خدا و شریعت کے حقوق اور اس کی اپنی صلاحیتوں پشاور استحقاق کے مطابق حقوق دلائیں یہ سب کچھ فکر کے ایک کامل اجرا میں مضمر ہے اگر فقہ صحیح امید اور مکمل طور پر اجرا کی جائے تو دنیا کے کسی فرد پر ظلم نہ ہوگا اور نہ ہی کسی کا حق ضائع ہوگا نہ ہی کوئی ناراض ہو گا سوائے حدیث سفر اور دوسروں کے جان و مال پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے تمام شہریوں کے حقوق بہترین طور پر ادا کیے جائیں گے یہ سارے کا سارا امام کے وجود کی برکت سے ہے جو معاشرے میں اللہ کے احکام کو نافذ کرتا ہے دین کو دنیا اور معاشرے میں نافذ کرتا ہے اگر دین الہی دستورات قائم کیے جائیں تو آخرت بھی سنور جائے گی آصف کا صرف اخلاق وعظ و نصیحت ہی نہیں ہے کے نیک صالح متعہد ذمہ دار با فضیلت
[1/27, 8:39 AM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: لوگ حاکم حکومت کی پہنچ سے دور خلوت و تنہائی میں بھی ان مواعظ و نصائح کے پابند ہوں گے بلکہ فقہ اس سے بڑھ کر کمال رکھتی ہے کہ فقط عمل کرنا کافی نہیں بلکہ شریعت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اعتقاد و ایمان بھی رکھنا ہے فقہ ایک ظاہری و سطحی نمودونمائش رکھنے والے خشک ریاکارانہ دستورات کا مجموعہ نہیں اور صرف چند حقوق کا مجموعہ بھی نہیں کہ جس کے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہو بلکہ سے دنیا کو عادلانہ اور آسان طریقے سے کمال اور سعادت مندی تک پہنچانے کا نظام و پروگرام

 

 

 

 

ولی امر کا مجتہد ہونا :

 

تفتازانی اہلسنت کے عظیم متکلم ہیں امامت کی سات شرائط لکھتے ہیں عدالت اجتہاد کی سطح کا علم سلامت ہو اس اذا تدبیر شجاعت
قاضی ابوبکر باقلانی نے اپنی کتاب تمہید الاوائل میں امام و رہبر کے لئے اجتہاد و صاحب نظر ہونا شرط قرار دیا ہے
ان موارد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہلسنت کے نزدیک شیخ علاقے میں اسلامی کے لئے اجتہاد و فقاہت شرط ہے تاکہ آزادانہ اور مستقل طور پر اسلامی دستورات کو اجراء کر سکے اور کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو وگرنہ اس حاکم کی قوت و طاقت قائم نہیں رہے گی
میاں واضح ہے کہ جو اہل سنت کے منابع میں حاکم اسلامی کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ شیعہ کے ہاں بیان شدہ خصوصیات کے یکساں ہیں اور ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اس لئے کہ شیعہ کا اعتقاد بھی یہی ہے کہ غیبت امام زمانہ میں اسلامی حکمران کو مجتہد و افقی اور رہبریت کی شرائط کا حامل ہونا چاہیے اگرچہ عمل میں ابھی تک اہلسنت ایسی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے

 

قدیم انسان۔۔۔۔

قدیم انسان۔۔۔۔

روبینہ نازلی

 
 26 دسمبر 2018ء
      
آج یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ

۱۔ قدیم انسان حیوان نہیں انسان ہی تھا ہمیشہ سے۔

۲۔ قدیم انسان یا ماضی کا انسان آج کے ترقی یافتہ مہذب انسان سے زیادہ ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ تھا۔

۳۔ قدیم انسان اپنے (انسان) بارے میں آج کے انسان سے زیادہ علم رکھتا تھا۔

جب کہ آج جدید دور میں ماضی کے انسان کو غیر مہذب اور غیر ترقی یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے بڑے اندازے تخمینے لگانے کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ ابتداء کا انسان تہذیب و تمدن سے عاری، بے علم، بے عقل، بے لباس اور بے ہنر تھا۔ اس کا معیشت، معاشرت اور سائنس سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ ابتدا کا انسان جنگلوں میں جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہا تھا۔ جب کہ بعض تو اس سے آگے بڑھ کر انسان کو حیوان ہی قرار دے دیتے ہیں یعنی ابتداء کا انسان حیوان ہی تھا اور رفتہ رفتہ بتدریج اس کی جسامت میں تبدیلی آئی اور یوں وہ آج انسانی روپ میں ظاہر ہوا بتدریج اس کی عقل اور علم میں اضافہ ہوا اور انسان تہذیب سے آشنا ہوا۔

یہ سب انتہائی غیر سائنسی اور بے بنیاد مفروضے ہیں جن کی آج ہمیں مسلسل سائنسی و غیر سائنسی شہادتیں میسر آ رہی ہیں۔ جب کہ تاریخ اور مذاہب ہمیں یہی بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ انسان ابتداء سے با شعور، با علم اور با لباس ہے۔ آج ہمیں مسلسل سائنسی شہادتیں میسر آ رہی ہیں جن کے مطابق ماضی کے انسان نے آج کے انسان سے زیادہ سائنسی ترقی کی تھی اور ماضی کے انسان جانور نہیں تھے بلکہ آج کے انسان سے زیادہ ذہنی و جسمانی اعتبار سے مضبوط انسان تھے۔ وہ آج کے انسان سے زیادہ اپنے (انسان) بارے میں علم رکھتے تھے۔ قدیم انسان نہ صرف اپنی باطنی، روحانی صلاحیتوں میں آج کے انسان سے آگے تھا بلکہ مادی ترقی میں بھی آج کے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔

آج جدید تحقیقات ماضی کے قصوں سے آگے نہیں بڑھیں بلکہ ابھی تک ماضی کے روحانی تجربات کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف کار ہیں۔ مذہبی اور تاریخی قصوں کی شہادت آج کی جدید تحقیقات فراہم کر رہی ہیں۔ نیز آج ہم اس قابل ہیں کہ ان تاریخی تجربات کو تجرباتی کسوٹی پر پرکھ سکتے ہیں۔ آج کی جدید تحقیقات ماضی کے روحانی تجربات کے ثبوت تو فراہم کر رہی ہیں لیکن ابھی ان سے بہت پیچھے ہیں۔ ماضی کی تاریخوں میں روحانی کمالات کے جتنے قصے رقم ملتے ہیں ایسے روحانی کمالات آج دیکھنے میں نہیں آتے۔ چند نام نہاد جادوگر کیمیا گری کے کچھ کرتب تو دکھاتے نظر آتے ہیں لیکن یہ کچھ خاص قابلِ توجہ نہیں ہیں۔ آئیے ماضی کے انسان کی مادی و روحانی برتری کے کچھ مشہور ثبوت ملاحظہ کیجیے۔

قدیم انسان کی روحانی برتری

ماضی کا انسان روحانی طور پر آج کے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ لہذا ماضی کا انسان اپنے روحانی تشخص یعنی باطن سے آج کے انسان سے زیادہ معلومات رکھتا تھا جس کی تصدیق آج کی جدید سائنس بھی کرنے پر مجبور ہے۔ مثلاً آج کے سائنسدانوں نے (۱۹۳۰ء) میں AURA کی تصویر کشی کی اہلیت حاصل کی ہے جب کہ ہزاروں برس قبل بھی AURA کی تصویر کشی کی جاتی تھی۔ قدیم ادوار میں یونانی، رومی، ہندو اور عیسائی اقوام میں ان کی مذہبی شخصیات کی تصاویر اور مجسموں میں ان کا ہیولا دکھایا جاتا تھا جسے انگریزی میں “HALO” اور قدیم یونانی اور لاطینی زبان میں ” اورا ” AURA اور ایرولا (AUREOLA) کہا جاتا تھا۔ جب کہ آج اسی تاریخی مناسبت سے سائنسدانوں نے انسان کے باطنی رخ یا لطیف جسم کا نام ” AURA ” رکھا ہے۔

جب کہ ڈھائی ہزار برس قبل ایران کے عظیم فاتح (جو سائرس اعظم، کورش اعظم اور ذوالقرنین کے ناموں سے مشہور ہے ) کے باپ کے محل کو منحوس اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے دیواروں پر ارواح کی شکلیں کندہ کروائی جاتی تھیں۔ اور آج سے پانچ ہزار سال پہلے فراعنہ مصر لاشوں کو حنوط کر کے ممی کی شکل دے ڈالتے تھے تاکہ مرنے والے کی روح (بع) اور ہمزاد (کع) اپنے جسم کو شناخت کر لیں۔

یعنی قدیم انسان نہ صرف اپنے باطنی تشخص سے واقف تھے بلکہ اس کی تصویر کشی بھی کرتے تھے۔

ریمنڈی موڈی نے اپنی کتاب ( Life after Life – 1975 ) کا موازنہ ایک تبتی کتاب ( Tibetan Book of Dead ) سے کیا ہے۔ یہ کتاب زمانہ قبل از تاریخ تبت کے دانشوروں کو زبانی پڑھائی جاتی تھی جو سینہ بہ سینہ چل کر آٹھویں صدی عیسوی میں کتابی شکل میں سامنے آئی یہ قدیم کتاب ریمنڈی موڈی کی موجودہ دور کی جدید طبیعاتی تجربات پہ مشتمل کتاب سے حد درجہ مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں کتابوں کے تجربات میں مماثلت ہے۔

تبت میں ایسے ماسٹر پائے جاتے تھے جو مراقبہ کے دوران اپنے اوپر مصنوعی موت طاری کر لیتے تھے یعنی طبعی نقطہ نظر سے ان کی موت واقع ہو جاتی نیز ہپناٹزم (جسے وہ کٹن کہتے تھے ) کے ذریعے موکل (جسے وہ ’اورکل‘ کہتے تھے ) سے مستقبل کے حالات معلوم کئے جاتے تھے۔ تبتی لامہ ہوا میں اڑنے ، اپنے AURA کو جسم سے الگ کرنے ، ہزاروں میل دور کی چیزیں دیکھنے ، ماضی و مستقبل میں جھانکنے اور سفر کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ تبت میں روحانی تعلیم کے باقاعدہ ادارے قائم تھے۔

ابن بطوطہ نے بھی اپنے مشہور سفر نامے میں چند جو گیوں کے روحانی کمالات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ ایک جو گی کی کھڑاویں خود بخود زمین سے اُٹھیں اور فضا میں معلق ہو گئیں۔ بڑے جو گی نے اپنے شاگرد کو اشارہ کیا وہ بھی فضا میں آہستہ آہستہ بلند ہونے لگا اور اتنا بلند ہوا کہ نظر سے اوجھل ہو گیا۔

ایسے ہی واقعات کا تسلسل اہلِ روحانیت کے ہاں ہمیشہ سے ملتا ہے چاہے وہ مسمان ہوں یا عیسائی، ہندو ہوں یا یہودی تمام کی مذہبی اور تاریخی کتابوں میں ایسے سپر نارمل واقعات کا تسلسل ملتا ہے۔ ایسے خرقِ عادت واقعات کی کوئی سائنسی توجیہہ اگرچہ جدید سائنس پیش نہیں کر سکی مگر آج ان واقعات کی گواہی ضرور دے رہی ہے۔ اور جدید تجربات سے یہ واقعات رفتہ رفتہ ثابت بھی ہو رہے ہیں۔

آجکل بھی ایک انگلش چینل سے ’کرس اینجل‘ نامی شخص ایسے کرتب دکھاتا نظر آتا ہے، کبھی ہوا میں اڑتا ہے کبھی غائب ہو جاتا ہے وہ اسے (Mind Power) قرار دیتا ہے

ماضی کے تمام ادوار میں ان سپر نارمل واقعات کا تسلسل ملتا ہے مثلاً اولیاء کی کرامات یا انبیاء کے معجزے مثلاً عیسیٰ علیہ اسلام اندھے کو بینا اور مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ جب کہ موسیٰ علیہ اسلام کے پاس عصا تھا جو بہت بڑے اژدھے کا روپ دھار لیتا تھا۔ جب کہ حضرت محمد ﷺ نے انگلی کے اشارے سے چاند کو دو لخت کر دیا تھا۔ اور انہوں نے معراج کا سفر کیا اور ٹائم اور اسپیس کو توڑتے ہوئے خالق کائنات تک جا پہنچے۔ جنت اور جہنم کا مشاہدہ کیا۔

اگرچہ مذہب پرست معجزوں پر یقین رکھتے ہیں لیکن مادہ پرست انہیں بھی جھٹلاتے ہیں ( یہ فقرہI don’t believe this اب محض لا علمی اور جہالت کا نشان ہے اس لئے کہ کسی بے وقوف کے یقین کرنے نہ کرنے سے حقائق نہیں بدلتے )آج جدید سائنس انتہائی خرقِ عادت معجزوں تک کی شہادت دے رہی ہے۔ مثلاً اپالو مشن کی پروازوں کے درمیان 4 مئی 1967 کے تاریخی دن راکٹ آربیٹر 4کے ذریعے ملنے والی تصویروں میں چاند کی سطح پر دوسوچالیس(240) کلومیٹر طویل اور آٹھ کلومیٹر چوڑی ایک بالکل سیدھی لکیر یا دراڑ کا نمایاں طور پر مشاہدہ کیا گیا۔ قدرتی عوامل کے تحت بننے والی لکیر یا دراڑ کبھی خط مستقیم میں نہیں ہوتی یعنی یہ شہادت ہے اس امر کی کہ آج سے چودہ سو سال پہلے انگلی کے اشارے سے چاند دولخت ہوا تھا(اس معجزے کی تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں ) عیسی علیہ السلام کا معجزہ یہ تھا کہ وہ مُردے زندہ کرتے تھے۔ آج ان کی قوم یہی کام کلون انسان پیدا کر کے کر رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سائنس ابھی دیگر معجزوں اور کرامات کی بھی گواہی دے گی خود سائنس کی مثال بھی جادو یا کرامت کی سی ہے۔

انبیاء کے معجزوں کے علاوہ اولیاء کی کرامات کا بھی تسلسل تاریخ سے ملتا ہے۔ اولیاء نے بھی مردوں کو زندہ کیا سوکھے درخت کو ہرا کیا۔ سوکھے اور رُکے ہوئے دریا کو چلا دیا اور ایسی بے شمار کرامات دکھائیں جو عام ھالات میں ناممکن ہیں۔ غرض روحانی کمالات کے جتنے بھی قصے تاریخ میں رقم ملتے ہیں آج دیکھنے میں نہیں آتے چند نام نہاد جادوگر کیمیا گری کے کچھ کرتب تو دکھاتے نظر آتے ہیں لیکن یہ بچوں کے سے کرتب کچھ خاص قابل توجہ نہیں ہیں۔

ماضی کا انسان محض روحانیت میں آج کے انسان سے بڑھا ہوائ نہیں تھا بلکہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی آج کے انسان سے بڑھا ہوا تھا۔ آج کے انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی میں ایسی ترقی نہیں کی جیسی کہ ماضی کے انسان نے کی تھی۔ ْْْْْقْْْیتک نہیں بن سکتا۔ مثلًا

قدیم انسان کی سائنسی برتری

ماہرین ابھی تک اہرامِ مصر کی عجوبہ عمارتوں کی ٹیکنیک میں الجھے ہوئے تھے کہ زیرِ سمندر ہزاروں برس پہلے کے شہر دریافت ہونے لگے۔ ایسے شہر جنہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی میں موجودہ دور سے زیادہ ترقی کی ہوئی تھی۔ ان زیر سمندر شہروں میں گرینائٹ پتھر سے تعمیر شدہ بلند و بالا عمارتیں، ڈامر (Asphalt) سے بنی ہوئی طویل سڑکیں، جہازوں کے طویل رن وے، اہرام، مندر، رومی و مصر کی طرز کے ستون، سیڑھیاں، اور گودام دریافت ہو رہے ہیں۔

مصر میں فیئجم (Fagium) کے مقام پر ایسی پینٹنگز ملی ہیں جن کے رنگ ہزاروں برس گزر جانے کے بعد آج بھی ہلکے نہیں پڑے جب کہ ایسے رنگ جدید دور میں ابھی تک دریافت نہیں ہو سکے۔

ولیم کونگ نے نظریہ پیش کیا کہ 2500 قبل مسیح میں عراق میں طلائی الیکٹرو پلیٹنگ کے ثبوت ملتے ہیں، امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کوسو ( Coso ) پہاڑی سلسلہ کے قریب لاکھوں سال پرانا اسپارک پلگ (۱۳ فروری ۱۹۶۱ کو) ملا ہے۔ جرمن ریسرچر ڈاکٹر کولن فنک کے مطابق 4300 برس قبل مصر کے لوگ بجلی کا استعمال جانتے تھے۔ 1938 میں بغداد کے قریب ڈھائی ہزار سال پرانی تہذیب کے کھنڈرات سے ایک الیکٹرک بیٹری دریافت ہوئی۔

ہندوستان میں 1800 قبل مسیح میں لکھی گئی ایک قدیم کتاب آگستا سمہتا (Agasta Samhita) میں الیکٹرک بیٹری کی تیاری کی تمام تفصیل موجود ہے۔ بائبل کتاب پیدائش باب 6 آیت 16 میں تحریر ہے۔ تم (نوح علیہ السلام) اپنی کشتی کے لئے ایک صہر (Tsohar) بناؤ اور اوپر سے ایک ہاتھ تک اسے مکمل کرو صہر کا ترجمہ ایک ایسی روشنی ہے جو سورج کی طرح روشن ہو۔ اسی طرح یہودیوں کی مقدس کتاب (ملکہ سباح اور اس کا اکلوتا بیٹا مینلیک میں بھی سلیمان کے گھر میں الیکٹرک بلب کا ذکر موجود ہے۔ اس کتاب کو کبیرا ناگست (Kebra Nagast) بھی کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے 1.5 Million سال پرانا پتھر کا گھر دریافت کیا ہے۔ جب کہ ترکانا (Turkana Body) لڑکے کا فوسل سولہ لاکھ سال پرانا ہے۔

چین میں ایک ایسی پر گوشت لاش ملی ہے جیسے کچھ دیر قبل دفنائی گئی ہو لیکن یہ دو ہزار برس قبل کی ہے۔ مصریوں کی لاشیں بھی آج تک محفوظ ہیں۔ اور باوجود کوشش کے جدید سائنسدان مادی جسم کو محفوظ کرنے کا ایسا مسالہ تیار نہیں کر سکے جیسا ماضی کے انسانوں نے تیار کر کے اپنی لاشوں کو محفوظ کیا تھا۔ ان اصل اور جدید فوسلز کی دریافت سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان لاکھوں سال پہلے نہ صرف انسان تھا بلکہ جدید ترقی یافتہ انسان تھا۔

رومی عہد کے شہر ٹائبرس (Tiberus) کے مقام پر ایسے شیشے دریافت ہوئے ہیں جو توڑے نہیں جا سکتے جیسا کہ آج بلٹ پروف شیشے استعمال کئے جاتے ہیں۔

ساؤتھ امریکن جنگل میں کولمبین تہذیب پر ریسرچ کرنے والے کولونل پی ایچ فاسٹ کے مطابق امریکن مائن انجینئرز کی ایک ٹیم کو سیروڈل پاسکو(Serodel Pasco) کے قریب ایک قدیم مقبرے میں جانچ کے دوران ایک سیل پیک بوتل ملی یہ حادثاتی طور پر گر کر ٹوٹ گئی اس بوتل میں موجود لیکوئڈ کے چند قطرے ایک پتھر پر گرے وہ پتھر لمحہ بھر میں نرم مٹی میں تبدیل ہو گیا لیکن کچھ دیر میں وہ دوبارہ عام پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ جب کہ آج کے سائنسدان ایسے کسی کیمیکل کی ایجاد نہیں کر سکے۔

صحرائے گوپی سے 1950 ء میں 20 لاکھ سال پرانا ایسا پتھر ملا ہے جس پہ کسی جوتے کے فٹ پرنٹ ہیں۔ لاکھوں برس قدیم اقوام (جنہیں ماہرین ہتھیار استعمال کرنے والے دو ٹانگوں والے حیوان قرار دیتے ہیں ) کے پاس ایسا کونسا فارمولا تھا جس سے وہ پتھر کو موم کر لیتے تھے۔ جب کہ ایک مغربی فزیالوجسٹ کو سات سے نو کروڑ برس قدیم ایک پتھر ملا ہے جس کے اندر سے اسٹین لیس اسٹیل کی گیارہ کیلیں Nails برآمد ہوئی ہیں۔ پیرو (امریکہ) کے شہر اکا (Ica) سے ملنے والے ہزاروں برس قدیم منقش پتھروں میں ایک گول گیند نما پتھر ایسا ملا ہے جس پر پوری دنیا کا نقشہ گلوب کی صورت میں ابھرا ہوا ہے اس میں موجود تہذیبوں کے علاوہ ماضی کی گمشدہ تہذیبیں بھی دکھائی گئی ہیں۔ مایا (Mayan) تہذیب سے دریافت ہونے والی ڈھائی ہزار برس قدیم تختیوں میں ایسی تصاویر ملتی ہیں جیسے کوئی شخص راکٹ یا ہوائی جہاز اڑا رہا ہو۔ مصر میں عبیدوس کے مقام پر سیتی اول ” Seti-1 ” کا پانچ ہزار برس قدیم معبد موجود ہے جسے نومبر1988 میں دریافت کیا گیا اس معبد کے شہتیر پر نہ صرف ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز بلکہ جیٹ طیارے، گلائیڈر اور اسپیس شپس کی بھی تصویر بنی ہوئی ہے۔ جب کہ بعض لوگ ان تصویروں کو جھٹلاتے ہیں جب کہ ان آثار کے ثبوت ہمیں تاریخی اور مذہبی کتابوں سے بھی ملتے ہیں۔ مثلاً ہندوؤں کی قدیم کتابوں (مہابھارت، رامائن اور پرانوں ) میں لفظ ومان (Vimana) یعنی اُڑنے والی رتھ کہا گیا جب کہ بائبل کی کتاب حزقیل میں انہیں کروبی “Cherub” اور تبت کی قدیم کتابوں میں کنٹویا اور ٹنٹویا (Kentyua-, Tantyua) میں اڑنے والی مشینیں کہا گیا جنہیں تبت کے لوگ پرلز (pearls) کہتے تھے اور یونان کی دیومالائی داستانوں میں بھی اڑنے والی سواریوں کا ذکر موجود ہے۔ جب کہ تاریخ طبری میں طوفان نوح کے عہد کے دو بادشاہوں کے ہوائی سفر کا تذکرہ ملتا ہے۔ قدیم بابل کی آشوری تہذیب کے کتبوں میں ایک طاقتور بادشاہ اتانا(Etana) ایک پرندے پر سفر کرتا ہے جو جہاز سے مشابہ ہے۔ ایسے ہی جہازی سفر کا ذکر قرآن نے سلیمان علیہ اسلام کے حوالے سے کیا ہے۔ نینوا سے برآمد ہونے والی ماضی کی قدیم ترین رزمیہ داستان گلگامشن (Gilgamish) کی ساتویں تختی میں گلگامش کا دوست انیکدو اُسے اپنے خلائی سفر کا چشم دید واقعہ سناتا ہے۔

قدیم یونانی فلسفیوں نے کہا تھا کہ ایتھر ایٹم کی روح ایٹم کا لطیف ترین وجود ہے۔ یونانیوں نے اس تعریف میں ایٹم کے حوالے سے دو انکشاف کئے ہیں۔

(۱)۔ ایٹم کا لطیف وجود

(۲)۔ ایٹم کے اندر مزید وجود

ہزاروں برس بعد ج ایٹم کے اندر مزید وجود (نیوکلیس، نیوٹران، پروٹون، الیکٹران، لپٹان اور کوراک) دریافت کر لئے گئے جب کہ ان دریافتوں سے پہلے تک سائنسدان ایٹم کو ہی ناقابل تقسیم ذرہ سمجھتے تھے۔

جب کہ یونانیوں نے مزید وجودوں کے علاوہ ایٹم کی روح یا لطیف جسم کا بھی تذکرہ کیا تھا۔

فوٹان کی دریافت یا (Wave Pocket) کی دریافت سے یہ ثابت ہو گیا کہ ایٹم میں لطیف توانائی بھی موجود ہے۔

قدیم معبدوں سے ملنے والی تصویروں میں DNA کی تصویر بھی شامل ہے یعنی وہ DNA سے بھی متعارف تھے۔

ماضی کے انسانوں نے جنیٹک میں بھی ایسی ترقی کی تھی کہ انہوں نے انسانوں اور جانوروں کے جینز سے ایسی مخلوق تیار کر لی تھی جو انسان اور حیوان کے درمیانی مخلوق تھی جس کی تصویریں ہمیں مقبروں میں نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ مخلوق ایسی وحشی تھی کہ اسی قوم کی تباہی کا سبب بن گئی اور خود ہی آپس میں لڑ کر تباہ ہو گئی۔ ان مخلوقات کا نوعی تسلسل قائم نہیں ہو سکتا تھا یہ مٹ گئیں۔ ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ قدیم اقوام نے کشش ثقل (Gravity) پہ بھی کنٹرول حاصل کیا تھا۔ جب کہ آج کے دور میں یہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔

(ایک پاکستانی (شیخ سراج الدین )کشش ثقل پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے ، اُس کے خیال میں وہ سائیکل گاڑی سے لے کر ٹربائن تک اس قوت سے چلا سکتا ہے لیکن یہاں اس کی کوئی سنتا ہی نہیں )۔

نینڈرتھل (Neanderthalensis) ڈھانچوں کی باقیات اور جدید انسان کے باہمی موازنے سے ثابت ہو چکا ہے کہ نینڈتھل کی کھوپڑی میں زیادہ بڑا دماغ سمانے کی گنجائش تھی جب کہ وہ جسمانی اعتبار سے بھی موجودہ انسان کے مقابلے میں مضبوط اور توانا(مکمل انسان )تھے۔

کَانُواَشَدَّ منکُحہ قُوَۃًّ۔ ترجمہ:۔ وہ تم سے زیادہ قوت والے تھے (سورہ توبہ ۶۹) یعنی قدیم انسان ذہنی و جسمانی لحاظ سے بھی آج کے انسان سے مضبوط تھے۔ ماضی کا انسان آج کے انسان سے زیادہ طویل العمر تھا۔ قدیم انسان ہزاروں برس کی عمر رکھتے تھے یا تو یہ قدرتی عمل تھا یا پھر ہو سکتا ہے انہوں نے طویل عمری کا راز دریافت کر لیا ہو جیسا کہ آج سائنسدان طویل عمری کا راز دریافت کرنے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں۔

ایک امریکی ماہر روحانیت ایڈگر کیسی کے مطابق معدوم شہر اٹلانٹس کے لوگ جدید دور سے بھی زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ اہرام مصر، ا سٹون ہینج، ایسٹر آئی لینڈ کے مجسمے وغیرہ انہی کی تعمیرات تھے۔ یہ لوگ ٹیلی پیتھی میں بھی مہارت رکھتے تھے ان کے پاس توانائی کا منبع ایک کرسٹل نما پتھر تھا جسے Tuaoi کہتے تھے یہ انعکاسی پتھر سورج کی روشنیوں کو جذب کر کے دوبارہ منعکس کرنے پر قادر تھا ( جب ایڈگر کیسی اٹلانٹس کی سولر انرجی کا ذکر کر رہا تھا تو اس وقت سولر انرجی کے استعمال کی ابتداء نہیں ہوئی تھی)۔ اٹلانٹس کی غرقابی اسی کرسٹل نما انعکاسی پتھر کے حد سے زیادہ استعمال سے ہوئی کرسٹل کی مدد سے لامحدود توانائی حاصل کرنے کی کوشش میں کرسٹل کی توانائی کا شدت سے اخراج ہوا اور یہ براعظم تباہ ہو گیا۔ یہ ہوائی جہاز کی ایجاد بھی کر چکے تھے جسے وہ Vilixi کہتے تھے۔

جب کہ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایسی بادشاہت کا ذکر ہے جو کسی دور میں کسی کو نہیں ملی سلیمان علیہ السلام کے قصے میں ان کی قوم ہر جدید ایجاد سے لیس نظر آ رہی ہے جن میں سر بہ فلک عمارتیں ہوائی جہاز، سینما، ٹیلی ویژن اجرام فلکی کا مشاہدہ کرنے والی رسد گاہیں اور دوربینیں ، بینک، آبدوز، کشتیاں راکٹ، بجلی کا استعمال، برقی تار، ٹیلی فون وائرلس وغیرہ ہر جدید ایجاد کی تفصیل اس قصے میں موجود ہے۔ قدیم انسانوں کے بارے میں حیرت انگیز دریافتیں جاری ہیں اور ان دریافتوں سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ ماضی کا یا قدیم انسان ترقی یافتہ انسان تھا لیکن اب سوال یہ ہے کہ قدیم انسانوں نے آخر کتنی ترقی کی تھی؟

ماضی کی اقوام سے ایک مشہور روایت منسوب ہے کہ ایک قوم نے علم میں اتنی ترقی کی تھی کہ مزید گنجائش ہی نہیں رہی تھی لہذا خالق نے اس قوم کی طرف اپنے فرشتے ( جبریل) کو بھیجا اس( جبریل علیہ اسلام) نے سڑک پر کھیلتے ایک بچے سے سوال کیا کہ بتاؤ جبریل اس وقت کہاں ہے لڑکے نے زمین پر کچھ لکیریں کھینچیں اور بولا۔ جبریل اس وقت آسمان پر ہے نہ زمین پر وہ تم ہو یا میں اور میں تو ہو نہیں سکتا لہذا جبریل اس وقت میرے سامنے ہے۔

مندرجہ ذیل تفصیل سے اندازہ لگائیں کہ وہ کونسا شعبہ ہے جس میں قدیم انسان پیچھے ہے جب کہ وہ ہر میدان میں آگے ہی نظر آ رہا ہے۔ جب کہ ماہرین کا (برسوں کی تحقیقات کے بعد) خیال ہے کہ لاکھوں برس پہلے زمین پر دو ٹانگوں والے حیوان بستے تھے (اور یہی ابتدائی انسان تھے جو رفتہ رفتہ انسانی صورت اختیار کر کے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئے )جو ایک دوسرے کا خون بہانے والے بے شعور انسان تھے پہلے تو وہ انہیں ہی انسانوں کی ابتدائی صورت کہتے رہے لیکن جدید تحقیقات نے ان کی ان خرافات کی نفی کر دی تو پھر انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اندازہ لگایا کہ موجودہ انسان 50,000 سال پہلے وجود میں آیا اور کوئی 40,000 سال پہلے دجلہ و فرات کے کنارے اچانک وہ تہذیب یافتہ ہو گیا۔

جب کہ جدید تحقیقات اور نت نئی دریافتوں سے میسر آنے والے مسلسل شواہد کے نتیجے میں ہمیں ہزاروں برس قبل کا نہیں بلکہ لاکھوں برس قبل کا انسان بھی آج کے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آ رہا ہے۔ آج کے انسان نے مادی ترقی تو کی ہے لیکن اپنی ہی روح پہ مادیت کی صدیوں کی تہہ چڑھا دی ہے اور آج صدیوں کا انسان خود کو شناخت کرنے سے انکاری ہے۔ کچھ ماہرین روحانیت کا خیال ہے کہ ترقی محض آج کے دور کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ ہر دور میں ہر قوم تقریباً دس ہزار برس میں ترقی کی اوج پر پہنچ جاتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے آثار تو ایسی ہی خبروں کی نشاندہی کرتے نظر آتے ہیں۔

اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ ہر قسم کی سائنسی، مذہبی اور تاریخی شہادتوں سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہر دور کا انسان نہ صرف انسان تھا بلکہ روحانی و مادی ترقی میں بھی آج کے انسان سے بڑھا ہوا تھا۔ جب کہ آج کچھ نام نہاد ماہرین ان تمام تر حقائق کی طرف سے آنکھیں بند کئے اپنے کچھ ذاتی تعصبات کی بنیاد پر انسان کو حیوان ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان کے غیر سائنسی مفروضوں اور بے بنیاد دعووں کی کلی اگرچہ کھل چکی ہے اور انہی کی بے کار کی جد جہد سے کارآمد ثبوت مل رہے ہیں اور اس حقیقت سے پردہ اُٹھ رہا ہے کہ ابتداء کا انسان کیسا با کمال با شعور اور ترقی میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ آج کا انسان اس کمال کو نہیں پہنچ سکا۔ جو ماہرین ابتدا کے انسان کو غیر مہذب حیوان قرار دیتے ہیں ان کے ان غیر سائنسی مفروضوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ جب کہ انسان کے عظیم الشان ماضی کی گواہی تاریخ، مذاہب اور خود سائنس فراہم کر رہی ہے۔ بہر حال ان ٹھوس شواہد کی روشنی میں یہاں ہم نے قدیم انسان کے بارے میں سائنسی، تاریخی اور مذہبی شہادتیں پیش کی ہیں لہذا اس تمام بحث سے درج ذیل نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

۱۔ ماضی کا انسان جانور نہیں تھا بلکہ( آج کے انسان سے زیادہ تہذیب یافتہ )انسان تھا۔

۲۔ ماضی کا انسان آج کے انسان سے زیادہ ذہنی و جسمانی اعتبار سے مضبوط انسان تھا۔

۳۔ ماضی کا انسان موجودہ دور کے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔

۴۔ وہ محض مادی ترقی ہی نہیں بلکہ روحانیت میں بھی درجہ کمال کو پہنچا ہو تھا۔

۵۔ ماضی کا انسان اپنے (انسان) بارے میں آج کے انسان سے زیادہ علم رکھتا تھا۔

۶۔ قدیم انسان موجودہ انسان سے زیادہ طویل العمر تھا۔

۷۔ ۔ قدیم انسان اپنے باطنی تشخص کا علم آج کے انسان سے زیادہ رکھتا تھا

۸۔ ۔ جدید تحقیقات اور روحانی مشقوں میں وہ آج کے انسان سے آگے بڑھا ہوا تھا

چرا اغلب رؤسای جمهور ایران با نظام مشکل پیدا می کنند؟

  صفحه نخست بین الملل اقتصادی فرهنگی/اجتماعی خانه ملت اندیشه‌ی دینی ورزشي خواندنی و چند رسانه‌ای حسینیه 598    
وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا     به‌روز شده در: ۰۵ دی ۱۳۹۷ - ۱۶:۴۷     دریچه   ویدئو/ نحوه قیمت گذاری خودرو مشخص شد!     آخرین اخبار  مراسم تشییع و تدفین پیکر آیت الله هاشمی شاهرودی در قم + تصاویر  برای بودجه‌ریزی بر روی چه منابع درآمدی حساب‌می‌شود؟/ هزینه‌کردهای بودجه‌ها در دوره‌های مختلف به چه صورت بوده است؟/ چگونه می‌توان از زکات به عنوان منبع مهم درآمدی در بودجه استفاده برد؟  نامه شهیدی که ۳۰ سال بعد به خانواده‌اش رسید  برف و باران ۲۲ استان را فرا می‌گیرد  شیطان تا چه زمانی از فرزند آدم می‌ترسد؟  رگه‌هایی از بخل قارون در ثروتمندان کنونی وجود دارد  سروش صحت «فوق لیسانسه‌ها» را می‌سازد  پیام تسلیت آیت الله صدیقی به مناسبت درگذشت حضرت آیت الله هاشمی شاهرودی  عکس/ حضور احمدی‌نژاد در تشییع آیت‌الله شاهرودی  آیا سکته راننده اتوبوس واقعیت است؟  دلیل تیراندازی در میدان جمهوری اعلام شد  سفیر پاکستان در آمریکا برکنار شد  طلا صعود کرد  افزایش دما در استان‌های ساحلی دریای خزر  آخرین اسامی مصدومان و جانباختگان اتوبوس  پاسخ پدافندی سوریه به حملات هوایی رژیم صهیونیستی از حریم لبنان  فیلم/ اقامه نماز بر پیکر مرحوم آیت‌الله هاشمی شاهرودی  رهبر انقلاب بر پیکر آیت الله هاشمی‌شاهرودی نماز اقامه کردند  کامنت‌های بووووووق‌دار زیر صفحه سلبریتی‌ها  انتقال اجساد ۹ جانباخته اتوبوس دانشگاه آزاد به پزشکی قانونی  حادثه واژگونی اتوبوس دانشجویان در تهران؛ شمار قربانیان به ۱۰ نفر رسید  نحوه محاسبه سود ماه‌شمار  فهرست تیم ملی که اعلامش جنجال آفرید  آیا اتوبوس حادثه دیده همان اتوبوس ترمزبریده بود؟  اقامه نماز بر پیکر مرحوم آیت‌الله سیدمحمود هاشمی شاهرودی توسط "رهبر انقلاب"  نمی‌شود به مردم از تحریم بگوییم و خودمان «شاسی‌بلند» سوار شویم  پسر پزشک پرسپولیس در ICU بستری شد  پیکر آیت‌الله هاشمی شاهرودی با حضور رهبر انقلاب تشییع می‌شود  قیمت بنزین در سال آینده چقدر است؟  دومین مصدومیت عامل از دست رفتن جام ملت ها برای عزت اللهی/رضایی پشت خط ماند  تصاویر/ صفحه نخست روزنامه‌های 5 دی  فردا عزای عمومی اعلام شد  پیمانکار حمل و نقل و مسئول تأسیسات دانشگاه علوم تحقیقات بازداشت شدند  پیام تسلیت رهبر انقلاب در پی حادثه مصیبت‌بار درگذشت دانشجویان  پیام تسلیت مدیرعامل بانک ملت در پی درگذشت آیت الله هاشمی شاهرودی  آدم کوچولو‌ها به کی روش اجازه دادند ایرانی را از بالا نگاه کند!  خبر بد برای شفر/ ستاره استقلال در اردوی تیم ملی مصدوم شد  بودجه وزارت نفت ۱۵ درصد کاهش یافت  رفتار مشکوک صرافان و دلالان در بازار ارز  به داد گوشی‌های سرقتی برسید!   پربازدید ها  چرا اغلب رؤسای جمهور ایران با نظام مشکل پیدا می کنند؟  از لحاظ پزشکی امکان حیات ایشان وجود ندارد اما خبر فوت را باید خانواده ایشان اعلام کنند  قیمت دلار قیمت ارز امروز ۹۷/۱۰/۰۲  قیمت سکه و قیمت طلا امروز ۲ دی ۹۷  عکس/ مجرم اقتصادی خانم در دادگاه ویژه  دغدغه جدید دختر نجومی بگیر معروف  آمار قربانیان سونامی اندونزی؛ ۲۸۰ نفر  ماکرون هدایای امیر قطر را پس داد  واکنش هاشمی به بلیت ۱۰ هزار تومانی مترو  توتال به جرم پرداخت رشوه به «افراد مرتبط با مهدی هاشمی» محکوم شد/ چرا مدعیان مبارزه با پولشویی امثال محمود صادقی و علی مطهری سرنوشت رشوه‌های دریافتی را پیگیری نمی‌کنند؟   پربحث ترین عناوین  چرا اغلب رؤسای جمهور ایران با نظام مشکل پیدا می کنند؟  (۵ نظر)   کد خبر: ۴۵۰۳۷۶ تعداد نظرات: ۵ نظر تاریخ انتشار: ۰۳ دی ۱۳۹۷ - ۱۱:۲۴   صفحه نخست » صفحه نخست       پژوهش تفصیلی از دکتر امیر حمزه مهرابی؛ چرا اغلب رؤسای جمهور ایران با نظام مشکل پیدا می کنند؟ نخست وزیر سابق، قبل از اتمام شمارش آراء، خود را پیروز انتخابات اعلام می کند و مردم را به شورش دعوت می کند. رئیس جمهور اسبق دیگر رهبریِ جریان فتنه را بر عهده می گیرد و علیه نظام قانونی و برخاسته از آراء مردم، قیام می کند. آن یکی نه تنها خودش، بلکه اطرافیانش را خط قرمز اعلام می کند. دیگری پیام می دهد که اگر برادرم را محاکمه کنید جنگ به راه می افتد و انتخابات را برگزار نمی کند. این رفتارها در کدام کشور تحمل می شود؟ سرویس سیاسی پایگاه 598-دکتر امیر حمزه مهرابی؛ این سؤال به اَشکال مختلف در اذهان عمومی بویژه در شبکه های اجتماعی مطرح شده و می شود و تاکنون پاسخی کامل و جامعی به این سوال داده نشده است.
برخی آن را ناشی از ماهیت نظام، یعنی عدم تجانس «جمهوریت» و «اسلامیت» نظام می دانند. عده ای این مشکل را ناشی از نقص در قانون اساسی معرفی می کنند و گروهی نیز آن را به گردن رهبری نظام می اندازند که ایشون نمی تواند با کسی بسازد و....
پدیده های اجتماعی، موضوعات پیچیده ای هستند که عوامل متعددی در بروز آن نقش دارند و نگاه تک بُعدی، آن هم از زاویه سیاسی، واقعیت مطلب را بیان نمی کند. ما در اینجا بر اساس سه رویکرد علمی به بررسی این پدیده مبتلابه می پردازیم:
1-رویکرد روان شناختی (رفتارگرایانه) که بر نقش انسان و شخصیت فرد تأکید می ورزد و علت اصلی موفقیت ها و شکست ها را افراد می داند. اثرات محیط را یا نادیده می گیرد و یا کم اثر می داند. روان شناس ها طرفدار این رویکرد هستند
2-رویکرد جامعه شناختی (ساختارگرایانه) که محیط ساختارها، قوانین و مقررات و ... را عامل اصلی معرفی می کند .فرد را مقهور شرایط محیطی و ساختار ها می داند. جامعه شناس ها و فلاسفه جبر گرا مدافع این نظر هستند.
3-رویکرد کارکردگرایی که با تشبیه جامعه به موجود زنده، بر چگونگی ایفای نقش و انجام وظیفه اعضاء و ارکان جامعه و سیستم، تمرکز دارد. بر اساس این رویکردگفته می شود:
ممکن است بهترین ساختار، ضوابط و مقررات و...داشته باشیم. افراد هم خوب و شایسته باشند ولی در قالب یک سیستم نتوانند وظیفه و نقش خود را به درستی ایفا کنند. در این صورت کل جامعه دچار مشکل می شود.
 
بخش اول
اشکالات روانشناختی
 
 
 
1-رویکرد روان شناختی (رفتارگرایانه)
 
براساس این رویکرد ، مشکل پدید آمده برای بعضی از مسولین کشور مثل برخی از رؤسای جمهور ، قائم مقام رهبری و ... مربوط به ویژگی خود آن ها و ناشی از مشکلات شخصیتی این افراد ست که برخی از آن ها عبارتند از :
 
1-1:عدم خود سازی و تهذیب نفس و نداشتن آمادگی برای تصدی مسئولیت های بزرگ
 
در قانون اساسی ،ریاست جمهوری دومین مقام بعد از رهبری است بنا بر این از نظر اخلاقی و خودسازی باید شبیه امام جامعه بوده و بایستی مراتب سیر و سلوک را قبل از تصدی مسئولیت طی کرده باشد و حین مسئولیت نیز تکامل یابد.
چنان که امام علی (علیه السلام) می فرمایند :
مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَاماً، [فَعَلَيْهِ أَنْ يَبْدَأَ] فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ، وَ لْيَكُنْ تَأْدِيبُهُ بِسِيرَتِهِ قَبْلَ تَأْدِيبِهِ بِلِسَانِهِ؛ وَ مُعَلِّمُ نَفْسِهِ وَ مُؤَدِّبُهَا، أَحَقُّ بِالْإِجْلَالِ مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ وَ مُؤَدِّبِهِمْ‏.
«هر كه خود را پيشواى مردم خواهد، بايد كه پيش از ادب كردن ديگران به ادب كردن خود پردازد و بايد كه ادب كردن ديگران به كردار باشد، نه به گفتار. كسى كه آموزگار و ادب كننده خويش است، سزاوارتر به تعظيم است، از آنكه آموزگار و ادب كننده مردم است.»
*امام حسن عسکری (ع) در حدیث معروف خود، برای دوران غیبت، در خصوص ویژگی های کسانی که می خواهند رهبری جامعه و مسئولیت را برعهده گیرند، می فرمایند: (..صائنا لنفسه، حافظا لدينه، مخالفاً على هواه، مطيعاً لأمر مولاه..) که علاوه بر داشتن علم باید خود نگهدار، حافظ دین، مخالف هوای نفس و مطیع فرمان ولی خود باشد.
امام خمینی (ره) در کتاب جهاد اکبر خود می نویسند: خدا نکند انسان پیش از آنکه خود را بسازد جامعه به او روى آورد و در میان مردم نفوذ و شخصیتى پیدا کند، که خود را می بازد. قبل از آنکه عنان اختیار از کف شما ربوده شود خود را بسازید و اصلاح کنید.
 
منقول است که رهبر عزیز انقلاب حضرت آیت الله خامنه ای هر بار که به ملاقات مرحوم آیت الله العظمی بهجت می رفتند، دستورات مشکل تری را برای تهذیب نفس به ایشان می دادند و می فرمودند: چون مسئولیت بالاتری در پیش دارید باید بیشتر روی خودت کار کنی.
قاعدتاً افرادی که نتوانند بر نفس سرکش خود غلبه کنند و امر سلسله مراتب ولایت (خدا - پیغمبر -امام - ولی فقیه ) را اطاعت کنند، شایستگی تصدی مسئولیت های بالا را ندارند
یادآوری میزان اطاعت پذیری از امام توسط بنی صدر در طرد منافقین،آیت الله منتظری در کنار زدن سید مهدی هاشمی قاتل و جنایتکار،از یک سو و از سوی دیگر اطاعت محض آیت الله خامنه ای از امام خمینی در معرفی میر حسین موسوی بعنوان نخست وزیر (علارغم میل باطنی) و همچنین ولایت پذیری احمدی نژاد در فاصله گیری از افرادی مثل مشایی و تبعیت پذیری روحانی در مسأله مذاکرات هسته ای واقتصاد مقاومتی و...می توانند ملاک خوبی برای ارزیابی میزان اطاعت پذیری آن ها از ولایت باشد.
بر اساس آموزه های اسلام نیز، حب دنیا و قدرت و شهرت طلبی، عامل اصلی و کلیدی همه انحرافات است.
 
 
 
 
 
 
1-2: عدم تبعیت از قانون و خود را فراقانون دانستن
 
یکی دیگر از مشکلات شخصیتی برخی از روسای جمهور ایران، خود را مافوق قانون دانستن است.در حالی که :
-در تاریخ آمده است که امام علی (ع) در دوران حکومت خود از جانب یک اقلیت مذهبی به دادگاه فراخوانده می شوند. ایشان شخصاً در دادگاه حضور می یابند و قاضی بر اساس شواهد ظاهری حق را به آن مرد یهودی می دهد و امام نیز حکم قاضی علیه خود را می پذیرد ولی شاکی که می دانسته حق با او نیست ، ضمن اقرار به حق امام و رَّد زره به امام علی ( ع)، مسلمان می شود.
*در انتخابات سال ۲۰۰۰ آمریکا با وجود اینکه آراء مردمی ال گور بیشتر از جرج بوش بود . ولی براساس کارت الکترال و به حکم دادگاه قانون اساسی ، جرج بوش رئیس جمهور شد و ال گور با پذیرش این حکم قانونی، بدون اقدام به شورش و قیام، کنار رفت و سالهای بعد نیز تلاشی برای کسب قدرت نکرد.
 
*رئیس جمهور کره جنوبی خانم « پارک گون-هی » فرزند رئیس جمهور محبوب ،افسانه ای و معمارکره که با آراء زیاد مردم انتخاب شد ،پس از چند ماه به اتهام سوءاستفاده از قدرت برای کمک به یکی از دوستانش به حکم دادگاه قانون اساسی( شبیه شورای نگهبان ایران) از ریاست جمهوری برکنار و زندانی شد وبه حکم دادگاه به 24 سال زندان محکوم گردید.
نکته جالب اینکه وی در روز محاکمه در پاسخ به قاضی که از وی پرسید: شغل شما چیست؟، پاسخ داد «من شغلی ندارم و بیکار هستم »
 
اما در ایران:
-قائم مقام رهبری بخاطر حکم دادگاه در مورد یکی از نزدیکانش که چندین بیگناه را به قتل رسانده بود، علیه امام و نظام قیام می کند .
-رئیس جمهور سابق ایران که حاضرنیست از این مقام دل بکند، در نامه های عجیب و غریبش هنوز از سربرگ ریاست جمهوری دوره ... استفاده می کند.
-یک رئیس جمهور اسبق (با وجود اینکه همچنان در راس هرم قدرت بود) منزل و دانشگاه تحت اختیارش را به ستاد براندازی نظام تبدیل می کند و از فرزندان مجرمش تا آخرین لحظه حمایت می کند و دست به هر کاری می زند تا محاکمه نشود یا با احکام سبک تری روبرو شوند.
-نخست وزیر سابق، قبل از اتمام شمارش آراء و بر خلاف همه قوانین، خود را پیروز انتخابات اعلام می کند و بجای ارجاع به مراجع قانونی، راساً اقدام می کند و مردم را به شورش و درگیری دعوت می کند و موجب ریخته شدن خون بیگناهان و خسارت های زیادی بر کشور و مردم می شود .
-رئیس جمهور اسبق دیگر رهبریِ جریان فتنه را بر عهده می گیرد و علیه نظام قانونی و برخاسته از آراء مردم، قیام می کند و مرتکب خیانت بغی می شود.
-آن یکی نه تنها خودش، بلکه اطرافیانش را خط قرمز اعلام می کند و با قلدری احضار یه دادگاه برای حضور در دادگاه را نمی پذیرد.
-دیگری پیام می دهد که اگر برادرم را محاکمه کنید  جنگ به راه می افتد و انتخابات را برگزار نمی کند.
-معلوم نیست اینان بر چه اساسی خود را و اطرافیانشان را فراقانون تصور می کنند؟ واقعا مشکل از داشتن خوی فراقانونی این افراد است یا مشکل از نظام است که با این ها مماشات می کند؟ این رفتارها در کدام کشور تحمل می شود؟ حکم این افراد در کشورهای دیگر چیست؟
چند نفر از روسای جمهور و وزرای ما مشابه جرم رئیس جمهور کره جنوبی را مرتکب شده اند؟
 
1-3:قدرت طلبی و تمایل به بقاء درقدرت توسط مسئولین
 
یکی دیگر از مشکلات شخصیتی برخی از روسای جمهور ایران، حب ریاست و تمایل به بقاء درقدرت است.
در حالی که در آموزه های اسلام، حب مقام و ریاست طلبی، مذمت شده است.
چنان که امام رضا (ع)می فرمایند : مَا ذِئْبَانِ ضَارِیَانِ فِی غَنَمٍ قَدْ تَفَرَّقَ رعَاؤُهَا، بِأَضَرَّ فِی دِینِ الْمُسْلِمِ مِنَ الرِّئَاسَة.( کافی،ج۲،باب طلب الرئاسة،ص۲۹۷ )
ضرری که شخص ریاست طلب به دین می‌زند، بیشتر از حمله دو گرگ درنده به یک گله گوسفند بی چوپان است
همچنین امام الرّضا (علیه السلام): من طلب الرئاسة لنفسه هلك‌، فان‌ّ الرئاسة لا تصلح اِلاّ لاَهلِها(بحارالانوار: جلد 2، صفحه 308، حديث 64)
كسي كه براي خود رياست را بخواهد هلاك خواهد شد، چرا كه رياست جز براي اهلش صحيح نيست‌
 
خوب است بدانید، در طول 300 سال تاریخ آمریکا هیچ یک از 40 رئیس جمهوراین کشور (به جز یک نفرشان که در دوره دوم رأی نیاورده بود) دوباره به قدرت برنگشته و هیچ تلاشی هم برای بازگشت نکرده اند.
هیچ رئیس جمهوری در آمریکا اقدام به براندازی نکرده و از براندازان نیز حمایت نکرده است.
اینان با قبول اینکه در دوران ریاست خود هر آنچه را که می توانسته اند ،کرده اند و حال باید به دیگران مجال بروز ایده ها و طرح هایشان داده شود و با ترجیح منافع عمومی بر منافع شخصی یا گروهی وباهدف تقویت هژمونی آمریکا و امنیت ملی ، بیشترشان بعنوان مشاور و یا به کارهای خیریه و عام المنفعه مشغولند.
 
اما اغلب رؤسای جمهور ایران پس از اتمام دوره هشت ساله، بارها و بارها حتی در سن 70 –80 سالگی و یا علی رغم منع چندین باره رهبری، باز برای بازگشت به قدرت اقدام کرده اند.
اینان در دوران ریاستشان، احزاب دولت ساخته ای مثل کارگزاران، مشارکت، اعتماد ملی و بنیادهایی مثل «باران»، «بهار» و.. را با هدف تداوم قدرت خود و همفکران تأسیس کرده اند.
برخی طرح تغییر قانون اساسی و مادام العمر کردن ریاست را بطور جدی پیگیری کردند. در منزلشان ستاد براندازی تشکیل دادند و فرزندانش با ارتباط با انگلیس تا مرز کودتا علیه نظام پیش رفتند.
دیگری رسماً رهبری فتنه عظیم 88 را بر عهده می گیرد و در نقش یک کودتاگر با حمایت مالی عربستان و هدایت عملیاتی جورج سوروس، در صدد کودتای مخملی برمی آید.
فرد دیگری نقش اپوزیسیون را به خود می گیرد و با نامه پراکنی های مستمر و قلدر مأبانه، پیشنهاد قلع و قمع رؤسای هر سه قوه و حذف شورای نگهبان، به رهبری می دهد و خواستار انتخابات زود هنگام برای مجلس و ریاست جمهوری می شود.
واقعاً اگر این کشور از نعمت ولی فقیه برخوردار نبود، این آقایان چه بر سر این ملت می آوردند؟
بیاد فرموده حضرت امام خمینی (ره) می افتیم که فرمودند: «ولایت فقیه است که جلو دیکتاتوری را می گیرد. اگر ولایت فقیه نباشد، دیکتاتوری می شود. ولی فقیه جلوگیری می کند از این که رئیس جمهور دیکتاتوری بکند و...»
در کدام کشوردمکراتیک (که آراء مردم سرنوشت حاکمان را تعیین می کند) با چنین افراد و پدیده های عجیب و غریبی روبرو هستند؟ گویا هنوز فرهنگ و تفکر دیکتاتوری پادشاهان گذشته، از درون برخی خارج نشده است . در زمان تبلیغات های انتخاباتی ،همگی شاهد اقدامات و حرف های دروغ و عوام فریبانه برخی کاندید ها بودیم تا هر طورشده، بر صندلی ریاست تکیه بزنند .
️بدیهی است ضرر چنین افرادی برا ی کشور ،بیشتر از حمله دو گرگ درنده به گله بی صاحب است.
 
 
 
 
 
بخش دوم
اشکالات ساختاری
 
2-رویکرد جامعه شناختی (ساختارگرایانه)
 
در بخش های قبلی فقط به برخی از عوامل روانشناسی اشاره کردیم که اشکالات و انحرافات را متوجه خود مسئولین می کرد. بر اساس این رویکرد، برای رفع این نقیصه، باید به اصلاح خلق و خو و رفتار مسئولین، پرداخت (ضرورت خود سازی مسئولین).
در این بخش با نگرشی ساختارگرایانه به این موضوع می پردازیم:
گفته شد که، رویکرد جامعه شناختی (ساختارگرایانه) محیط، ساختارها ، قوانین و مقررات و ... را عامل اصلی معرفی می کند .
️با توجه با اینکه تعداد زیادی از رؤسای جمهور دچار مشکل شده اند ، می توان نتیجه گرفت که ساختار طراحی شده در نظام جمهوری اسلامی نیز نقص هایی دارند که باید با بررسی کارشناسانه ، اصلاح شوند.
یا مطالعات اولیه بنده برخی از اشکالات ساختاری نظام در اداره کشور عبارتند از:
 
2-1: عدم تفکیک پست های "سیاسی" از "اداری" (سیستم تاراج)
 
بر اساس ساختار فعلی ایران، (شبیه برخی کشورهای غربی تا اوایل قرن 19)، وقتی یک فرد یا حزب به قدرت می رسد همه مدیران (از بالا تا پایین، حتی تا سطح آبدارچی و راننده یک اداره) را هم عوض می کند (سیستم اتوبوسی). در غرب این روش به «سیستم تاراج» مشهورشد.
سیستم تاراج (Spoils system) به پدیده‌ای گفته می‌شود که طی آن یک حزب پیروز، مثل لشکر فاتح جنگ .همه چیز را عین غنایم جنگی از آنِ خود می داند.لذا مشاغل اداری مهم را به عنوان جایزهٔ همکاری در راه پیروزی به هواداران، دوستان و خویشاوندان خود می‌دهد. در واقع ملاک انتصاب به جای شایستگی و تخصص ، وابستگی به حزب پیروز بود .
این شیوه دارای مضرات زیادی است مثل:
ترجیح سیاسی کاری بر تخصص گرایی، حذف نیروی متخصص و جایگزینی همفکران، نادیده گرفتن تجربه و شایستگی مدیران، عدم ثبات در اداره، از بین رفتن امنیت شغلی برای مدیران کارآمد،مالکیّت و کسب غنیمت به جای مدیریّت،ترجیح رضایت مافوق بر مصلحت و منفعت عامه، حق انگاری مناصب قدرت برای خویش ، تصور مالکیت شخص مدیر بر اموال سازمان ،عدم مسؤولیّت پذیری و پاسخگویی ، کمک مدیران دولتی به پیروزی مجدد حزب سیاسی خود در جریان برگزاری انتخابات و...
مهم تر از این ها، وجود ساختاری که اجازه دهد فرد پیروز این همه تغییرات را در سطح کشور انجام دهد و به این همه غنیمت دست پیدا کند، قاعدتاً پس از 8 سال یکه تازی در این وضعیت ، قادر به دل کندن از این تنعمات نخواهد بود.
راه حل :
در اواخر قرن 18 مشاهده این وضعیت برای دلسوزان کشور هایی مثل آمریکا ، انگلیس و آلمان قابل تحمل نبود ، برای جلوگیری از یکه تازی سیاسیون، اندیشمندانی مثل ( ویلسون و ماکس وبر) ، نظریه تفکیک «سیاست» از «اداره» را مطرح کردند. بر اساس این ایده، پست های "سیاسی" از پست های "اداری" جدا می شود و رئیس جمهور مجازاست فقط پست های سیاسی رده ی یک و دو را عوض کند و حق جابجایی مقامات اداری را ندارد.
با این ساختار، ضمن کاهش مضرات سیستم تاراج، روسای جمهور برای حفظ آن همه غنیمت، به هر وسیله ای چنگ نمی زنند و بر روی نظام پنجه نمی کشند . مدیران ادارات نیز خود را خادم عموم مردم می دانند نه مدیون احزاب و جریانات سیاسی.
دلسوزان نظام بایستی در اولین فرصت در طرح تحول اداری ، حدود دخالت مقامات سیاسی را در نظام اداری تعیین کنند و به تداوم سیستم تاراج پایان دهند.
 
*کاریکاتورمنتشر شده در اعتراض به سیستم تاراج در مطبوعات آمریکا که رئیس جمهور ،اندرو جکسون(۱۸۲۰) سوار بر خوکی، که روی کلمات «تقلب»، «رشوه»، و «غنایم»، خوابیده و در حال خوردن «تاراج».است را نشان می‌دهد.
 
 
 
 
 
2-2 :عوام گرایی افراطی
 
در حال حاضرانتخابات به دو روش انجام می شود:
الف-انتخابات یک مرحله ای: که با رأی مستقیم عامه مردم صورت می گیرد. مثل انتخابات نمایندگان مجلس و ریاست جمهوری در ایران.
ب- انتخابات دو مرحله ای: که با رأی غیر مستقیم مردم انجام می شود . مثل انتخاب وزراء و رهبری ایران که توسط نمایندگان مردم صورت می گیرد.
هر کدام از این دوروش دارای محاسن و معایبی است .
به روش اول، دمکراسی کثرت گرا یا عوام گرا (Populism) و به روش دوم، دمکراسی نخبه گرا (Elitism) گفته می شود.
با بررسی اندیشه های سیاسی و حقوق اساسی ، شاهد تفوق نگرش نخبه گرایی بر عوام گرایی هستیم .
افلاطون بر نقش فلاسفه و خواص در انتخاب فرمانروا تاکید کرده و حاکم را «فیلسوف شاه» می نامد.
ارسطو، دمکراسی اکثریت را برابر دانستن نابرابر ها می داند .
پاره‌تو در مهم‌ترین اثر خود "جامعه‌شناسی عمومی" رفتار انسانی را به دو دسته‌ی «عقلانی» و «غیرعقلانی» تقسیم می‌کند .از دیدگاه وی غریزه‌ی اول در «الیت ها و نخبگان سیاسی» و غریزه‌ی دوم در «توده‌ها» متمرکز است.
موسکا:سیاست‌شناس ایتالیایی ، سیاست را مجمع اشراف می‌داند.
وشومپیتر؛ بهترین دموکراسی را مشروعیت‌بخشی به نخبگان معرفی می کند .
در حوزه عمل نیز بسیاری از کشور ها ضمن احترام به نقش عامه مردم ، از کارکرد نخبگان غفلت نورزیده اند .
در ساختارسیاسی آمریکا ، حضور نقش نخبگان بسیار پررنگتر از ساختار سیاسی ایران است . به طوری که قوه مقننه (کنگره آمریکا ) با انتخاب رویکرد « دو پارلمانی» و قرار دادن مجلس سنا (نخبگان ) در کنار مجلس نمایندگان (نماینده عامه) ، موج احساسی و پوپولیستی را تعدیل کرده اند.
علاوه بر این، دو حزب قوی و با سابقه جمهوری خواه و دمکرات ، عملاً افکار عامه و توده مردم را جهت می دهند .
در انتخاب رئیس جمهور نیز علاوه برعامه مردم ، نخبگان هر ایالت با کارت الکترال نظر نخبگی خود را در انتخابات اِعمال می کنند به طوری که چه بسا نقش کارت های الکترال در انتخابات، بیشتر از آراء اکثریت مردم سرنوشت ساز بوده است.
در کشورهایی مثل فرانسه و انگلیس نیز ، برای کاهش خطرات موج احساسات توده ها ، علاوه بر وجود «دو پارلمان» ، حضور احزاب قدرتمند، نقص عدم حضور نخبگان را جبران کرده اند. در این کشورها، عملاً نقش آفرینان اصلی عرصه سیاسی، نخبگان و الیت ها هستند که در قالب احزاب، سامان یافته اند و به کمک رسانه ها، جهت دهی افکارعمومی را بر عهده دارند.
هرچند از بُعد نظری و عملی ثابت شده است که نخبگان و خواص جامعه کمتر تحت تاثیر فضای احساسی قرار می گیرند، ولی در ایران با افراط در عوام گرایی ، دو رکن اساسی نظام (قوه مقننه و قوه مجریه ) با رأی مستقیم عامه مردم انتخاب می شوند و روشی برای نقش آفرینی گروه های نخبگانی و الیت ها برای کاهش موج احساسی و تقویت رفتارعقل گرایانه رای دهندگان در انتخاب رئیس جمهور ، پیش بینی نشده است .
آراء عجیب و غریب و گاه متضاد مردم ایران ، در این راستا قابل تجزیه و تحلیل است .چرا که افرادی با بهره گیری از شگرد های عوام فریبانه مثل : خاطره سازی ، گریه و تحریک احساسات ، تهدید به افشاگری و بگم بگم ،ایفای نقش اپوزسیون ، شکستن خطوط قرمز نظام ، وعده های توخالی و دروغ های شاخ دارو....به راحتی برموج احساسات مردم سوار می شوند.از این رو ظهور پدیده هایی مثل بنی صدر، خاتمی، احمدی نژاد و روحانی و... امری عادی است و بروز تضاد چنین افرادی با کلیت نظام قابل پیش بینی است.
افرادی که برای حضور در ساختار قدرت تربیت نشده اند و قادر به ایفای نقش مدیریت عالی نیستند، قاعدتاً با زبان بازی و موج سواری ،بجای برنامه ریزی برای اقدامات کلان و تاکید بر« میل» مردم به جای «خیر» و نیاز واقعی آنان، یا مشکلات را به گردن دولت های پیشین می اندازند و یا با جو سازی و ایفای نقش اپوزیسون، سعی در فضا سازی و تبرئه خویش از پاسخگویی می نمایند.
راه حل :
برای جلوگیری از بروز چنین مشکلاتی اقدامات زیر را می توان پیشنهاد کرد :
1- تبدیل انتخابات مستقیم به غیر مستقیم و ایفای نقش بیشتر توسط نخبگان و نمایندگان مردم ،
2- تشکیل نظام قانون گذاری دو پارلمانی( عوام و خواص)
3- به رسمیت شناختن احزاب مردمی و غیر وابسته به بیگانه
این اقدامات احتمالاً تا حدود زیادی در به قدرت رسیدن افراد شایسته تر و تربیت یافته تر در سیر مراحل ادرای و نظام قدرت، مؤثر باشد.
 
2-3: وجود ساختار بینابینی ( تذبذب بین نظام ریاستی و پارلمانی )
 
از سال 1368که نظام سیاسی ایران (در جریان بازنگری قانون اساسی) از پارلمانی به ریاستی تغییر یافت، هیچ حرفی درباره خوب یا بد بودن «نظام پارلمانی» و «نظام ریاستی» مطرح نشد تا اینکه برای اولین بار در سال 90 مقام معظم رهبری در سفرش به کرمانشاه و در دیدار با دانشجویان ، به این موضوع پرداختند.
ایشان در این خصوص فرمودند: «ما یک روزی در قانون اساسی نخست‌وزیر و رئیس جمهور داشتیم، با یک شکل خاصی؛ بعد تجربه به ما نشان داد که این درست نیست. امام دستور دادند گروهی از خبرگان ملت و نخبگان و... بنشینند و آنچنان که بر طبق نیاز است، آن را تغییر بدهند. همین کار را هم کردند.
 
در آینده هم این‌ها قابل تغییر است. امروز نظام ما نظام ریاستی است؛ یعنی مردم با رأی مستقیمِ خودشان رئیس جمهور را انتخاب می‌کنند؛ تا الان هم شیوه بسیار خوب و تجربه‌ شده‌ای بوده ‌است. اگر یک روزی در آینده‌های دور یا نزدیک، احساس شود به جای «نظام ریاستی» مثلاً «نظام پارلمانی» مطلوب است، هیچ اشکالی ندارد؛ نظام جمهوری اسلامی می‌تواند این خط هندسی را به خط دیگر هندسی تبدیل کند؛ تفاوتی نمی‌کند.»
اما متاسفانه این بحث مهم و اساسی در محافل علمی و حوزه های نخبگانی (فارغ از نگاه سیاسی و جناحی ) دنبال نشد.
 
یادآورمی شود که در کشورهایی که انتخابات برگزار می شود ، چهار نوع نظام سیاسی رواج دارد:
 
1-نظام ریاستی: که رئیس جمهور مستقیماً توسط مردم انتخاب می شود و معاون اول و وزراء و سایر معاونتها، رأساً توسط رئیس جمهور انتخاب می شود . مثل آمریکا که قدرت اصلی در اختیار رئیس جمهور است و رئیس جمهور می تواند مصوبات قوه مقننه را وتو کند و حتی حق انحلال مجلس را دارد .
2-نظام پارلمانی: که نخست وزیر و وزراء توسط مجلس انتخاب می شود و پادشاه نقش تشریفاتی دارد ( مثل انگلستان). که مجلس از بالاترین قدرت برخوردار است .
در ایران قبل از اصلاح قانون اساسی چیزی شبیه به این روش بود با این تفاوت که اینجا به جای پادشاه رئیس جمهوری بود که نقش اجرایی چندانی نداشت، هرچند از جانب مردم انتخاب شده بود.
3-نظام نیمه پارلمانی: رئیس جمهور با رأی مستقیم مردم انتخاب می شود ولی نخست وزیر و وزراء با معرفی رئیس جمهور و رأی نمایندگان انتخاب می شوند ( مثل فرانسه ، پرتغال و روسیه )
در ترکیه هم تازگی ها با اصلاح قانون اساسی، این نوع نظام حاکم شده است
4-نظام نیمه ریاستی: رئیس جمهور با رأی مستقیم مردم انتخاب می شود ولی وزراء توسط مجلس انتخاب می شوند و در مقابل مجلس پاسخگو هستند ولی رئیس جمهور در مقابل مجلس پاسخگو نیست و حتی می تواند مجلس را منحل کند . در این سیستم نخست وزیر وجود ندارد. تقریبا مثل سوریه و حتی در چند دهه اخیر مصر و لیبی
 
نظام جمهوری اسلامی ، دقیقا مثل هیچیک از چهار نظام فوق نیست. بطوری که جمهوری اسلامی محاسن چهار نظام سیاسی رایج را دارد ولی معایب آن ها را ندارد . مثلاً قدرت انحلال مجلس از رئیس جمهور سلب شده و مجلس می تواند از رئیس جمهور سوال کند و حتی در شرایط خاص او را استیضاح کند .از سوی دیگر ، رئیس جمهور در عمل بسیاری از مصوبات مجلس یا شورای انقلاب فرهنگی را اجرا نمی کند و یا با سازکارهایی ( لابیگری و .... )قوه مقننه و حتی قوه قضاییه را با خود همسو می کند .
️نکته جالب آن است که معمولاً هر یک از رؤسای سه قوه ، از رهبری می خواهند در این تعارضات و مشاجرات، تمام و کمال از آن ها حمایت کنند و از اینکه رهبری ضمن حمایت از هر سه قوه، نواقص هریک را گوشزد می کنند ، دلخور می شوند و بعضاً به موضع گیری خلاف رهبری دچار می شوند.
به نظر می رسد یکی از عوامل ساختاری که رؤسای جمهوری را با کلیت نظام دچار مشکل می کند،وضعیت بینابینی است .
.....هر رئیس جمهوری تمایل دارد ، علاوه بر قوه مجریه ، بر دو قوای دیگر نیز تسلط داشته باشد . در حالی که بر اساس تفکیک قوا، دو قوه مقننه و قوه قضاییه مستقل از قوه مجریه هستند . این استقلال در ایران ،اغلب موارد به تعارض بین آن ها منجر شده است .
 اولین تعارض بین دوقوه ، بین بنی صدر و مجلس پیش آمد که در نهایت به عزل وی انجامید .
 دومین تعارض بین هاشمی و اصلاح طلبان حاضر در مجلس و سایر مراکز قدرت پیش آمد که هاشمی توانست اصلاح طلبان را تقریبا از تمامی عرصه های قدرت به زیر بکشد . هر چند آن ها به تلافی این اقدام هاشمی با انتشار کتاب عالیجناب سرخپوش ، در انتخابات مجلس ششم، هاشمی را ضربه فنی کردند.( هاشمی نفر 31 نمایندگان تهران شد)
 خاتمی با مجلس مشکل چندانی نداشت ولی با قوه قضاییه ، شورای نگهبان و نهادهای انقلابی دچار تعارض شد ؛ بطوری که چندین بار این تعارضات،بروز علنی داشت. فتنه 88 ادامه تنش های قبلی و آتش زیر خاکستر آن دوران بود .
 
 احمدی نژاد به دلیل دچار شدن با مشکلات گفته شده در بخش روانشناسی ، با هر دو قوه( مقننه و قضاییه) دچار مشکل شد ،بطوری که 9 تن از وزرای وی در مجلس استیضاح شدند ! و به دلایلی مثل ارتباط وزراء با سایر نهاد های حاکمیتی، 8 تن از وزراء را، خودش بر کنار کرد و پس از سالها اتمام دوره مسئولیت ، همچنان با رؤسای قوه قضاییه و قوه مقننه (برادران لاریجانی) و از این رهگذر با کلیت نظام ، درگیر است .
 
 روحانی با قوه مقننه مشکل ندارد و نحوه لابی کردن با رئیس و نمایندگان مجلس بلد است. ( برخی از شیوه ها را اخیراً آقای ذوالنوری افشا کرد ) بطوری که حتی وزراء استیضاح شده ، با آراء بالاتری انتخاب شدند .ولی مشکل و تعارض روحانی چیز دیگری است که در بخش کارکرد گرایی بدان خواهیم پرداخت.
️نتیجه آنکه ، فراوانی بروز این تعارضات، نشان از ریشه ای و ساختاری بودن این مشکلات است .
 
 
راه حل :
 
به نظر می رسد در دوران گذر و در شرایط غلبه پارادایم دمکراسی غربی ، اگر یکی از نظام های «پارلمانی» یا «ریاستی» بطور کامل حاکم شود ، هماهنگی بین سه قوه راحت تر صورت می گیرد و این تعارضات کاهش می یابد .
در نظام ریاستی ، همه حول محور ریاست جمهوری وحدت می کنند و تعارضات به حداقل می رسد.
در نظام پارلمانی همه حول پارلمان هماهنگ می شوند و دولت برخاسته از مجلس سر کار می آید و در برابر مجلس پاسخگو است . در این صورت وجود و نقش آفرینی احزاب سیاسی قوی یکی از ملزومات اساسی است.
 
اما روش مطلوب و مناسب تر آن است که به جای محوریت قوه «مجریه »یا «مقننه» ، وحدت حول محور «ولایت فقیه» صورت گیرد . در واقع رئیس قوه مجریه باید در مقام «معاونت اجرایی» ولی فقیه به ایفای نقش بپردازد . دراین سیستم ، می تواند چند نامزد که ابتدا «مشروعیت» خود را از ولی فقیه می گیرند، برای کسب «مقبولیت» ، به مجلس معرفی شوند ،هر کدام که توانستند اعتماد نمایندگان مجلس را به خود جلب کنند، مامورتشکیل کابینه شوند و وزرا نیز باید به تایید مجلس برسد.( این یک ایده اولیه است و نیاز به پردازش بیشتری دارد. مجموعه نخبگانی کشور می توانند این ایده را مورد بحث و بررسی قرار دهند و آن را به عنوان نظریه ای قابل اجرا به جامعه علمی و تصمیم گیرندگان عالی کشور عرضه کنند)
 
2-4: غفلت از تبدیل «روش کشف» به «روش تربیت»
 
قبل از پرداختن به اصل موضوع ، لازم است توضیحی راجع به این دو روش داده شود:
بشر از قدیم الایام برای تأمین نیازهای مادی خود از روش «کشف» استفاده می کرده است .برای تأمین گوشت به کوه و صحرا می رفته و با شکار حیوانات و پرندگان گوشت مورد نیاز خود را تأمین می کرده است. برای بدست آوردن میوه و سبزیجات منتظر فصل بهار یا پاییز می شده تا بصورت دیم و خود رُو، سبزیجات و میوه های مورد نیاز را تأمین نماید. به این شیوه «روش کشف» می گوییم.
 
ولی با یکجا نشینی و توسعه زندگی شهری ، دیگر روش کشف جوابگوی نیاز بشر نبود . لذا به روش «تربیت» روی آورد ؛ یعنی به جای شکار آهو و پرندگان وحشی، پرورش دام و طیور را پیشه خود ساخت و به جای رفتن به کوه و صحرا ، به کشاورزی و باغداری روی آورد و روز به روز، روش های دامداری و کشاورزی را پیشرفته تر کرد و با انتخاب ژن مناسب و اصلاح بذر و سیستم آبیاری .به راحتی توانست نیازهای روز افزون خویش را تأمین نماید.
 
همچنین در گذشته برای تأمین «نیروی انسانی» مورد نیاز ، تقریباً همه کشورها منتظر حادثه و اتفاق می شدند تا مدیری ، فوتبالیستی، خواننده ای ، بازیگری و...به روش خودرُو و دیمی از مناطق دو افتاده ای بروز و ظهور پیدا کند و بطور اتفاقی توسط یک مربی یا مسئولی آن استعداد «کشف» شود و برای ایفای نقش در سطح استانی یا ملی، دعوت به همکاری شوند .
ولی با پیشرفت جامعه بشری و توسعه بنگاه های بزرگ صنعتی و تجاری و سازمان های عریض و طویل، نیاز به نیروهای انسانی توانمند و متخصص، ( مثل نیازهای مادی) از نظر کمّی و کیفی روز به روز گسترش یافت. بطوری که دیگر به هیچ وجه روش کشف ، پاسخگوی نیاز جامعه پیشرفته نبود. از این رو بسیاری از کشورهای پیشرفته با تبدیل روش «کشف» به روش «تربیت» اقدام به شناسایی استعداد های بشری در عرصه های مختلف کردند. (شبیه شناسایی بذر و ژن مورد نیاز) بر این اساس در بسیاری از کشورهای غربی سال هاست ، علاوه بر تأمین نیازهای مادی ، برای رفع سایر نیازها ، به روش تربیت روی آورده اند .
 
به عنوان مثال: برای تأمین نیاز جامعه به مدیر ، منتظر بروز و ظهور تک مدیران دیمی و خود رو نمی نشینند؛ بلکه با اتخاز روشی مناسب وراه اندازی نظام و ساختارهای دائمی به شناسایی و تربیت نیروی انسانی مورد نیاز می پردازند.
 
️روش کار در کشورهای دیگر و وضعیت تربیت مدیر در ایران
این کشور ها در اولین گام ، با تشکیل «کمیته های استعداد یاب» شامل (روان شناس، جامعه شناس، اقتصاد دان، سیاستمدار و مدیر) و با مراجعه به مهد کودک های سراسر کشور و مشاهده« رفتار طبیعی »کودکان در «محیط طبیعی» (هنگام بازی و تفریح)
تاکید می کنم: مشاهده «رفتار طبیعی» در «محیط طبیعی»
«استعداد» های مدیریت و رهبری را در اطفال شناسایی کردند، سپس طی چند سال ، «تجربیات» ساده مدیریتی را به آنان آموختند و پس از طی دوره متوسطه، آن ها را به مراکز آموزش عالی برای «تعلیم و مهارت آموزی» در «رشته مدیریت» تا مقطع تحصیلات تکمیلی معرفی کردند.
به ترتیب کار توجه کنید:
اول: شناسایی استعداد( استعداد یابی)
دوم: انتقال تجربه( تجربه اندوزی)
سوم: آموزش (علم آموزی )
ماحصل این روش ، تربیت« اَبَرمدیرانی» بود که قادر بودند به راحتی مؤسسات بزرگ بین المللی را اداره کنند . هریک از این مدیران ، تحت مراقبت های بهداشتی ، روانشناسی و امنیتی خاص قرار داشتند و میلیاردها دلار خرید و فروش می شدند .
با مشاهده موفقیت چشمگیر و خیره کننده در این عرصه (تربیت مدیران اقتصادی وسیاسی ) به ترتیب مراحل «شناسایی استعداد» ، «تجربه اندوزی» و «علم آموزی» را برای عرصه های دیگر مثل (فوتبال ، بازیگری ، هنرهای هفتگانه و...)، توسعه پیدا کرد و به جای شناسایی و جذب فوتبالیست های« بالفعل» و تک ستاره های خودرُو در عالم فوتبال ، به شناسایی استعداد های «بالقوه»فوتبال روی آوردند . تیم های استعداد یاب به کوچه پس کوچه های مناطق فوتبالخیز مثل برزیل و آرژانتین و کشورهای آفریقایی مراجعه کردند و کودکانِ دارای استعداد را شناسایی و در مدارس فوتبال به تربیت آنان همت گماشتند . افرادی مثل رونالدو ، نیمار، مسی و ... حاصل این روش است.
 
*خوب است بدانید که یکی از وظایف اصلی سفرا و کارداران ابرقدرتهای شرق و غرب ، شناسایی استعداد های مدیریتی و علمی در کشورهای دیگر است که پس از جذب و تربیت آنها ، به کشور خود بازگشته و منافع ابرقدرتها را بدون جنگ و خون ریزی تامین می کنند . حضور آقا زاده ها و نخبگان در کشورهای غربی و عقد قرار داد های ترکمنچایی و اجرای اسناد ذلت بار از سوی نفوذی ها در همین راستا صورت می گیرد.(سازمان پیچیده و مخوف فراماسونری از قدیم الایام این وظیفه را دنبال می کرده است)
 
️وضعیت استعداد یابی و تربیت مدیر در ایران :
 
متاسفانه در ایران (بر اساس برنامه ریزی دقیق ابرقدرتها) سُرنا را از سر گشادش می نوازیم و بر عکس کشورهای توسعه یافته و به ترتیب زیر کارمی کنیم:
اول: آموزش و انباشت اطلاعات
دوم: تجربه اندوزی
سوم: شناسایی استعداد
علاوه بر این در اغلب کشورهای توسعه نیافته و در حال توسعه از جمله ایران ، دانشگاه ها و مراکز آموزشی ، به جای استعداد یابی و آموزش بر اساس «استعدادها»، صرفا متکی بر ملاک حافظه کوتاه مدت، پذیرش می کنند( از طریق کنکور یا تاثیر معدل) و به انباشت اطلاعات کوتاه مدت می پردازند.
 
در زمینه روش تأمین نیازهای منابع انسانی خصوصاً مدیران و سیاستمداران کلان نیز، شوربختانه ، همچنان شبیه انسان های اولیه زندگی کرده و از «روش کشف» استفاده می کنیم . یعنی بجای شناسایی استعداد کودکان و «تربیت »آن ها برای دهه های بعد ، همچنان منتظر می مانیم تا یک نفر بطور اتفاقی ظهور کند و یا با زرنگی بر موج احساسات مردم سوار شود و رئیس جمهور شود.
 
نتیجه این فرایند غلط ، جلوه گری افراد نالایقی است که یا «استعداد » لازم را نداشته، یا «تجربه» کافی و یا «علم و تخصص» مورد نیاز را ندارند. قاعدتاً نباید انتظار داشته باشیم نتیجه مدیریت و سرنوشت چنین افرادی غیر از آنچه بوده، بشود. (دقت شود که کسی با فراگیری علم مدیریت، مدیر نمی شود)
 
️اگر از هم اکنون فکری برای راه اندازی «نظام های استعداد یابی» و«تربیت مدیر» نشود و همچنان هرکس بر اساس آزمایش و خطا رئیس جمهور و وزیر و وکیل شود، در پایان چیزی جز یأس و ناامیدی مردم و سرخوردگی شخص مدیر ، و تبدیل آن به یک عنصر مسئله دار ، چیزی دیگر عاید ما نخواهد شد.
 
 
2-5: نبود احزاب مقتدر و فراگیر در ایران
 
یکی دیگر از عوامل ساختاری که موجب می شود بیشتر روسای جمهور ایران با نظام دچار مشکل شوند ، نبود احزاب مقتدر و فراگیر و حاکم بودن روحیه «حزب گریزی» در بین سه رکن اصلی حزب گرایی ( مردم .سیاسیون و احزاب ) و به شرح زیر می باشد:
️الف) مردم :
ایرانیان سابقه ذهنی و تاریخی خوبی از احزاب سیاسی نداشته و «حزب گریز»یا به تعبیر بهتر «حزب ستیز»هستند.
 
چرا که اولین احزاب سیاسی ایران که در دوران مشروطیت شکل گرفت(حزب دمکرات و حزب اعتدالیون).به جای رقابت سالم و تمرین دموکراسی و کار گروهی ، به درگیری و حذف فیزیکی یکدیگر پرداختند . بطوری که شخصیت هایی از طرفین را ترور کردند . (میرزا حسن خان امین الملک ، آیت الله بهبهانی ، میرزا محمد خان تربیت و عبدالرزاق خان همدانی و...)
حزب رضاخان ساخته( تجدد) نیز پس از استفاده ابزاری از آن برای الغای سلطنت قاجاریه و به قدرت رساندن رضاشاه ، توسط خود وی منحل و سران آن به زندان افتاده یا کشته شدند .
احزاب اوایل پادشاهی محمد رضا(بجز دوره مصدق) کارکرد مناسبی نداشتند و در اواخر سلطنت نیز احزاب «ملییون» و «مردم» و در پایان «رستاخیز» بیشتر به عروسک خیمه شب بازی شبیه بودند تا یک حزب مردمی .
 
بعد از انقلاب اسلامی ، «حزب جمهوری اسلامی» تشکیلاتی گسترده و مردمی داشت که آن هم پس از شهادت دکتر بهشتی (دبیر کل آن حزب ) و اغلب کادر مرکزی آن در جریان انفجار مقر حزب، تعطیل شد.
سایر احزاب، یا دولت ساخته بودند (حزب کارگزاران سازندگی و حزب مشارکت) یا گستره جغرافیایی و پایگاه مردمی نداشتند ( مجاهدین انقلاب و هیات موتلفه ) یا وابسته به خارج بودند (حزب توده ، پیکار ، منافقین و ... ).
هرچند الان ، بیش از 70 حزب، مجوز فعالیت دارند ولی هیچ یک بروز و ظهوری در بین مردم ندارند.
آخرین فعالیت سیاسی در قالب فعالیت حزبی ، رأی مردم تهران به لیست امید در مجلس و شورای شهر بود ولی برای کاندیداتوری چون بجای معیار شایستگی ، مسائل پرداخت های مالی پشت پرده مطرح بود؛ موجب بروز ناکارآمدی مدیران و سرخوردگی مردم شده است .
 
️ب) سیاسیون :
 
سیاسیون به ویژه کاندیدهای ریاست جمهوری نیز تمایلی به فعالیت حزبی ندارند
از این رو معمولاً در تبلیغات انتخاباتی ، خود را مستقل معرفی می کنند تا هم آراء خاکستری و عامه مردم را کسب کنند و هم خود را محدود و محصور به تصمیمات حزب نکنند. ولی همین افراد پس از رسیدن به قدرت ،معمولاً حزب تشکیل می دهند تا بجای اینکه خود را مدیون حزب بدانند ( فرد مولود حزب باشد) ، حزب مدیون و وابسته به آن ها باشد . (حزب مولود فرد می شود)
از سوی دیگر مدیران سیاسی هیچیک پرورش یافته و تربیت شده یک فرایند و برنامه حزبی نیستند . لذا ناگهانی و بر حسب یک اتفاق ،به قدرت می رسند و خود را از مشورت با کادر مرکزی حزب یا اجرای برنامه ها و اهداف حزب، بی نیاز می بینند.
وجود روحیه خود محوری و دیکتاتوری از قدیم الایام در فرهنگ بازیگران سیاسی، مزید بر علت شده است تا تمایل بیشتری به حزب گریزی و یکه تازی داشته باشند .
تا اینجا به بررسی دورکن حزب گرایی یعنی «مردم »و «سیاسیون » پرداخته ایم . در ادامه به رکن سوم یعنی «احزاب» می پردازیم :
 
 
️ج) احزاب :
تاکنون «حزب واقعی»، در ایران تشکیل نشده است. «شبه حزب» هایی هم که تشکیل شده اند، نه بر اساس فرهنگ جامعه ایرانی شکل گرفته اند ، نه برنامه ای برای اداره کشور دارند ،نه پای منتخب مردم می ایستند و نه مسئولیت ناکامی روسای جمهورهم فکر خود را می پذیرند! لذا نقش مهی در مشکل دار شدن روسای جمهور دارند.
بدیهی است احزاب برای تاسیس و ادامه حیات نیاز به بودجه دارند. به دلایلی که در بخش( الف )گفته شد، مردم حاضر به تأمین بودجه احزاب نیستند . لذا برای تأمین هزینه یا باید به صاحبان قدرت و ثروت در داخل کشور پناه ببرند یا به کشورهای خارجی وابسته شوند، که درهردوحالت متهم به وابستگی شده و از جانب مردم طرد می شوند .
 
احزاب و جریاناتی هم که با استفاده از رانت یا از طرق دیگر، تامین بودجه کرده و در عرصه سیاسی فعالند، نمی خواهند اعتبار و حیثیت خود را فدای کسی کنند که نه تربیت شده آن حزب است و نه او خود را ملتزم به اجرای خواسته و برنامه های حزب می داند .
لذا شاهد هستیم که در زمان احساس بی کفایتی و شکست رئیس جمهور (حتی اگر از همفکران آنها بوده و در انتخابات از وی حمایت کرده باشند) ، به راحتی از وی عبور می کنند و نقش منتقد و یا حتی مخالف بازی می کنند!!
 
️در گذشته ، تلاش راست گرایان و چپ گرایان برای برائت از سیاست های هاشمی،شعار عبور از خاتمی توسط اصلاح طلبان ، اعلام برائت اصول گرایان از احمدی نژاد و راه اندازی نهضت« من پشیمانم »از سوی سلبریتی ها وآغاز انتقاد اصلاح طلبان از روحانی در این ایام (بویژه پس از شکست برجام )، نمونه هایی از عدم پذیرش مسئولیت از سوی احزاب و جریانات سیاسی کشور است.
 
تحلیل وضعیت گذشته و جاری :
برآیند عملکرد این سه رکن( مردم ، سیاسیون و احزاب) آن می شود که رؤسای جمهور پس از اتمام مسئولیت ، هم از سوی «رقبا» و هم از سوی «رفقا » مورد هجمه واقع می شوند و هیچ حزب و گروهی نیست تا در این وانفسای غربتِ پس از مسئولیت، از آنان حمایت کنند و نواقصِ دوران مسئولیتش را به گردن بگیرند.
انسان ها (از جمله مسئولین) نیاز به پشتوانه و پناهگاه دارند .در نظام سیاسی اسلام « خدا» و «توده مردم» بهترین تکیه گاه هستند ولی در سیاست به معنای رایج، این احزاب و جریانات سیاسی هستند که نقش آفرینی می کنند. چنان که در بخش اول ( رویکرد روانشناختی ) گفته شد ، اغلب سیاستمداران شرقی( برخلاف غربی ها) پس از اتمام دوره ریاست ، تمایل شدیدی به تداوم قدرت دارند. چنان که :
-بنی صدر (اولین رئیس جمهور) در حالی که فرماندهی کل قوا نیز بود با نگرشی کاملا غربگرایانه ، برای بسط و گسترش نفوذ خود ابتدا حزب دولت ساخته ای به نام « دفتر همکاری های رئیس جمهور » راه اندازی کرد و سپس سازمان مجاهدین خلق ( منافقین) را با خود همراه کرد. که نتیجه آن همگان می دانند.
-هاشمی( به عنوان یک سیاست مدار تکنوکرات و مقتدر) با درک این شرایط و برای جبران کمبود یک حزب فراگیر، علاوه بر حزب کوچک دولت ساخته «کارگزاران» ، با بهره کشی از «دانشگاه آزاد» به مثابه یک حزب و باشگاه بزرگ سیاسی و برخی ازسازمانهای رسمی و غیر رسمی و بهره مندی از منابع قدرت ، توانست تا پایان عمر نفوذ سیاسی خود را( با فراز و نشیب هایی) حفط کند .
-خاتمی( به عنوان یک فرد پیرو و هدایت پذیر) برای افزایش وزن سیاسی خود با نیم نگاهی به حمایت های فرامرزی و نزدیکتر شدن به اصلاح طلبان تندرو و تاثیر پذیری آز آنها با پشتوانه قدرت رسانه ای اصلاح طلبان (با کارکرد حزبی) با خطایی استراتژیک ، برای امتیاز گیری، ابتدا در قواره اپوزوسیون نظام ظاهر گردید و سپس در فتنه 88 خود و همفکرانش به نیروی برانداز تبدیل شدند.
 
-احمدی نژاد ( که هنوزتکلیفش با خودش مشخص نیست)برای تداوم قدرت، ابتدا ناشیانه سعی کرد با تاسیس دانشگاه ایرانیان و بنیاد بهار، به سبک هاشمی عمل کند. پس از عدم موفقیت در این زمینه، تلاش می کند با ظاهرسازی در اتکا به «خدا» و «مردم» ،ادای شهید رجایی و آیت الله خامنه ای ، را در بیاورد( لابد برای ایشان مشائی بعنوان نماینده خدا و بقایی بعنوان عصاره مردم است) . میزان موفقیتش در این استراتژی از الآن قابل پیش بینی است .
- روحانی که فاقد هرگونه «گفتمان » خاص و بدون پشتوانه «حزبی» یا «توده ای» و با شگرد رقیب هراسی به قدرت رسیده است ، معلوم نیست چه سودایی در سر خواهد پروراند .
علاوه بر این ها، قاعدتاً و بطور معمول در زمان مسئولیت هر مدیری (هرچند خوب عمل کرده باشد) ممکن است از سوی خود یا همکارانش تخلفاتی صورت گرفته باشد .بالاخره روزی، زمان رسیدگی به تخلفات آنان فرا می رسد. اینجاست که عرصه را بر خویش تنگ دیده و خود را در مقابل انواع فشارها تنها می بینند.
 
نتیجه :
 
اگر احزابی مقتدر ، فراگیر با هدفی خدایی و پایگاهی مردمی ، مبتنی بر فرهنگ بومی و اسلامی شکل بگیرند ، ضمن جلب حمایت مردمی ، قادر خواهند بود قبل از تصدی مسئولیت (با تربیت کردن)، حین مسئولیت (با مشورت دادن و نظارت) و بعد از مسئولیت (با حمایت کردن) در کنار رئیس جمهور باشند و از تبدیل شدن رؤسای جمهور به اپوزسیون جلوگیری کنند.
در این صورت است که هر سه رکن تَحذُب ( مردم، مسئولین و احزاب ) زیر چتر ولایت فقیه، به ایفای نقش می پردازند.
 
6-2 : غلبه اقتصاد دولتی بر بخش خصوصی
( دخالت مسئولین سیاسی در فعالیت های اقتصادی )
 
یکی دیگر از عوامل ساختاری که نقش زیادی در فساد و مسئله دار شدن سیاستمداران (به معنای عام )و روسای جمهور( به معنی خاص) داشته است ،دخالت سیاسیون در اقتصاد بوده است . تجریه ی همه کشورها از جمله ایران ثابت کرده است که ورود دولتی ها به مسائل اقتصادی، هم موجب ویرانی اقتصاد شده و هم انحراف و فساد سیاسیون را در پی داشته است .در واقع دولت به جای بنگاه داری و کارگزاری، بایستی به سیاستگذاری وتضمین امنیت سرمایه گذاری بپردازد .
 
سوال :
به چه دلیل بخش دولتی در جمهوری اسلامی حجیم شده و چرا سیاسیون در اقتصاد ورود پیدا کرده اند ؟
 
پاسخ مختصر:
بعد از انقلاب اسلامی، دولت وارث حجم زیادی از شرکت ها و مؤسسات تجاری شد که متعلق به خاندان پهلوی و وابستگان فراری آن ها بود که نقدینگی آن ها را به خارج منتقل کردند و کارخانجات را با کلی بدهی و کارگران معترض و ناراضی، رها کردند.
 
بدیهی است، اگر مالکیت و مدیریت این کارخانجات و شرکت ها به جای صاحب منصبان ، با مردم عادی بود با رفتن درباریان شاه ، کشور دچار مشکل نمی شد و دولت جدید التأسیس جمهوری اسلامی مجبور نمی شد مشکلات بدهی ها و حقوق معوقه کارگران را بپردازد .
در هرحال ، دولت در برابر عمل ناخواسته ای قرار گرفته بود و باید آنها را سر و سامان می داد . لذا افرادی را به سرپرستی آن ها منصوب کرد که تخصص و تجربه چنین کاری را نداشتند. ماحصل این وضعیت کاهش شدید بهره وری ، تولید محصولات گران و بی کیفیت بود که دامن نظام نوپای جمهوری اسلامی را گرفت.
️این شرکت ها و کارخانجات ِعظیم اقتصادی، اژدهایی چند سری بودند که مثل خوره به جان کشور و دولت افتادند و به جای فرصت به تهدید و پاشنه آشیل نظام بدل گشته اند.
 
️امام خمینی(ره) با روشن بینی و درک این وضعیت، بارها و بارها از مسئولین خواست که امور اقتصادی را به مردم واگذار کنند.
مقام معظم رهبری نیز، با تاکید و اصرار بیشتری از دولت ها خواسته است که از ورود به کار اقتصادی پرهیز کنند و شرکت های دولتی را به بخش تعاونی یا خصوصی واگذار نمایند.
در این راستا ، سیاست های اصل 44 قانون اساسی با هدف گسترش دامنه خصوصی سازی بخش دولتی از طریق مجمع تشخیص و مجلس با دولت ابلاغ کردند. بر اساس این دستورالعمل می بایستی 80 درصد از شرکتهای دولتی تا سال 1393 به بخش خصوصی یا تعاونی واگذار می گردید.
اما درعمل چه اتفاقی اقتاد ؟ و چگونه این پدیده موجب شده روسای جمهور با نظام دچارمشکل شوند؟
تا اینجا گفته شد که:
دولت بعد از انقلاب، ناخواسته وارث حجم عظیمی از کارخانجات متعلق به درباریان شاه شد. بطوری که نگهداری آنها برای کشور، فاجعه بار و برای دولتمردان، وسوسه انگیز و اغوا کننده بود. لذا نظام تصمیم گرفت بخش دولتی را به بخش خصوصی و تعاونی واگذارنماید.
 
برخورد دولت های مختلف با خصوصی سازی بخش دولتی:
 
1-رئیس دولت سوم و چهارم(موسوی) و چپگرایان حامی وی به دلیل تمایل به اقتصاد سوسیالیستی ، طرفدار اقتصاد دولتی بودند و وبا حمایت آیت الله منتظری و شاگردان او، زیر بار خصوصی سازی نرفتند. (شرایط جنگ هم به این رویکرد کمک کرد)
 
2-در دولت پنجم و ششم (هاشمی)، سیاست خصوصی سازی (با محوریت کارگزاران) با شتاب و دستپاچگی دنبال شد .اما به گفته کارشناسان مسائل اقتصادی، شرکت های زیان ده را به سازمان های وابسته به دولت سپردند (که به بخشی خصولتی شهرت یافتند ) که هم چنان وبال گردن مردم و دولت شده اند. همچنین گفته می شود مؤسسات سود آور را بدون رعایت ضوابط و به ثمن بخس به فرزندان، نزدیکان و همفکران خود واگذار کردند.
 
3-دولت هفتم و هشتم (خاتمی) با بکارگیری اغلب وزرای دولت هاشمی، از نظر اقتصادی دنباله رو سیاست هاشمی بود و خصوصی سازی به سبک هاشمی را ادامه داد. با این تفاوت که چپی های طرفدار اقتصاد سوسیالیستی و دولتی، با چرخشی 180 درجه ای، مدافع نظام اقتصاد سرمایه داری گشته و در واگذاری ها به همان دو روش مذکور عمل کردند.
 
(علاقه مندان برای اطلاع از کم و کیف قضیه، می توانند به عنوان نمونه ازنحوه واگذاری، واگذارنده و خریداران شرکت های «رشت الکتریک» و «پتروپارس» در اینترنت جستجو کنند)
 
4-دولت نهم ودهم (احمدی نژاد) با واگذاری سهام عدالت، شکل دیگری از خصوصی سازی را اجرا کرد که مطابق سیاست های اصل 44 نبود و عملا مالکیت این موسسات به مردم سپرده نشد . این روش با ایجاد تشتت در مدیریت این موسسات ، مشکلی بر مشکلات آنها اضافه کرد و سود چندانی هم عاید مردم نگردید.
5-در دولت دهم و یازدهم (روحانی) نیز سیاست اقتصادی هاشمی و کارگزاران دنبال شد. البته اغلب اعضای این دولت همان کسانی هستند که در واگذاری های قبلی، نقش اصلی داشتند لذا علاوه بر مسائل و شایعات قبلی، مسائلی مثل حقوق های نجومی و بهره مندی از رانت واردات کالا و... هم مزید بر علت شده است.
 
در خصوص مضرات اقتصاد دولتی و تخلفات صورت گرفته در فرایند خصوصی سازی، کتاب ها و مقالات زیادی نگاشته شده است ولی ما در اینجا در صدد بررسی صحت و سقم این گفته ها نیستیم،
اما آنچه به بحث ما مربوط می شود، آن است که همین پدیده موجب بروز دلخوری ها و مشکلات قضایی برای روسای جمهور و نزدیکانشان شده و می شود.
 
بروز فاجعه در فرایند خصوصی سازی:
 
مسئولینی که به بهانه خصوصی سازی ، شرکت های دولتی را به نزدیکان خود واگذار کردند (لابد با این استدلال غلط که : چراغی که به خانه رواست به مسجد حرام است)، برای تامین پول خرید این کارخانه ها ، بانک های دولتی را مجبور کردند که وام های کلان بدون بهره یا کم بهره به آنان واگذار کنند. ولی این افراد چون قادر به اداره شرکت ها نبودند ، مؤسسات در اختیار را به ورشکستگی دچار کردند و اقساط وام ها را نیز بازپرداخت نکردند. با این عملکرد هم بانک ها دچار مشکل ورشکستگی شدند و هم کارخانجات تعطیل شدند و هم اختلاس و ویژه خواری را عادی سازی کردند.
 
️با این حال هیچ یک از روسای بانک یا سازمان های دولتی از ترس برکناری ، از دست اقازاده ها شکایتی نکردند.
وقتی قوه قضاییه به این تخلفات ورود پیدا کرد، صاحبان قدرت آن را خط قرمز اعلام می کردند و در دفاع از آن ها، مقابل نظام و رهبری ایستادند.
قوه قضاییه اگر با این مسئولین مماشات کند، نظام و قوه قضائیه متهم به بی عدالتی می شود. اگر برخورد کند ، گقته می شود دارید دشمن تراشی می کنید و مسئولین خدمتگذار! را مسئله دار می کنید
 
️اما سوال این است:
 
کدام یک از این رؤسای جمهور که ادعا می شود، نظام با آن ها خوب برخورد نکرده، از رانت استفاده نکرده اند و خانه و شرکت چند میلیاردی را به یک دهم یا یک صدم قیمت به خودشان یا نزدیکانشان آن هم با اخذ وام آنچنانی واگذار نکرده اند؟
کدام یک از این ها به راحتی و طیب خاطر زیر بار رسیدگی به تخلفات خود یا نزدیکانشان رفته اند؟
 
جالب آن است که به جای اینکه مسئولین زیاده خواه و رانت خواری که برای قوه قضاییه خط و نشان می کشند ، از سوی مردم ورسانه ها ملامت شوند ، مشکل را متوجه رهبری و نظام کرده و شایعه می کنند که این رهبری است که نمی تواند با رؤسای جمهور بسازد و آن ها را تبدیل به افرادی مسأله دار می کند .
 
راه حل پیشنهادی:
بهتراست کمیته ای پنج نفره (متشکل از نمایندگان رهبری . سه قوه ویک متخصص در زمینه مربوطه ) تشکیل شود و هر چه سریعتر کارخانجات و مؤسسات دولتی به بخش تعاونی یا خصوصی واگذارنمایند .
دخالت دولتی ها و نزدیکانشان در مسائل اقتصادی ممنوع شود وکسانی که در گذشته با استفاده از رانت و به ناحق، بیت المال را تصاحب کرده اند، محاکمه و از تصدی مسئولیت های دولتی منع شده و مسئولیت ها به جوانان پاک ، متعهد و متخصص واگذار گردد.
 
 
 
 
بخش سوم
اشکالات کارکردی
 
 
3- رویکرد کارکرد گرایانه
در یادداشت های قبلی به عواملی پرداختیم که یا ناشی از شخصیت افراد بود یا ناشی از ضعف ساختارها .اینک از منظر کارکردگرایی به این پدیده می پردازیم:
در رویکرد کارکرد گرایانه، به پدیده های اجتماعی به مثابه یک سیستم یا موجود زنده نگریسته می شود . سیستم وقتی سالم است که همه اعضاء، فقط نقش و وظایف تخصصی خود را به درستی انجام دهند . بر اساس این دیدگاه ، نظام سیاسی نیز یک سیستم است که هر یک از ارکان باید صرفاً به وظایف خویش، آنهم به شکل صحیح و کامل بپردازند.اگر هریک از اعضا بخواهند در کار دیگری مداخله کنند مثل این است که قلب بخواهد کار مغز را و کلیه بخواهد کار معده را انجام دهد. در این صورت بدن دچار مشکل جدی یا مرگ می شود.
 
3-1: غفلت از وظایف محوله و پرداختن به وظایف سایرین
 
نقش و وظایف ارکان نظام:
 
️طبق قانون اساسی، رهبری وظیفه سیاست گذاری و تعیین خط مشی ها را بر عهده دارد.
رئیس جمهور موظف است سیاست ها و قوانین ابلاغی را «اجرا» کند.
️مجلس علاوه بر قانون گذاری ، وظایف نظارتی خود را نیز انجام دهد،
️قوه قضاییه وظیفه رسیدگی عادلانه به تخلفات و جرائم و صدور حکم را بر عهده دارد.
 
به اعتراف دوست و دشمن، تا کنون رهبری (امام خمینی و امام خامنه ای) وظایف خود را در تعیین سیاست کلان و هدایت جامعه به سمت هدف، به خوبی انجام داده اند؛
*اما رؤسای جمهور غالباً دچار افراط و تفریط شده اند.
برخی(هاشمی) خود را در جایگاه رهبری نظام تصور کرده وبه جای تمرکز بر امور اجرایی، به نظریه پردازی ، سیاست گذاری و تعیین سیاست های کلان مغایر با سیاست های رهبری پرداخته اند،
بعضی(خاتمی) نیز با دخالت در حوزه کاری سایر ارکان نظام (فشار به شورای نگهبان) هم از وظایف اصلی خود غفلت کرده و هم نقش سایر ارگان ها را مختل کرده اند (تاکتیک فشار از پایین و چانه زنی از بالا)
عده ای (هاشمی، احمدی نژاد و روحانی) برنامه های درازمدت (سند چشم انداز 20 ساله کشور) و کوتاه مدت(برنامه های 5 ساله) و قوانین مصوب قوه مقننه را نادیده گرفته و طبق نظر و سلیقه خود، عمل کرده اند.
برخی (احمدی نژاد) نیز با ورود به امور جزیی، خود را تا حد یک فرماندار و شهردار و رئیس یک مؤسسه تنزل داده اند و با انجام کارهای روزمره و کارشناسی نشده، خود و کشور را دچار مشکل کرده اند.
روحانی پا را از این ها فراتر گذاشته و به جای تمرکز بر مسائل اجرایی به ویژه مشکلات معیشتی و اقتصادی، به طرح مسائل فرافلسفی! می پردازد و از برداشت های نادر و شاذ خود از نهضت عاشورا، مشروعیت و مقبولیت امام معصوم و جواز انتقاد از پیامبر و امام و .... داد سخن می راند .
 
نتیجه:
بر اساس رویکرد کارکردگرایی، علت مشکل پیدا کردن برخی از رؤسای جمهوری، نبود یا نقص در ساختارها نیست بلکه ناشی از غفلت از نقش و وظیفه اصلی خودشان و پرداختن به اموری است که وظیفه آنها نیست.
اگر این افراد وظایف تعیین شده برای نقش ریاست جمهوری (عالی ترین مقام اجرایی) را به خوبی انجام دهند ، نه خودشان دچار مشکل می شوند و نه نظام و مردم را دچار مشکل می کنند. به قول شیخ محمود شبستری:
 
جهان چون چشم و خط و خال و ابروست
که هر چیزی به‌ جای خویش نیکوست
 
ولی متاسفانه برخی در جایگاه رهبری می نشینند وسیاست گذاری می کنند و برخی نیز با تنزل به سطح یک مدیر دون پایه ، به امور جزیی و عملیاتی می پردازند که هردو خطاست.
رفتار این عزیزان آدم را به یاد این شعر طنز عربی-فارسی می اندازد:
شیئان عجیبان هُما اَبرَد من یخ
شیخٌ یَتَصبّا و صَبیٌ یَتشیّخ
دو چیز عجیب هستند که از یخ هم خنک ترند
پیر مردی که ادای بچه و بچه ای که ادای پیرمرد را در بیاورد
 
 
3-2 : ضعف در نظارت و بازرسی
 
یکی دیگر از عواملی که باعث می شود رؤسای جمهور ایران دچار مشکل شوند، «ضعف در بازرسی و نظارت» است .
 
چند سال پیش از پرفسور الوانی (پدر مدیریت ایران) که افتخار شاگردی ایشان را داشته ام؛ پرسیدم: اصلی ترین مشکل نظام اداری ایران چیست؟ ایشان فرمودند : مشکل نظارت و بازرسی
 
سه نکته مقدماتی و مهم:
 
1-نظارت باید در سه مرحله انجام شود: قبل از عمل - حین عمل - بعد از عمل
2-نظارت و ارزیابی «قبل» و «حین» عمل، بسیار مهمتر است. چرا که امکان اصلاح فرایند ها قبل از انجام کار وجود دارد.
3- نظارت و بازرسی باید به هدف اصلاح عملکرد صورت گیرد نه برای مچ گیری و انتقام گیری.
 
️بر اساس قانون اساسی، مرجع نظارت بر رئیس جمهور ، مجلس است .
 
*اما مجلس در ادوار مختلف (چه همسو با دولت بوده و چه مخالف) وظیفه نظارتی خویش را به نحو مطلوب به ویژه نظارت «قبل» و «حین» عمل بر دولت و در رأس آن جمهور را انجام نداده است. در مورد بنی صدر هم، زمانی مجلس ورود پیدا کرد که کار از کار گذشته بود و منجر به عزل وی شد.
در موارد محدودی هم که مجلس به تحقیق و تفحص از یک موضوع خاص پرداخته، بعد ازعمل، صورت گرفته ومعمولاً تحت تأثیر گرایشات سیاسی، مسکوت گذاشته شده و یا به تذکر خشک و خالی بسنده شده است .
 
انسان ذاتاً اگر خود را در معرض کنترل نبیند، بیشتر تخلف می کند به ویژه اگر صاحب زر و زور باشد. اگر این رویه تداوم پیدا کند، میزان، شدّت و عمق جرم نیز افزایش می یابد. (تخم مرغ دزد، شتردزد می شود).
 
این وضعیت دقیقاً در مورد اغلب روسای جمهوری ایران اتفاق افتاده و می افتد. یعنی در طول دوره مسئولیت یله و رها هستند و از سوی مراجع نظارتی، هیچگونه کنترل و تنبیهی صورت نمی گیرد.
از این رو پس از اتمام دوره ریاست، سرو کارِ خود و اطرافیانشان به قوه قضائیه می افتد و ما جرا از همین جا آغاز می شود.
 
رئیس جمهور و وزرایی که 4 یا 8 سال اقداماتی انجام داده اند، پس از دوره خدمت با پرونده تخلفات و جرائمی روبرو می شوند که اگر مراجع نظارتی در طول دوران مسئولیتشان، بطور مستمر بر عملکردشان نظارت و کنترل می داشتند، کار به اینجا نمی کشید.
 
نتیجه ضعف عملکرد مجلس در بُعد نظارتی (بویژه در حین عمل) ، آن می شود که افرادِ بدون یا کم مساله ای که به عشق خدمت یا به طمع ریاست انتخاب می شوند، پس از دوره مسئولیت، به مجرمینی تبدیل می گردند که با دستگاه های امنیتی و قضایی و در نهایت با کلیت نظام مشکل پیدا می کنند.
 
3-3 : کارکرد ضعیف مراجع قضایی
 
ملاحظه کاری های قوه قضاییه در برخورد با تخلف مسئولین و صاحبان قدرت، هم موجب جری تر شدن متخلفین می گردد و هم یاس و نا امیدی مردم را در پی دارد. اینکه صاحبان قدرت و اطرافیانشان در دوران مسئولیتشان از پیگرد قضایی مصون باشند، پدیده شومی است که در صورت تداوم، می تواند استحکام قدرت یک نظام را متزلزل کند.
بطوری دولتمردان به هنگامی که بر اریکه قدرت تکیه زده اند، به ارتکاب جرم خو گرفته و بدون هیچ ترس و واهمه ای دستورات خلاف قانون را صادر کرده و ملت و کشور را با خسارت های زیادو جبران ناپذیر مواجه می سازند.
بدیهی است پس از اتمام دوره مسئولیت و کوتاه شدن دستشان از ریاست، تازه قوه قضائیه به فکر جبران مافات می افتد. اقدامی که اگر از ابتدای مسئولیت هر فرد صورت می گرفت، جرائم مسئولین انباشته نمی شد و به افرادی مسئله دار تبدیل نمی شدند.
دیاگرام کل بحث را می توانید در ادامه ببینید:
 
[1] - این بحث در کانال گرا ( Gera_97) در قالب سلسه مباحث کوتاه (ده قسمتی) منتشر شده است و به درخواست تعداد زیادی از اعضا به شکل مجموعه واحد تقدیم علاقه مندان می شود.
[2] - دانشیار دانشگاه، دانش آموخته مدیریت دولتی و جامعه شناس         کامنت‌های بووووووق‌دار زیر صفحه سلبریتی‌ها آیا اتوبوس حادثه دیده همان اتوبوس ترمزبریده بود؟ تصاویر/ مرحله نهایی رزمایش تهاجمی پیامبر اعظم ۱۲ سپاه وقتی دنیا به افتخار زن بلوچ ایرانی ایستاد رزمایش نیروی زمینی سپاه +تصاویر واکنش کاربران توییتر به فیلم منتشر شده از نماینده سراوان گزارش تصویری/ اکران مستند "برای نبل، برای الزهرا" در قم دسته گل جدید خانم سلبریتی در حمایت از یک منافق +تصاویر سردار در تهران، شایعه دستگیری در دبی! جوانی که مقابل خودروی انتحاری چابهار ایستاد + عکس ایمیل مستقیم: info@598.ir شماره پیامک: 3000150598   نظرات بینندگان غیر قابل انتشار: ۱ انتشار یافته: ۵   ناشناس | | ۱۴:۱۵ - ۱۳۹۷/۱۰/۰۳ 0 1 پاسخ    فرد دیگری نقش اپوزیسیون را به خود می گیرد و با نامه پراکنی های مستمر و قلدر مأبانه، پیشنهاد قلع و قمع رؤسای هر سه قوه و حذف شورای نگهبان، به رهبری می دهد و خواستار انتخابات زود هنگام برای مجلس و ریاست جمهوری می شود....... نویسنده محترم مقاله معتقد هستند که گویان این قوا دارند کار خویش را به نحو احسن انجام می دهند. نمی دانم حرف شما را قبول کنم یا سخنان وکیلی نماینده مجلس را که می گوید آستانه تحمل مردم پایین آمده است       ناشناس | | ۱۴:۱۸ - ۱۳۹۷/۱۰/۰۳ 0 0 پاسخ    خوب است بدانید، در طول 300 سال تاریخ آمریکا هیچ یک از 40 رئیس جمهوراین کشور (به جز یک نفرشان که در دوره دوم رأی نیاورده بود) دوباره به قدرت برنگشته و هیچ تلاشی هم برای بازگشت نکرده اند. .... البته یکی شان به مدت 4 دوره در قدرت بود که بعد از مرگ اش گنگره با اصلاح قانون اساسی حداکثر مدت مأموریت رئیس جمهوری را دو دوره تعیین کرد       شکیبا | |
 http://www.598.ir/fa/news/450376/%DA%86%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D8%BA%D9%84%D8%A8-%D8%B1%D8%A4%D8%B3%D8%A7%DB%8C-%D8%AC%D9%85%D9%87%D9%88%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7-%D9%85%DB%8C-%DA%A9%D9%86%D9%86%D8%AF