*بچے کی آرزو* 

میری تھی جو جگہ وہ یہ نہیں ہے
 صدف کہیں اور ہے گوہر کہیں ہے
 میں شاہین ہوں یہ کرگس کا جہاں ہے
 زمین ہے یہ فلک میرا نشان ہے
 مجھے ملوا دے ان سے یا الٰہی
 جو جا نے راہ و رسم کج کلاہی 
مجھے ماں عروة الوثقی میں جانا ہے
 مجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے

نشان منزل کا مجھ کو مل گیا ماں
 ہدف زندگی کا مجھ کو مل گیا ماں
 ضیا منزل کی جانب جس نے دی ہے
 وہ خود راہی بھی ہے خود راہ نشین ہے
 یزید وقت سے جو لڑ پڑا ہے 
مجھے وہ مرد مومن مل گیا ہے
 مجھے اس دیدہ ور سے فیض پانا ہے
مجھے ماں عروة الوثقی میں جانا ہے
 مجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے

ولایتِ کھو گئی ہے اہل دین سے
 اتر ٹکا گیا دل کی جبیں سے
 ہر اک جمھوریت کو جھک گیا ہے
 نظام حق زمین سے اٹھ گیا ہے
 سبق پڑھنا ہے پھر میں نے صداقت کا
 امامت کا عدالت کا شجاعت کا
مجھے مفہوم امامت کا بتانا ہے
مجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے

کہیں ایسا نہ ہو پھر کربلا ہو 
اکیلا دشت میں وہ پھر کھڑا ہو
 صدا جب ناصر و ینصرنا آئے
 مجھے لبیک ہی کہنا نہ آئے
 مجھے مرنے کا ڈھنگ توں ماں بتا دے
 مجھے مقتل میں خود جانا سکھا دے
 امام عصر کی نصرت میں جانا ہے
 مجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے

علم عباس کا ہو ہر مقام پر
 ہو اللّٰہ احد ہو ہر زبان پر
 جلے ایک بار پھر کوہ طور موسی
 کرے روشن جہاں پھر نور عیسی
 حرم سے جم کے پھر شمشیر حیدر
 زمانہ دیکھے پھر عمار و ابوذر 
 مجھے اس کے لیے میدان بنانا ہے
 مجھے ماں عروة الوثقی میں جانا ہے
 مجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے


 *ماں کا جواب* 

تجھے ہاں عروہ الوثقی میں جانا ہے
 تجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے 
تیری حسرت میری امید گاہ ہے
 یہی حوزہ تیری اصلی جگہ ہے
 غدیر خم کی تو تفسیر بن جا
 ولی امر کی تصویر بن جا
 تو ہی تقدیر ملت کا ستارہ ہے
 تو ہی اقبال کی آہ کا اشارہ ہے 
تجھے ہاں عروہ الوثقی جاناہے
 تجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے 
میرے فرزند ہمیشہ یاد رکھنا
 خودی کو خود سے بھی آزاد رکھنا
 تڑپ روح میں یہی باقی سدا ہو

ولایت جسم میں خون کی طرح ہو
 ہوس سینے میں تیرے چھپ نہ پائے 
براہیمی نظر پیدا ہو جائے
 تجھے نمرود و آذر کو مٹانا ہے 
تجھے ہاں عروہ الوثقی جاناہے
 تجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے
 
اگر ہر ارض ارض کربلا ہے
 اگر ہر یوم یوم عاشورہ ہے
 تیری بھی ارض یہ پھر کربلا ہو
 تیرا بھی تو کوئی دن عاشورہ ہو
 ہے لازم توں بھی ایک کربل بپا کر
 تو بھی لبیک کا وعدہ وفا کر
 اٹھا کر سر اگر محشر میں جانا ہے 
تجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے

میرے عباس کر وعدہ یہ ماں سے
 کبھی نہ ٹوٹنا اس کاروان سے
 تجھے رزم شبیری یاد ہے نا 
تیرے دل میں شرر آباد ہے نا 
ببانگ دہل جا یہ بات کہہ دے
نظام وقت کو ھیھات کہہ دے
 جبین دین کو پھر سے سجانا ہے
تجھے پرچم ولایت کا اٹھانا ہے