ولایت فقیہ از دیدگاہ مذاہب اربعہ
اس گمان کی وجہ یہ ہے ولایت فقیہ کو امام زمان کی غیبت کا منطقی نتیجہ سمجھا گیا ہے اور امام زمان کی غیبت کا اعتماد دوسرے مذاہب میں نہیں ہے پس ولایت فقیہ کا نظریہ بھی نہیں ہے ۔
اگرچہ حضرت مہدی ع کے آخر الزمان میں وجود تمام اسلامی مذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے اور پھر اس سے بڑھ کر منجی موعود کا عقیدہ تو نہ صرف اسلامی مذاہب میں مسلم و قطعی ہے بلکہ کئی غیر اسلامی ادیان جیسے یہودیت و عیسائیت وغیرہ حتی غیر الہی ادیان یعنی انسانی مکاتب جیسے مارکسزم میں بھی منجی بشریت کا تصور و عقیدہ پایا جاتا ہے ۔
ولایت فقیہ کو تشیع اور امام زمانہ کی غیبت کے ساتھ خاص کر دینے کی وجہ سے اس نظریے کی نفی و انکار ہوا ہے اور اس کے بارے میں ہر فقیہ و مجتہد کی ذاتی و اجتہادی فکر و رائے کہہ دیا جاتا ہے اور فطری بات ہے جب کوئی نظریہ مخلتف آراء و نظریات کے مقابلے میں دیکھا جائے تو خواہ اس کے مضبوط اور مستحکم دلائل ہی کیوں نہ ہوں اس سے چشم پوشی کر دی جاتی ہے اور دیگر افکار و نظریات کی وجہ سے کمزور اور ضعیف گمان کر لیا جاتا ہے ۔
پس اس قسم کے سوالات و ابہامات کو حل کرنا چاہیے کہ کیا ولایت فقیہ کا نظریہ صرف شیعہ فقہاء کا نظریہ ہے ؟
کیا ولایت فقیہ غیبت امام زمانہ کا لازمہ ہے ؟
تاریخچہ ولایت فقیہ
ولایت فقیہ دو الفاظ "ولایت" اور "فقیہ" سے مرکب اصطلاح ہے ۔ یہ اصطلاح اسی ترکیب کے ساتھ قرآن و شیعہ و سنی روایات میں موجود نہیں ہے ۔ اس اصطلاح کو شیعہ سنی فقہاء نے قرآن و روایات کے مضامین اور روح سے نکالا ہے ۔ قدیمی ترین منبع و ماخذ جس میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے وہ چوتھی ہجری میں امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم ہے ۔ انہوں نے علم فقہ ، اخلاق اور دیگر اسلامی معارف کے باہمی مقائسے سے علم فقہ میں یہ اظہار کیا ہے کہ فقہ اسلامی معاشرے کو چلانے کیلیے ہے اور انسان کے ظاہری اعمال کی طرف متوجہ ہے اور اسی ظاہری بناء پر صحت و بطلان کا حکم لگاتی ہے اور نیت و دل کے بارے میں حکم نہیں لگاتی ۔ اما القلب فخارج عن ولایة الفقيه .
امام غزالی اس کتاب کی ابتداء میں اشارہ کرتے ہیں کہ لوگ چونکہ اپنے حقوق پر قانع نہیں رہتے اور دوسروں کے حقوق کی طرف تجاوز کرتے ہیں تو حتمن ایک حکومت ہونی چاہیے اور یہاں سے حکومت کی ضرورت اور اہمیت پر استدلال کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ حکومت کو قانون کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ قانون جس پر حکومت استوار ہونی چاہیے وہ شریعت ہے اور پھر کہتے ہیں کہ جو بھی عوام پر حکومت کر رہا ہوں اگر وہ خود عالم وفقیہ ہو تو اسے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں لیکن اگر وہ خود عالم و فقیہ نہیں ہے تو اسے رہنمائی کی ضرورت ہے کہ اس کا رہنما اور معلم فقیہ ہے معلوم ہوا کہ امام غزالی کی نظر میں حکومت ایک فقیہ کی زیر نگرانی اور اس کے ارشادات و تعلیمات کے مطابق چلنی چاہیے فقیہ کے تحت حکومت میں رہنے والے تمام افراد اس کی حکومت کی کوئی مجریہ ہیں اور اس کے فرامین کو اجراء کرنے والے ہیں بتعبیر دیگر حکومتی عملہ ہیں اور وہ کہ جو مرجع و صاحب ولایت ہے وہی فقیہ ہے
ایک مسلمان اور مومن کا غیر مسلم کے ساتھ فرق یہی ہے کہ مسلمان اس عقیدے کے ساتھ عمل انجام دیتا ہے کہ یہ شرعا جائز ہے یعنی ایک مسلمان فرد اس عمل کو انجام دینا شری حوالے سے اپنے لیے جائز سمجھتا ہے اور اگر کسی کام کو انجام نہیں دیتا تو صرف انجام نہ دینا شریعت کی طرف سے کافی نہیں سمجھا جائے گا بل بلکہ شعر مقدس کی نہیں کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے یعنی چونکہ شارع نے اسے منع کیا ہے اس لئے وہ یہ کام نہیں کر رہا ۔ اللہ تعالی نے مومن کو جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو خدا کے دستور کی اطاعت اور جن چیزوں سے منع کیا اور روکا ہے ان سے خدا کے ممنوع اور نہیں شدہ امور سے دور رہنے کے عنوان سے باز رہنا ضروری ہے
کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی شرعی اجازت کو ایک مسلمان کا شرعی اختیار اور سلطہ کہا جاتا ہے
اس شرعی اختیار واہ سلطاں کو جو مسلمان کو کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے پر حاصل ہوتا ہے اسلامی مذاہب کی فقہی اصطلاح میں اسے ولایت کہتے ہیں کتاب الھدایہ والاختیار میں پڑھتے ہیں اس عبارت میں جیسا کہ واضح اور صریح کہا گیا ہے کہ اپنے نفس کو تصرف میں لانا ولایت پر موقوف ہے اسی لئے فقہاء نے کہا ہے کہ کسی بھی نظام اور مسئلہ میں طرفین خود پر ولایت رکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص سے ثالث کو اپنے لئے حاکم اور منصف قرار دیں جو ان کے درمیان اختلافی موضوع کو حل کرے بالغ و عاقل انسان کا خود پر ولایت رکھنا اسلامی فقہ کی ضروریات وی مسلمات میں سے ہے اس لئے کہ اگر کوئی اپنے نفس پر ولایت نہ رکھتا ہو تو کوئی معاہدہ و قرارداد انجام نہیں دے سکتا اور وہ نہ اجیر بن سکتا ہے اور نہ مستاجر اور اپنے اموال بھی نہیں بیچ سکتا نیز اپنے مال کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دے سکتا اور نہیں صدقہ دے سکتا ہے اور نہ ہی وقف کر سکتا ہے
جس طرح کے ہجر و افلاس اور نکاح کے باب میں ماجورین اور وہ لوگ کہ جن کو اپنے اموال پر تصرف کا حق نہیں ہے ان کے اولیاء و سرپرست معین کئے ہیں درحقیقت ان کے سرپرستوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کی ذات و انواع کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں بنابریں مرغینانی حنفی نے کہا ہے ۔۔۔۔ اپنے مال کا جائز اور شرعی استعمال اس وقت ہوگا جب صاحب مال بالغ و عاقل ہو نے کے ساتھ ساتھ ورشکستہ نہ ہو چکا ہوں اور اپنے نفسوں مال پر کو زیر استعمال لانے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو اس صورت میں اس کا استعمال شری ولایت کی اساس پر مشتمل ہوگا اور اس ولایت کے مطابق عمل کرنا واجب ہوگا چونکہ شرعی ولایت کی بنا پر استعمال پر اثر مترتب کرنا ضروری ہوتا ہے تمرتاشی اور حصکفی حنفی نے کہا جب بھی کسی مسئلے میں دو طرف ایک شخص کو ثالث اور حاکم قرار دیتے ہیں اور وہ حاکم ان کے درمیان فیصلہ کرے اور حکم دے تو اس حکم کو قبول کرنا ان دونوں کے لئے لازمی ہوگا اگر وہ دو طرف اس تلاوت اور فیصلے کو انکار کردیں تو وہ حکم اور فیصلہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ وہ حکم شرعی ولایت رکھنے والے سے صادر ہوا تھا شربینی شافعی نے بھی کہا ہے قاضی و حاکم کا حکم اس وقت تک نافذ و قابل عمل نہیں ہو گا جب تک طرفین اس قاضی کی قضاوت پر راضی نہ ہوں اس لیے کہ کسی مسئلے والنظام کے طرفین کا راضی ہونا قاضی کی ولایت ایجاد کرتا ہے پس قضاوت اور فیصلہ کرنے سے پہلے طرفین کا قاضی کی ولایت پر
راضی ہونا ضروری ہے اور جب کسی شخص کو قاضی فیصلہ کرنے والا معین کر دیا گیا ہو اور وہ حکم صادر کردے تو اس کے حکم و فیصلے سے انکار اور سرپیچی نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ اس کے حکم کو قبول کرنا شریف ولایت کی اساس پر واجب ہے اسلامی مذاہب کے علماء و فقہاء اس بات کے قائل ہیں شرعی ولایت کے دائرے کے اندر تصرف جائز اور مشروع ہیں ولایت شرعیہ کے دائرے سے باہر تصرف جائز نہیں ہوگا اس لئے عبدالکریم زیدان نے قاضی کے حکم کا انکار کرنے کے بارے میں کہا ہے ایسا قاضی جسے اسلامی حکومت نے معین کیا ہو اسے اصطلاحات قاضیاں مسلمین کہا جاتا ہوں اگر جج کے حکم کو نظرثانی کرنے کے لئے قاضی مسلمین کو دیا جائے اور وہ اس حکم کو اجتہادی جہاد سے اپنی نذر کے مخالف قرار دے اور وہ جو اس کے نزدیک حق ہے تو جج کے اس حکم کی مخالفت جائز ہے قاضیاں مسلمین کے حکم کے ذریعے جج کے حکم کی مخالفت کے جواز کی دلیل یہ ہے کہ قاضی مسلمین کو ان تمام ججوں پر ولایت حاصل ہے جن کو کسی مسئلے بننزا کہ طرفین نے چنا ہو جیسا کہ انہیں ججوں کو دیگر جھگڑوں کے طرفین پر کوئی ولایت حاصل نہیں ھوتی اس کلام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قاضی مسلمین جس چیز کو استعمال میں لانا اور جج کے حکم کو منسوخ کرنے کو ولایت سے گردانہ گیا ہے جس طرح کے ایک جج کی کسی مسئلے میں قضاوت کے حق کو ولایت کہا گیا ہے اور اسی ولایت کی اساس پر وہ جنج حکم صادر کرتا ہے جس کی وجہ سے طرفین اس حکم کی مخالفت نہیں کر سکتے اگر اس حکم پر راضی نہیں ہیں تو اس کا زئی کے پاس جائیں جو اس جج پر ولایت رکھتا
اور وہ شخص وہی قاضیاں مسلمین جو اسلامی حکومت کی طرف سے منسوب ہے۔
ایک کیس حل کرنے والا قاضی اور جاز دوسرے کیس پر ولایت نہیں رکھتا اس بارے میں عبداللہ مسلم لکھتا ہے جب بھی غیر عمدی قتل میں مقتول کے وارث اور قاتل کسی ایک شخص کو قاضی قرار دیتے ہیں
اسی طرح اگر بیچنے والا اور خریدار کسی شخص کو قاضی بناتے ہیں اور وہ قاضی خریدے ہوئے مال کے عیب دار ہونے کی وجہ سے اسے بیچنے والے کو دے دے تو بیچنے والا اس معیوب کو سابقہ بیچنے والے کو نہیں دے سکتا کیونکہ اس سابقہ بیچنے والے پر قاضی ولایت نہیں رکھتا
اسلام کے تمام فقہی مسالک کے علما ہر قسم کے تصرف و استعمال کو ولایت پر موقوف سمجھتے ہیں اس حصے میں اسلامی فقہ کے ممے ممتاز علماء کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں جس میں انہوں نے ولایت کو سراہتا بیان کیا ہے تاکہ ہرقسم کے دخل وتصرف کے شریف ولایت پر متوقع ہونے پر تاکید ہوجائے اور شرعی ولایت کا یہ ہمارا نظریہ وام دعا کہ امت مسلمہ پر ایک فقیہ کو ولایت حاصل ہے قابل قبول ہوجائے
مرتہن یعنی راہ لینے والا رحم کو استعمال نہیں کرسکتا اس لیے کہ اسے صرف اور صرف راہن قبضے میں رکھنے کی ولایت حاصل ہے اس کے علاوہ کسی اور عمل میں اسے کوئی ولایت حاصل نہیں
ایک اور مورد مرغینانی کا ہے مولا مالک اپنے غلام پر امام کی اجازت کے بغیر کوئی حد جاری نہیں کرسکتا
سرخسی اس روایت کے ذیل میں کہتا ہے
حدود کو نافذ کرنے کا حق امام مسلمین کو ہے چونکہ وہ شرعی ولایت رکھتا ہے ۔ کوئی بھی اس الہی حق میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہے حدود نافذ کرنا یعنی ٹیکس جزیہ صدقہ زکات وصول کرنا غیر امام کا کام نہیں یہ الہی حق ہے اور جو خدا کا نائب ہوگا وہی اس حق کو انجام دے سکتا ہے اور نیابت و جانشینی خدا و شریعت کی طرف سے امام مسلمین کے ساتھ مختص ہیں ۔
نووی المنہاج میں کہتے ہیں شرعی عدالت میں زانی کا جرم ثابت ہونے کے بعد امام اعظم یا اس کا نائب ان پر حد جاری کریں گے یعنی خواہ آزاد ہو یا غلام مبعض غلام بعض اسے کہتے ہیں جو آدھا غلام اور ادا آزاد ہو خطیب شربینی نے نوی کی کلام کی دلیل اس طرح بیان کی ہے چون کہ حد و سزا ہر فرد مجرم پر لاگو ہوتی ہے اور غلام مبعض جو اپنی آدھی قیمت کی ادائیگی کے سبب
بن عابدین تمرتاشی اور حصکفی کی کلام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ولایت کے علاوہ قصاص بھی انجام نہیں دیا جاسکتا یعنی وہ شخص جو ولایت رکھتا ہے وہ قصاص لینے کا حق رکھتا ہے اور وہی قصاص آدم کشی اور قتل و غارت کو روک سکتا ہے جو ولایت پر مبنی ہو
موصلی قاضی کی ولایت کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں قاضی کو تمام عقود و معاملات میں انشاء و فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ۔
معلوم ہوا کہ عام افراد کو اس قسم کا حق نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے جان و مال میں دخل وتصرف کریں کیونکہ وہ ایک دوسرے پر ولایت نہیں رکھتے البتہ عام افراد وکالت کے عنوان سے
امام غزالی نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں مہم یہ ہے کہ وہ زمانہ جس میں امام غزالی ہی رہے تھے اور اس میں معاشرے کو ادارہ کرنے کا ویلای اور ولایت محور نظریہ باقاعدہ طور پر رائج تھا ولایت فقیہ کی تعبیر اس زمانے کے علماء اور دانشوروں کے لیے جانی پہچانی تھی کہ غزالی نے اس سے ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کیا
اس نے کسی قسم کی اجنبی تو تازگی محسوس نہیں کی گئی وگرنہ اہل علم و دانش کے لیے سوال برنگے ہوتا اور یقینا امام غزالی کے چاہنے والے اور ان کے آثار کا مطالعہ کرنے والے ان سے سوال کرتے اور وضاحت طلب کرتے جب کہ اس زمانے میں ان کی گفتگو میں نقد و تنقید کا پہلو موجود تھا پھر بھی کسی نے اس مسئلہ پر وضاحت طلب نہیں کی البتہ امام غزالی کے جملات میں اخلاق سے غفلت اور فکر کی طرف افراطی نگاہ محسوس ہو رہی ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ کا دارومدار صرف ظاہری اعمال ہیں انسان کے باطن سے کوئی دخل نہیں مگر ہمارا مقصد یہاں ان کے اس پہلو پر نقد و تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کے درپے ہیں کہ نظریہ و تفکر ولایت فقیہ اس زمانے میں کوئی اجنبی اور اچنبھے کی بات نہیں
یک مسلمان اور مومن کا غیر مسلم کے ساتھ فرق یہی ہے کہ مسلمان اس عقیدے کے ساتھ عمل انجام دیتا ہے کہ یہ شران جائز ہے یعنی ایک مسلمان فرد اس عمل کو انجام دینا شری حوالے سے اپنے لیے جائز سمجھتا ہے اور اگر کسی کام کو انجام نہیں دیتا تو صرف انجام نہ دینا شریعت کی طرف سے کافی نہیں سمجھا جائے گا بل بلکہ شعر مقدس کی نہیں کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے یعنی چونکہ شارع نے اسے منع کیا ہے اس لئے وہ یہ کام نہیں کر رہا ۔ اللہ تعالی نے مومن کو جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو خدا کے دستور کی اطاعت اور جن چیزوں سے منع کیا اور روکا ہے ان سے خدا کے ممنوع اور نہیں شدہ امور سے دور رہنے کے عنوان سے باز رہنا ضروری ہے
کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی شرعی اجازت کو ایک مسلمان کا شرعی اختیار اور سلطہ کہا جاتا ہے
اس شرعی اختیار واہ سلطاں کو جو مسلمان کو کسی کام کے انجام دینے یا ترک کرنے پر حاصل ہوتا ہے اسلامی مذاہب کی فقہی اصطلاح میں اسے ولایت کہتے ہیں کتاب الھدایہ والاختیار میں پڑھتے ہیں اس عبارت میں جیسا کہ واضح اور صریح کہا گیا ہے کہ اپنے نفس کو تصرف میں لانا ولایت پر موقوف ہے اسی لئے فقہاء نے کہا ہے کہ کسی بھی نظام اور مسئلہ میں طرفین خود پر ولایت رکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص سے ثالث کو اپنے لئے حاکم اور منصف قرار دیں جو ان کے درمیان اختلافی موضوع کو حل کرے بالغ و عاقل انسان کا خود پر ولایت رکھنا اسلامی فقہ کی ضروریات وی مسلمات میں سے ہے اس لئے کہ اگر کوئی اپنے نفس پر ولایت نہ رکھتا ہو تو کوئی معاہدہ و قرارداد انجام نہیں دے سکتا اور وہ نہ اجیر بن سکتا ہے اور نہ مستاجر اور اپنے اموال بھی نہیں بیچ سکتا نیز اپنے مال کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دے سکتا اور نہیں صدقہ دے سکتا ہے اور نہ ہی وقف کر سکتاہے
جس طرح کے ہجر و افلاس اور نکاح کے باب میں ماجورین اور وہ لوگ کہ جن کو اپنے اموال پر تصرف کا حق نہیں ہے ان کے اولیاء و سرپرست معین کئے ہیں درحقیقت ان کے سرپرستوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کی ذات و انواع کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں بنابریں مرغینانی حنفی نے کہا ہے ۔۔۔۔ اپنے مال کا جائز اور شرعی استعمال اس وقت ہوگا جب صاحب مال بالغ و عاقل ہو نے کے ساتھ ساتھ ورشکستہ نہ ہو چکا ہوں اور اپنے نفسوں مال پر کو زیر استعمال لانے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو اس صورت میں اس کا استعمال شری ولایت کی اساس پر مشتمل ہوگا اور اس ولایت کے مطابق عمل کرنا واجب ہوگا چونکہ شرعی ولایت کی بنا پر استعمال پر اثر مترتب کرنا ضروری ہوتا ہے تمرتاشی اور حصکفی حنفی نے کہا جب بھی کسی مسئلے میں دو طرف ایک شخص کو ثالث اور حاکم قرار دیتے ہیں اور وہ حاکم ان کے درمیان فیصلہ کرے اور حکم دے تو اس حکم کو قبول کرنا ان دونوں کے لئے لازمی ہوگا اگر وہ دو طرف اس تلاوت اور فیصلے کو انکار کردیں تو وہ حکم اور فیصلہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ وہ حکم شرعی ولایت رکھنے والے سے صادر ہوا تھا شربینی شافعی نے بھی کہا ہے قاضی و حاکم کا حکم اس وقت تک نافذ و قابل عمل نہیں ہو گا جب تک طرفین اس قاضی کی قضاوت پر راضی نہ ہوں اس لیے کہ کسی مسئلے والنظام کے طرفین کا راضی ہونا قاضی کی ولایت ایجاد کرتا ہے پس قضاوت اور فیصلہ کرنے سے پہلے طرفین کا قاضی کی ولایت پر
راضی ہونا ضروری ہے اور جب کسی شخص کو قاضی فیصلہ کرنے والا معین کر دیا گیا ہو اور وہ حکم صادر کردے تو اس کے حکم و فیصلے سے انکار اور سرپیچی نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ اس کے حکم کو قبول کرنا شریف ولایت کی اساس پر واجب ہے اسلامی مذاہب کے علماء و فقہاء اس بات کے قائل ہیں شرعی ولایت کے دائرے کے اندر تصرف جائز اور مشروع ہیں ولایت شرعیہ کے دائرے سے باہر تصرف جائز نہیں ہوگا اس لئے عبدالکریم زیدان نے قاضی کے حکم کا انکار کرنے کے بارے میں کہا ہے ایسا قاضی جسے اسلامی حکومت نے معین کیا ہو اسے اصطلاحات قاضیاں مسلمین کہا جاتا ہوں اگر جج کے حکم کو نظرثانی کرنے کے لئے قاضی مسلمین کو دیا جائے اور وہ اس حکم کو اجتہادی جہاد سے اپنی نذر کے مخالف قرار دے اور وہ جو اس کے نزدیک حق ہے تو جج کے اس حکم کی مخالفت جائز ہے قاضیاں مسلمین کے حکم کے ذریعے جج کے حکم کی مخالفت کے جواز کی دلیل یہ ہے کہ قاضی مسلمین کو ان تمام ججوں پر ولایت حاصل ہے جن کو کسی مسئلے بننزا کہ طرفین نے چنا ہو جیسا کہ انہیں ججوں کو دیگر جھگڑوں کے طرفین پر کوئی ولایت حاصل نہیں ھوتی اس کلام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قاضی مسلمین جس چیز کو استعمال میں لانا اور جج کے حکم کو منسوخ کرنے کو ولایت سے گردانہ گیا ہے جس طرح کے ایک جج کی کسی مسئلے میں قضاوت کے حق کو ولایت کہا گیا ہے اور اسی ولایت کی اساس پر وہ جنج حکم صادر کرتا ہے جس کی وجہ سے طرفین اس حکم کی مخالفت نہیں کر سکتے اگر اس حکم پر راضی نہیں ہیں تو اس کا زئی کے پاس جائیں جو اس جج پر ولایت رکھتا ہوں
اور وہ شخص وہی قاضیاں مسلمین جو اسلامی حکومت کی طرف سے منسوب ہے۔
ایک کیس حل کرنے والا قاضی اور جاز دوسرے کیس پر ولایت نہیں رکھتا اس بارے میں عبداللہ مسلم لکھتا ہے جب بھی غیر عمدی قتل میں مقتول کے وارث اور قاتل کسی ایک شخص کو قاضی قرار دیتے ہیں
اسی طرح اگر بیچنے والا اور خریدار کسی شخص کو قاضی بناتے ہیں اور وہ قاضی خریدے ہوئے مال کے عیب دار ہونے کی وجہ سے اسے بیچنے والے کو دے دے تو بیچنے والا اس معیوب کو سابقہ بیچنے والے کو نہیں دے سکتا کیونکہ اس سابقہ بیچنے والے پر قاضی ولایت نہیں رکھتا
اسلام کے تمام فقہی مسالک کے علما ہر قسم کے تصرف و استعمال کو ولایت پر موقوف سمجھتے ہیں اس حصے میں اسلامی فقہ کے ممے ممتاز علماء کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں جس میں انہوں نے ولایت کو سراہتا بیان کیا ہے تاکہ ہرقسم کے دخل وتصرف کے شریف ولایت پر متوقع ہونے پر تاکید ہوجائے اور شرعی ولایت کا یہ ہمارا نظریہ وام دعا کہ امت مسلمہ پر ایک فقیہ کو ولایت حاصل ہے قابل قبول ہوجائے
مرتہن یعنی راہ لینے والا رحم کو استعمال نہیں کرسکتا اس لیے کہ اسے صرف اور صرف راہن قبضے میں رکھنے کی ولایت حاصل ہے اس کے علاوہ کسی اور عمل میں اسے کوئی ولایت حاصل نہیں
ایک اور مورد مرغینانی کا ہے مولا مالک اپنے غلام پر امام کی اجازت کے بغیر کوئی حد جاری نہیں کرسکتا
سرخسی اس روایت کے ذیل میں کہتا ہے
حدود کو نافذ کرنے کا حق امام مسلمین کو ہے چونکہ وہ شرعی ولایت رکھتا ہے ۔ کوئی بھی اس الہی حق میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہے حدود نافذ کرنا یعنی ٹیکس جزیہ صدقہ زکات وصول کرنا غیر امام کا کام نہیں یہ الہی حق ہے اور جو خدا کا نائب ہوگا وہی اس حق کو انجام دے سکتا ہے اور نیابت و جانشینی خدا و شریعت کی طرف سے امام مسلمین کے ساتھ مختص ہیں ۔
نووی المنہاج میں کہتے ہیں شرعی عدالت میں زانی کا جرم ثابت ہونے کے بعد امام اعظم یا اس کا نائب ان پر حد جاری کریں گے یعنی خواہ آزاد ہو یا غلام مبعض غلام بعض اسے کہتے ہیں جو آدھا غلام اور ادا آزاد ہو ۔
بن عابدین تمرتاشی اور حصکفی کی کلام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ولایت کے علاوہ قصاص بھی انجام نہیں دیا جاسکتا یعنی وہ شخص جو ولایت رکھتا ہے وہ قصاص لینے کا حق رکھتا ہے اور وہی قصاص آدم کشی اور قتل و غارت کو روک سکتا ہے جو ولایت پر مبنی ہو
موصلی قاضی کی ولایت کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں قاضی کو تمام عقود و معاملات میں انشاء و فسخ کرنے کا حق حاصل ہے ۔
معلوم ہوا کہ عام افراد کو اس قسم کا حق نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے جان و مال میں دخل وتصرف کریں کیونکہ وہ ایک دوسرے پر ولایت نہیں رکھتے البتہ عام افراد وکالت کے عنوان سے
ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کر سکتے ہیں ایک اور مثال ان مسلمانوں کے بارے میں ہے جو طاغوتی حکومت یا بلاد خوف میں رہ رہے ہیں وہاں اگر کوئی مسلمان گناہ کا مرتکب ہو تو اس بارے میں فقہاء علمائے اسلام کے درمیان اختلاف ہے حنفی فقہاء کہتے ہیں کیونکہ اس نے ایسے علاقے میں گناہ کیا جس تک امام مسلمین کی رسائی نہیں ہے اور وہ علاقے امام المسلمین کی ولایت کی قلمرو سے باہر ہیں پس اس گناہ گار پر ہاتھ جاری نہیں ہو گی لیکن اگر وہی مسلمان ایسے علاقے میں گناہ کرتا ہے جہاں امام المسلمین کو ولایت حاصل ہوتی ہے تو گناہ گار پر ہر دو مجازات جاری ہوں گے
پس دوسروں کے امور میں کسی قسم کی مداخلت وتصرف شریف الہی ولایت پر موقوف ہے اس مطلب کے اثبات کے لئے اتنی ہی موارد پر اکتفا کرتے ہیں انہیں موارد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام فقہی مذاہب نے لوگوں کے جان و مال میں تصرف کے جواز کو صاحب ولایت کے لئے مختص کیا ہے ۔
عمومی اور خصوصی امور میں ولایت : ۔
اسلامی فقہ میں ولایت کا اجرا و نفاذ اور شرعی حق تصرف کی دو اقسام ہیں
کبھی ایک شخص اپنے یا اپنے اموال کے بارے میں ولایت جاری کرتا ہے جیسا کہ کسی اختلاف کے طرف این اپنے اختلاف کے حل کے لئے ایک شخص سے ثالث کو منصف بنالیتے ہیں یا کوئی شخص اپنے مال کو وقف کرتا ہے بیچتا ہے یا کرایہ پہ دیتا ہے یا اپنا غلام آزاد کرتا ہے اس قسم کے تمام ذاتی استعمالات کو شخصی اور خصوصی امور میں ولایت کہا جاتا ہے
لیکن کبھی اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے افراد پر یا چند کاموں کے بارے میں ولایت نافذ کی جاتی ہے جس کا تعلق اسلامی معاشرے اور تمام مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے اس قسم کی ولایت کو عمومی ولایت کا نام دیا جاتا ہے اس تقسیم کو بھی کئی علماء نے بیان کیا ہے اپنی فقہ کی کتب میں عبداللہ موصلی حنفی مذہب کہتے ہیں اگر کسی کو کوئی گمشدہ بچہ ملتا ہے اس کو پڑھنے پڑھانے سے کھانے کے لیے کسی کارگاہ و کارخانے میں بھیجا جاسکتا ہے لیکن اس کی شادی نہیں کرائی جاسکتی اور اس مطلب پر اس طرح استدلال کیا ہے اس لئے کہ جس شخص کو یہ بچہ ملا ہے اس شخص کو اس بچے پر کوئی ولایت حاصل نہیں شادی کرانا خریدوفروخت کی ولایت والد کے بعد صرف امام کو حاصل ہے کیونکہ امام کی عمومی ولایت ہے یعنی جس سے بچہ ملتا ہے اسے اتنی ہی ولایت حاصل ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اور اس کی صحیح تعلیم و تربیت کے لئے اقدام کریں اور اسے کوئی ہنر و فن سکھانے کے لیے کسی ماہر کے پاس لے جائیں لیکن اس کی شادی کے لیے ولایت نہیں رکھتا بلکہ اس کی ازدواج اور نابالغ بچے کے مال کی خریدوفروخت کا حق فقط اور فقط حاکم اور امام مسلمین کو حاصل ہے اس لئے کہ امام و رہبر کی حاکمیت عمومی اور وسیع تر ہیں اور تمام موارد کو شامل ہے پس امام مسلمین ایسے بچے کی شادی بھی کرا سکتا ہے اور بیت المال سے اس کا مہر بھی ادا کرسکتا ہے
یحییٰ نووی شافعی مذہب ہے وہ کہتے ہیں کہ جس شخص کو بچہ
حمبلی کہتے ہیں کہ اگر گمشدہ بچے کے پاس کوئی مال نہ ہو تو حاکم پر واجب ہے کہ اس کا خرچہ بیت المال سے ادا کرے جس طرح دیگر فقراء کا خرچہ حاکم پر واجب ہوتا ہے حنفی فیک میں یہ صراحت کی گئی ہے انا ولایة القاضی عامة . یعنی قاضی کی ولایت وسیع و عام تر ہے
شوکانی ایک سلفی رجحان رکھنے والے عالم ہیں وہ امام مسلمین کی شرط سلامت ہو اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں انا المقصودہ بال ولایت علامت ہو تدبیر امور ناس یعنی ولایت عامہ سے مراد لوگوں کے عمومی و خصوصی امور کو تدبیر و ادارہ کرنا ہے اور تمام امور کو ان کے اصلی مقام سے چلانا اور ہر چیز کو اس کی اپنی حیثیت ومنزلت دینا یہ سب کام ایسے شخص سے ممکن نہیں ہیں جس کے حواس سالم نہ ہوں اور اگر ہو اس میں کوئی خلل ہو تو یہ حاکم امور مسلمین کی کی بے تدبیری پر منتہی ہو گا
مندرجہ بالا تمام موارد ولایت عام خاص کے ہیں اور یہ تقسیم اسلامی فقہ کی مسلمات میں سے ہے
البتہ فقہی ابحاث میں ایک اور اصطلاح بھی ولایت عام اور ولایت خاص کی موجود ہے یہاں ولایت خاص سے مراد بعض خاص اور معین افراد کی کئی امور میں ولایت ہے ولایت عام سے مراد ولی خاص کے نہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں میں سے کچھ غیر معین افراد کا صاحب ولایت ہونا ہے ۔
معاشرے کے امور میں ولی امر کی ضرورت
ولی امر مالکی فقہ میں امام مسلمین کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
ابن عابدین مقاصد تفتازانی سے امامت کبریٰ کی تعریف نقل کرتے ہیں امامت کبری نبی اکرم کی نیابت میں دین اور دنیا کے امور کو چلانا ہے اور ریاست کی تحقیقی تفسیر حقیقت صرف کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسی وجہ سے حصکفی نے امام اعظم اور ولی امر کو لوگوں کی خصوصی وہ عمومی مسائل میں مداخلت کا حق دار قرار دیا ہے اور اسے امام کا سب سے بڑا حق گردانہ ہے
جب لوگوں کی عمومی اور خصوصی مسائل کو حل کرنے اور ان میں دخل وتصرف کرنے کو کو ایک حق کا عنوان دیا گیا ہے تو اس حق کے مقابل میں ایک فریضہ بھی تصوف عام کے عنوان سے عید ہوتا ہے یعنی تصوف عام شری افراد میں سے ایک فعل ہے کہ اسلامی معاشرے میں مکلف اسے شریف ریزے کے عنوان سے اپنے ذمہ لے اور انجام دے کسی فریضے کو ترک کرنا ایک بہت بڑی آفت و مصیبت ہے خصوصا امت کے امور کی ذمہ داری جیسے فریضے میں کوتاہی ہو تو تمام امت بڑی آفت اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوگئی شربینی نے اسے واجب کفائی قرار دیا
کہ اس فریضے کا ترک تمام امت کے گناہ گار ہونے کا موجب بنے گا اور تمام مسلمان معصیت کبیرہ میں مبتلا ہوں گے
و ھی کالقضاء ۔۔۔۔ ولایت عمل اور امامت امت کا فریضہ قضاوت کی طرح واجب کفائی ہے اس لئے کہ امت کے لئے ایک امام کا ہونا ضروری ہے دین کو قائم کرے اور سنت کی مدد و نصرت کرے اور مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلوائیں نیز تمام حقوق کو فرائض انجام دلوائے
ماوردی شافعی اور ابویعلیٰ حنبلی اسلامی امت کیلئے امام کا منصوب ہونا واجب جانتے ہیں مزید برآن ابویعلیٰ احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں ال الفتنہ ۔۔۔۔ یعنی فتنہ معاشرے میں اس وقت رونما ہوتا ہے جب معاشرے میں کوئی امام نہ ہو جو لوگوں کے امور چلائے اور ان کے لئے قیام کریں ہنس کافی حنفی نے بھی کہا ہے و نصبہ اہم ۔۔۔۔ امام کا نصب کرنا اہم میں واجبات میں سے ہے ابن عابدین حنفی اہم ترین واجبات کی دلیل کے بیان میں کہتے ہیں بہت سے شری واجبات امام پر موقوف ہیں کہ امام نے ان تمام واجبات کو احیاء و اقامہ کرنا ہے
[1/26, 5:45 PM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: ابن عابدین نے اپنی گفتگو کو نجم الدین ابو حفص حنفی کی کلام سے مستند کرتے ہوئے لکھا ہے مسلمانوں کے لئے ایک امام کا ہونا ضروری ہے جو اسلامی احکام کو نافذ کرے اور ان کی حدود کو قائم کریں گھر اور اسلامی سرزمین کی حفاظت اور دفاع کے لئے محافظ معین کرے فوج اور پولیس کو مجاہد کرے ٹیکس اور صدقات وصول کرے زور زبردستی کرنے والوں اور بغاوت کرنے والوں کو کنٹرول کرے اور معاشرے کا امن و سکون تباہ کرنے والے ڈاکوؤں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹے نماز جمعہ اور نماز عید فطر و قربان کے اجتماعات قائم کر آئے مسلمانوں کے درمیان مختلف اختلافات کو حل کرانے اور وہ کام کے جن کو معاشرے کے عام افراد انجام نہیں دے سکتے اپنی ولایت کے تحت ان کی انجام دہی کے لئے اقدام کریں بیت المال سے خرچے پر کے یتیم اور بے سرپرست بچوں کی زندگی کو سروسامان دے
اس جامع و کامل متن سمجھ آتا ہے کہ فقہ صرف نصیحت واحکام کا مجموعہ نہیں بلکہ جو انسان اپنی کامل سعادت اور خوشبختی چاہتا ہے وہ فک کو اپنائے اور اس پر عمل کرے ۔
[1/27, 8:31 AM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: اور یہ فقہ و شریعت کے احکام پر عمل انسان کو فضائل و کمالات اور کامیابی و رستگاری تک پہنچاتا ہے سکھ معاشرے کو چلانے کی دقیق برنامہ ریزی ہے امنیت اما اجتماعی نظام اور دنیا کا آرام و سکون معاشرے میں فقہ و شریعت کے دستورات کو لاگو کرنے میں ہے معاشرے کا بہترین نظم و نسق اور عادلانہ قیام جو کہ عام شہریوں کو خدا و شریعت کے حقوق اور اس کی اپنی صلاحیتوں پشاور استحقاق کے مطابق حقوق دلائیں یہ سب کچھ فکر کے ایک کامل اجرا میں مضمر ہے اگر فقہ صحیح امید اور مکمل طور پر اجرا کی جائے تو دنیا کے کسی فرد پر ظلم نہ ہوگا اور نہ ہی کسی کا حق ضائع ہوگا نہ ہی کوئی ناراض ہو گا سوائے حدیث سفر اور دوسروں کے جان و مال پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے تمام شہریوں کے حقوق بہترین طور پر ادا کیے جائیں گے یہ سارے کا سارا امام کے وجود کی برکت سے ہے جو معاشرے میں اللہ کے احکام کو نافذ کرتا ہے دین کو دنیا اور معاشرے میں نافذ کرتا ہے اگر دین الہی دستورات قائم کیے جائیں تو آخرت بھی سنور جائے گی آصف کا صرف اخلاق وعظ و نصیحت ہی نہیں ہے کے نیک صالح متعہد ذمہ دار با فضیلت
[1/27, 8:39 AM] بصیرت+استقامت= نظام ولایت: لوگ حاکم حکومت کی پہنچ سے دور خلوت و تنہائی میں بھی ان مواعظ و نصائح کے پابند ہوں گے بلکہ فقہ اس سے بڑھ کر کمال رکھتی ہے کہ فقط عمل کرنا کافی نہیں بلکہ شریعت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اعتقاد و ایمان بھی رکھنا ہے فقہ ایک ظاہری و سطحی نمودونمائش رکھنے والے خشک ریاکارانہ دستورات کا مجموعہ نہیں اور صرف چند حقوق کا مجموعہ بھی نہیں کہ جس کے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہو بلکہ سے دنیا کو عادلانہ اور آسان طریقے سے کمال اور سعادت مندی تک پہنچانے کا نظام و پروگرام
ولی امر کا مجتہد ہونا :
تفتازانی اہلسنت کے عظیم متکلم ہیں امامت کی سات شرائط لکھتے ہیں عدالت اجتہاد کی سطح کا علم سلامت ہو اس اذا تدبیر شجاعت
قاضی ابوبکر باقلانی نے اپنی کتاب تمہید الاوائل میں امام و رہبر کے لئے اجتہاد و صاحب نظر ہونا شرط قرار دیا ہے
ان موارد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہلسنت کے نزدیک شیخ علاقے میں اسلامی کے لئے اجتہاد و فقاہت شرط ہے تاکہ آزادانہ اور مستقل طور پر اسلامی دستورات کو اجراء کر سکے اور کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو وگرنہ اس حاکم کی قوت و طاقت قائم نہیں رہے گی
میاں واضح ہے کہ جو اہل سنت کے منابع میں حاکم اسلامی کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ شیعہ کے ہاں بیان شدہ خصوصیات کے یکساں ہیں اور ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اس لئے کہ شیعہ کا اعتقاد بھی یہی ہے کہ غیبت امام زمانہ میں اسلامی حکمران کو مجتہد و افقی اور رہبریت کی شرائط کا حامل ہونا چاہیے اگرچہ عمل میں ابھی تک اہلسنت ایسی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے
یا علی مدد